ارشاد اللہ شاد

یہ زلزلے کیوں؟ رموز شاد

26اکتوبر 2015بروز پیر بوقت 02:10سہ پہرچترال سمیت پاکستان کے تمام شہروں میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔ان جھٹکوں کی زیادہ شدت ہولناکی اور تباہی دیکھی گئی۔ آیا کہ سینکڑوں سے زیادہ کی تعداد میں اموات ہوئے ہیں اور اس سے کہی زیادہ زخمیوں کی تعداد ہیں۔ پاکستان کے کئی اضلاع میں زلزلہ آیا ہے۔اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ ، کراچی ، حیدر آباد میں بھی نقصانات کی کافی اطلاعات ملی ہیں۔ کرۂ ارض میں یہ جھٹکے اور جُنبشیں کیوں آتی ہیں؟ جبکہ زمین میں اتنے بڑے بڑے فلک بوس پہاڑ وں کو میخوں کی طرح گاڑدیا گیا ہے تو پھر یہ زمین کیوں اتنی آسانی سے ہچکولے کھانے لگتی ہے؟ اس کے اصل اسباب کیا ہے؟ اور کیوں ایسا ہوتا ہے؟ اس ہولناک ، قیامت خیز سانحہ کے موقع پر کچھ جریدے اور تبصرہ نگار کیا کہتے ہیں؟ اور اس خوفناک اور دلوں کو دہلادینے والی قیامت صغر یٰ کے بارے میں ماہر ارضیات ضرور کچھ وجوہ و اسباب بیان کریں گے؟ ان سب سفلی معلومات اور منہ شگافیوں سے بالا تر ہوکر ہم آپ کے سامنے اس ذات گرامی کا حقیقی تجزیہ و تبصرہ پیش کر ہے ہیں ، جو عالم ارضیات ہی نہیں بلکہ عالم فلکیات کے علاوہ تمام علوم ع فنون کا منبع اور سرچشمہ بھی ہے۔ہماری مراد اس ذات گرامی سے محسن اعظم ﷺ کی ذات مبارک ہے، چنانچہ آپﷺ نے علامات قیامت کے سلسلے میں ان زلزلوں کے اصل اسباب اور وجوہ کچھ یوں بیان فرمایا ہے کہ قرب قیامت میں جب فواحش ، منکرات اور بے حیائی کی یلغار ہوگی ، ہر سُو برائیاں اور بے حیائیاں عروج پر ہوں گی ، اللہ تعالیٰ کے بام لیوا پکے اور سچے مسلمان بہت قلیل ہوں گے ، حق بظاہر مغلوب اور باطل غالب ہوگا ، حق کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے والے اور اللہ کے بام پر مٹنے والے بہت تھوڑے ہوں گے،حق والی چھوٹی سی ٹکڑی کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے تمام دنیا متحد اور صف آرا ہونگے ایسے وقت میں مختلف قسم کے عذاب اور زلزلے آئیں تو سمجھ لینا کہ اب قیامت بہت قریب ہے۔جس کو ہدایت کی توفیق ملے وہ جلدی اہل حق کی تلاش میں مصروف ہوجائیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کریں اگر اس کے دامن ایمان کی اہمیت ہو تو جگہ جگہ ایمان کو خراب کرنے والے فتنے موجودہوں گے، جب ہر طرف سے سفینہِ ایمان کو ہچکولے اور تھپیڑے مارنے والی تیز تند اور روح فرسا موجیں یکے بعد دیگرے ٹھاٹیں ماریں گے اور شجرۂ ایمان کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ظلم و بربریت کی باد سموم چلے گی تو ایسے خطرناک وقت میں مسلمانوں پر لازم ہوگا کہ وہ ایمانی لحاظ سے پختہ ، مظبوط اور حق والی جماعت کا دامن پکڑلیں اور اپنے ایمان کو بچانے کے لیے ان کے جھنڈے تلے پناہ حاصل کریں ۔ ان زلزلوں کے یہ وہ مختصر اسباب اور وجوہ ہیں جو محسنِ اعظم ﷺ کی پاک اور سچی زبان سے ارشاد ہوئے ہیں۔
کیا آج ہر سُو فتنے ہیں ؟ کیا ہر طرف سے شجرۂ ایمان کو جلانے والی سمع خراش گانے کی آواز یں سنائی نہیں دی جارہی ؟ کیا ہر سُو بے پردگی، بے غیرتی، عریانی اور فحاشی کا بازار گرم نہیں؟ہر جگہ تصاویر کی لعنت موجود نہیں؟ ہمارے نوجوان نسل مادر پدر آزادبے راہ روی کی راہ پر گامزن نہیں ؟ ہر طرف آزادی نسواں کا شور اور دور دورہ نہیں ؟ معاشرے میں ایک طوفانی بد تمیزی برپاہے کو ئی روک ٹوک کرنے والا نہیں۔ خدا کے قہر وعذاب کو دعوت دینے والی ٹی۔ وی ، ڈش ، کیبل کی لعنتیں ہمارے گھروں میں موجود نہیں؟ رشوت ، سود خوری اور زنا جیسے قبیح اعمال ہمارے اند ر نہیں پائے جارہے؟
ایسے خطرناک اور سنگین حالات میں اہالیان پاکستان پر بالعموم اور اہل حق و عقد اور ارباب اقتدار پر بلخصوص لازم ہے کہ وہ معاشرے میں پائے جانے والے منکرات اور برائیوں سے لوگوں کو روکیں اور ظلم وستم کرنے والے طبقہ کا ہاتھ ظلم سے کھینچیں ، اسی میں دونوں طبقوں کی بھلائی اور عافیت ہے ورنہ عمومی عذاب کے لپیٹ میں سب آسکتے ہیں۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق