تازہ ترین

ابولیث خان رمداسی: پیپلز پارٹی کا دیرینہ کارکن، خدمات کے اعتراف کا منتظر۔۔شہزاد احمد

اپر چترال میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ، مخلص اور نظریاتی کارکنوں کا ذکر ہو تو ابولیث خان رمداسی کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ وہ ان کارکنوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ پارٹی کے نظریے، منشور اور سیاسی جدوجہد کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

ابولیث خان رمداسی کا پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق محض سیاسی وابستگی تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک طویل نظریاتی سفر کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ ہوش سنبھالنے کے بعد سے پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں اور مشکل حالات میں بھی اپنی سیاسی وابستگی پر قائم رہے ہیں۔ مختلف فورمز پر پارٹی کے مؤقف کا دفاع کرنا اور اس کے نظریات کی ترجمانی کرنا ان کی سیاسی زندگی کا اہم حصہ رہا ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ابولیث خان رمداسی کی سیاسی شناخت پیپلز پارٹی سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ اپر چترال میں ان کی پہچان بھی پارٹی کے ایک وفادار اور سرگرم کارکن کی حیثیت سے قائم ہے۔ ان کے گھر پر پارٹی کا پرچم لہراتا رہنا ان کی سیاسی وابستگی اور نظریاتی استقامت کی علامت ہے۔

تاہم، ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا طویل عرصے تک پارٹی کے لیے خدمات انجام دینے والے ایسے کارکنوں کو وہ مقام اور ذمہ داری مل رہی ہے جس کے وہ مستحق ہیں؟ سیاسی جماعتوں کی مضبوطی صرف قیادت سے نہیں، بلکہ ان مخلص کارکنوں سے بھی ہوتی ہے جو برسوں تک بغیر کسی بڑے عہدے کے پارٹی کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔

موجودہ سیاسی صورتِ حال میں، جب خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے تناظر میں انتظامی اور سیاسی ذمہ داریوں کی نئی تقسیم زیرِ بحث ہے اور وفاقی سطح پر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) اتحادی حکومت کا حصہ ہیں، تو اپر چترال میں بھی سیاسی جماعتوں کے نمائندہ کردار کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔

گزشتہ روز لوئر چترال میں مسلم لیگ (ن) کے صدر عبدالولی خان کو حکومتی ترجمان مقرر کیے جانے کی اطلاعات کے بعد اپر چترال میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اس نوعیت کی ذمہ داری کے لیے موزوں شخصیت کے انتخاب پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

اس تناظر میں ابولیث خان رمداسی ایک قابلِ غور نام ہیں۔ ان کی طویل سیاسی وابستگی، پارٹی کے مؤقف سے واقفیت، سیاسی تجربہ اور کارکنوں کے ساتھ رابطہ انہیں اس ذمہ داری کے لیے ایک موزوں امیدوار بنا سکتے ہیں۔ عمر کے اس مرحلے پر ان کا تجربہ نہ صرف پارٹی کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ مقامی مسائل اور عوامی توقعات کو حکومتی سطح تک پہنچانے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

اگر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت ابولیث خان رمداسی کو یہ ذمہ داری سونپتی ہے تو یہ ان کی طویل سیاسی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ پارٹی کے ان نظریاتی کارکنوں کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہوگا جو برسوں سے خاموشی اور ثابت قدمی کے ساتھ جماعت کا ساتھ دے رہے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت ان کے مخلص کارکن ہوتے ہیں۔ ایسے کارکنوں کی خدمات کا اعتراف محض ایک عہدہ دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ اس اعتماد کی تجدید بھی ہے جس پر جماعتوں کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔ ابولیث خان رمداسی جیسے دیرینہ کارکنوں کو مناسب نمائندگی دینا پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے نہ صرف ایک سیاسی فیصلہ ہوگا بلکہ اپنی تنظیمی وابستگی اور کارکن دوستی کے دعوے کو عملی شکل دینے کا موقع بھی ہوگا۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔