ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ….ضمنی انتخابات کے نتائج

۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ   ۔۔۔۔۔۔


پنجاب کے تین حلقوں میں11 اکتوبر کو ہونے والی ضمنی انتخابات کے ملے جُلے نتائج آنے پر محب وطن حلقوں کو اطمینان ہوا اب کوئی بھی سیاسی جماعت یہ دعویٰ نہیں کرسکے گی کہ عوام نے اُس کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے عوام نے کسی سیاسی جماعت کے حق میں یا کسی سیاسی جماعت کے خلاف فیصلہ نہیں دیا تین حلقوں کی ضمنی انتخابات میں ایک نشست این اے 144 اوکاڑہ آزاد اُمیدوار ریاض الحق نے جیتی دوسری نشست این اے 122 مسلم لیگ (ن) کو ملی سردار ایاز صادق کا میاب ہوئے جبکہ تیسری نشست پی پی 147 پی ٹی آئی کے اُمیدوار نے جیت لی اگر حلقے کے اندر جھانک کر دیکھ لیا جائے تو یہ سیاسی جماعتوں کا مقابلہ نہیں تھا نظریات اور منشور کا مقابلہ نہیں تھا بلکہ سرمایے کا مقابلہ تھا جتنا گُڑڈالو گے اتنا میٹھا ہوگا جس کے پاس گڑ زیادہ تھا اُ س کا گلاس بہت میٹھا ہوا محتاط اندازے کے مطابق قومی اسمبلی کی ایک نشست جیتنے پر 100 کروڑ روپے لگائے گئے دوسرے نمبر پر آنے والے نے بھی 98 کروڑ روپے سے کم نہیں لگائے سیاسی پارٹیوں نے ٹکٹ دیتے وقت اُمیدوار کی اہلیت ، قابلیت ،نیک نامی اور سیاسی خدمات کی جگہ سرمایہ لگانے کی صلاحیت کو دیکھا ،پرکھا اور اس حساب سے ٹکٹ دے دیا آزاد اُمیدوار نے بھی اپنے سرمایہ کو دیکھا ووٹروں کی تعداد کا جائز ہ لیا اور انداز ہ لگا یا کہ 100 کروڑ روپے میں کتنے ووت آسکتے ہیں پھر وہ میدان میں اُترا اور جیت گیا اب ہرجیتنے والا اپنا سرمایہ دو چند منافع کے ساتھ سرکاری خزانے سے وصول کرئے گا کس طرح وصول کیا جاتاہے یہ طریقہ اُن کو معلوم ہے پنجاب کے تین حلقوں میں حالیہ ضمنی الیکشن سے دو باتیں ایک بار پھر ثابت ہوگئی ہیں پہلی بات یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتوں کے پاس پروگرام ،منشور ،نظریہ اور پالیسی کوئی نہیں ہماری ہاں انتخابات کسی منشور اور نظر یہ کی بنیاد پر نہیں لڑے جاتے آج مارشل لاء آتے اور سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگادے تو ملک او رقوم کو بالکل فرق نہیں پڑے گا کوئی نظر یاتی خلاء محسوس نہیں ہوگا منشور اور پالیسی کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا دوسری بات جو ایک بار پھر ثابت ہوگئی وہ یہ ہے کہ اگر پاکستان میں200 مرتبہ انتخابات ہوئے تب بھی سیاسی کارکن ،پارٹی ورکر ووٹ نہیں جیت سکے گا عوام کا کوئی نمائیندہ اسمبلی میں نہیں جاسکے گا پارٹی ورکر اور سیاسی کارکن کو پہلے ٹکٹ نہیں ملے گا ٹکٹ مل گیا تو ووت نہیں ملے گا مئی 2013 ؁ء کے انتخابات میں پورے پاکستان میں قومی اسمبلی کی 362 سیٹوں میں ایک سیٹ پر مراد سعید نام کاسیاسی کارکن محض اپنی قابلیت کی بنیاد پر سوات سے کامیاب ہوا تھا اُس کو پی ٹی آئی نے ٹکٹ دیا وہ ایسا کارکن تھا جس کے پاس الیکشن مہم چلانے کے لئے پیسہ خرچ کرنے والا کوئی فنانسر بھی نہیں تھا ورنہ ہماری ہاں ایسے سمگلروں کی کمی نہیں جو خود الیکشن نہیں لڑتے کسی دوسری اُمیدوار کی انتخابی مہم پر تین چار کروڑ روپے خرچ کر کے اگلے 5 سالوں تک اُس کے کندھے پر سوار ہوکر دھند ہ چلاتے ہیں مراد سعید کو فنانسر بھی نہیں ملا عوام نے ووٹ دیا سرمایہ والے عدالت میں گئے ڈگری کا مسئلہ پیدا کیا اور مراد سعید کو اپنے دفاع کے لئے سرمایہ داروں کا سہارا لینے پر مجبور کر دیا عدالت کے اخراجات بھی الیکشن کے اخراجات سے کم نہیں ہیں یہ بات طے ہیں کہ کوئی سیاسی کارکن یا غریب ورکر کبھی ووٹ نہیں لے سکیگا کبھی اسمبلی میں نہیں جاسکے گا اسمبلی میں جانا اور اس کے لئے الیکشن لڑنا صرف کھرب پتی لوگوں کا کام ہے پارلیمنٹ کے اندر عوامی مسائل کا ذکر نہیں ہوتا عوامی مسائل پر قانون سازی نہیں ہوتی تو اس کی وجہ بھی یہ ہے ہماری اسمبلیوں میں عوام کے نمائیندے نہیں جاتے جولوگ سرمایہ لگا کر منتخب ہوتے ہیں ان کا عوام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا عوامی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اُن کے نوکر ہماری بازاروں سے سودا سلف نہیں خریدتے ان کے بچے ہمارے سکولوں میں نہیں پڑھتے اُن کے اہل خانہ اور عزیز واقارب ہماری ہسپتالوں سے علاج نہیں کرتے اُن لوگوں نے زندگی میں کبھی بس ،ویگن یا سوزو کی اور تانگے میں بیٹھ کر سفر نہیں کیا انہوں نے کبھی رکشہ والے سے بھاؤ تاؤ کرکے کرایہ طے نہیں کیا اُن کو کیا پتہ کہ پاکستان کے عوام ، حلقہ این اے 122- کے عوام ، حلقہ پی پی 147- کے عوام کس حال میں ہیں؟ اُس کو کس قسم کے مسائل درپیش ہیں جس کے بچے ہمارے سکولوں میں نہیں پڑھتے اُ س کوہماری ملک کے تعلیمی مسائل کا کیا پتہ ہوگا ؟ وہ کس طرح ہماری بچوں کے لئے قانون سازی کریگا ؟جس نے زندگی میں کبھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر نہیں کیا اُس کو پاکستانی عوام کے سفری مشکلات کا کیا علم ہوگا؟ 11 اکتوبر 2015 ؁ء کے تین حلقوں والے ضمنی انتخابات کو پاکستان کی تقدیر اور عوام قسمت کا ستارہ قرار دیا گیا تھا حق اور باطل کی لڑائی قرار دیا گیا تھا تین حلقوں کے تین مختلف نتائج نے ایک ہی بات ثابت کردی ہے کہ اہلیت اور قابلیت والا کامیاب نہیں ہوتا صرف پیسہ لگانے کا گر جاننے والا سرمایہ دار کا میاب ہوتا ہے ضمنی انتخابات کے تازہ ترین نتائج کو دیکھ کر جمہوریت اور انتخابات پر سے عوام کا اعتماد ایک بار پھر اُٹھ گیا ہے جمہوریت اور انتخابات پر عوام کا اعتماد بحال کر نے کے لئے ہماری عسکر ی اور سیاسی قیادت کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا ایسی قانون سازی کر نی ہوگی کہ غریب ورکر بھی انتخابات جیت سکے غریب ورکر بھی اسمبلی میں جاسکے ورنہ جسٹس رستم کیانی کا وہ جملہ ہر دور میں ہماری جمہوریت پر صادق آئے گا جس میں انہوں نے انگریزی زبان میں جمہوریت کی مشہور تعریف کو پاکستانی جمہوریت کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا تھا جمہوریت عوام کے نام پر عوام سے کوسوں دور عوام کی خرید وفروخت کے ذریعے حکومت کر نے کا نام ہے انہوں نے انگریزی میں

لگایا تھاBuyاورFarکے ساتھOFF

” Democracy is Government “off” the People “Far” the People “Buy” the People”

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق