محمد جاوید حیات

’’ جھنجھوڑ کر جگاتا ہے‘‘

محمد جاوید حیات……


چھ ماہ کا بچہ ماں کے سینے سے چمٹا ہوا ہے ابھی نیندسے جاگا ابھی ماں نے سینے سے لگا کے دودھ پلائی ۔۔۔ 80 سال کا بوڑھا بیٹھے بیٹھے دھوپ میںآکر دھوپ سینگ رہا ہے۔۔۔ باورچی خانوں میں کھانے تیار ہیں ۔۔۔ سکولوں میںآخری پریڈ ہے۔ بچے گھنٹی بجنے کے انتظار میں ہیں۔۔ بھوک لگی ہے رہ رہ کے ان کو ماں۔۔ باورچی خانہ ۔۔ اور ساک روٹی یا د آرہے ہیں۔۔ اساتذہ دھاڑیوں پر ہاتھ پھیر رہے ہیں۔۔ رہ رہ کے گھڑیاں دیکھتے ہیں۔۔ چوکیدار گھنٹی بجانے کے لئے تیار کھڑا ہے ۔۔ استانیاں اپنے سکارف باندھ رہی ہیں۔۔ پرائیویٹ اداروں کے سامنے گاڑیاںآکے کھڑی ہے۔۔۔ جونیر سیکشنوں کی چھٹی ہوگئی ہے۔۔۔ جنت کے پھول گلی کوچوں میں پھیل گئے ہیں۔۔ تنگ گلیوں میں ابھی ابھی چھوٹے بچے کھانا کھاکے کھیلنے نکلے ہیں۔۔ ڈاکٹر ز اپنی سفید اورکوٹ کاندھوں پر ڈالے دفتروں سے باہر نکل رہے ہیں۔۔ بڑے بڑے افیسر ز لنچ سے فارغ ہو کر اپنی کرسیوں میںآبیٹھے ہیں۔۔ بڑے بڑے ٹھکیدار اپنے بینک بلنس پہ سوچ رہے ہیں۔۔ قو م کے نمائندے اپنے اقتدار کی کرسیوں کی فکر میں ہیں۔۔ منصوبہ بندی کرر ہے ہیں ۔۔کل کا ۔۔ مہینے کا۔۔ زمانہ کا سوچ رہے ہیں۔۔ سب سے سب کچھ بھلا دیا ہے۔۔ خالق کی مخلوق اس کو بھلا بیٹھی ہے ۔۔ اس کی دی ہوئی نعمتوں کی کوئی فکر نہیں کرتا۔۔۔ فجر کی نماز کسی نے نہیں پڑھی۔۔ ظہر تک کتنے گناہ کئے۔۔ رشوت لی ۔۔ ناانصافی ہوئی۔۔ڈیوٹی میں کوتاہی ہوئی ۔۔ امانت میں خیانت کی گئی ۔۔جھوٹ بولا گیا ۔۔۔ موج میلوں میں شمولیت کی گئی۔۔۔خواتین نے سنت رسول ؐ کی خلاف ورزی کی بے پردہ گھروں سے باہر نکلے۔۔۔ آنکھوں ،زبان ، دل کی حفاظت نہیں کی ۔۔ ایک بار بھی کائنات کا مالک، یاد نہیں آیا ۔۔ فزکس کے پروفیسر نے لیکچر دیا۔۔۔ سورج کے سنٹر میں 2 کروڑ تک درجہ حرات ہے ہم زمین میں 40 درجہ حرات برداشت نہیں کرسکتے ۔۔اگر ہم سورج کی طرف سفر کریں فاصلہ 50 ہزار کلومیٹر رہ جائے تودھما کے کی آوز یں سنائی دیتی ہیں کہ سورج میں ہیلیم گیس کے جلنے کا عمل ہے کائنات کی وسعت کااندازہ نہیں۔۔ لیکن آخر میں وہ یہ نہیں کہتا کہ ’’ یہ سب عظیم خالق کی تخلیقات ہیں‘‘ جو قیامت کے دن اس وسیع کائنات کو اپنے ایک ہاتھ سے لپیٹ لے گا ۔۔۔ سیاسیات کا پروفیسر میکاولی کے نظریات پر بحث کر یگا ۔ رسول اللہؐ کے لائے ہوئے نظام کی بات نہیں کریگا ۔ جدید تعلیم یافتہ مقر ر اپنی تقریر میں مغرب میں کسی لڑکی کا حوالہ نہیں دے گا کہ فخرمو جوادت ؐ نے اپنا دامن کاٹ لیا کہ اس میں بلی سوئی ہوئی تھی اس کا جگا نا رحمت کے سمندر کے نزدیک گراں تھا اپنا دامن کاٹ لیا اور نماز کے لے اٹھا ۔۔ اسلامی نظام معیشت کی بات نہیں ہوگی کارل مارکس کی بات ہوگی ۔۔ مادر ٹھر یسا ،ان سان سوچی کو ماڈل کے طور پر پیش کیا جائیگا خدیجتہ الکبریؓ کی مثال نہیں دی جائے گی ۔۔ با پ کی جنت میں جانے کی ضمانت ۔۔۔ ماں کو محبت کاسمندر ،بہن کو گھر کی شہزآدی ،بیوی کو زندگی کا ساتھی، استاد کو روحانی باپ ،علماء کوپیش وا ،بزرگوں کوقابل واحترام گردانا نہیں جائے گا۔۔ کمائی میں حلا ل حرام کی تمیز ،ڈیوٹی کو امانت اور عہدے کو آزمائش نہیں کہا جائے گا ۔۔ ٹیکنالوجی کے پیچھے رب کائنات کی طاقت کا اقرار نہیں ہوگا ہر کام کااللہ سے ہونے کا یقین نہیں ہوگا ۔۔ سب اس کوبھول چکے ہونگے ۔۔ اس دوران دوپہر کا 2:09 منٹ ہوگا ۔۔ زمین ہلے گی ۔۔ صرف دو منٹ کی بات ہوگی ۔۔ پہاڑ سے لڑکھتا ہوا پتھر آئے گا ۔۔ ماں کے سر پہ لگے گا چھ مہینے کا وہ بچہ محفوظ ہوگا ماں مرے گی ۔۔ گلیوں میں کھیلنے والے پھولوں پہ سب پہ دیوار گرے گی۔ دو پھول مسلے جائیں گے باقی بچیں گے ۔۔ گھر گرے گا ایک خاتوں جان بحق ہوگی باقی سب بچیں گے ۔۔ دیکھنے والے کہیں گے کہ ’’ معجزانہ طور پر بچ گئے ‘‘‘2 منٹ تک اللہ کی یاد ہوگی ۔۔ کوئی سجدے میں گرا ہوا ہوگا کوئی کلمے کا دورکریگا۔۔ کسی کوکوئی یاد نہیں آئے گا ۔۔ چیخ و پکار ہوگی ۔۔ گھر مسمار ہونگے ۔ سارے باغی ۔ مغرور ،غافل بھاگئیں گے۔۔ جوٹن کے ڈبے کو ’’ قیمتی گاڑی‘‘‘ کہتا تھا ۔ ۔جو چند اینٹوں کے گھروندوں پر نازکرتا تھا اس کو ’’ بنگلا‘‘ کہتا تھا ۔۔ جس کو ’’ خشکی کے ایک ٹکڑے ‘‘ پہ ناز تھا اس کو جائیداد کہتا تھا ۔۔ سب کچھ بھول جائیں گے ۔ زمین کا ’’ ہلنا ،، سب کچھ ’’ ہلائے ‘‘ گی بنگلے انیٹوں کا ڈھیر ہونگے ۔گاڑیاں ٹن کے ڈبے ہونگی، خشکی کے ٹکڑے شق ہونگے ۔۔ ہلنا بند ہوگا ۔۔ تو دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی ۔۔ پھرلوگوں کو سب یا د آئیں گے ۔۔ بنک بلنس ،بچے ، گاڑیاں ،گھر ،محلے ،جائیدادیں،،، پھر قصے ہونگے ۔۔ ہر ایک اپنی کہانی سنائے گی ۔۔ تباہیوں کے چرچے ہونگے ۔۔ اپنے پیاروں کے حال احوال کی جستجو ہوگی ۔۔ افیسرز ادھر ادھر بھاگئیں گے ۔۔ امداد کا شور ہوگا۔۔ مگر کوئی ’’ِوجہ ‘‘کو نہیں سوچے گا ۔۔ ’’ کیوں ایسا ہوا ‘‘ پر نہیں سوچے گا۔۔ ایک لمحے کے لئے کوئی ’’ پیچھے ‘‘ نہیں جائے گا تاریخ کے در یچے کو وا نہیں کرے گا۔۔ کہ اس سرزمین پر ایک ایسا لمحہ بھی گذر ا ہے کہ یہ زمین ہلی ۔۔ ایک بندہ خدا نے اس پر پاؤں ما ر کرکہا ۔ ۔۔ کیوں ہلتی ہو کیا تمہا رے اوپر انصاف نہیں ہورہا ۔۔ زمین رکتی ہے۔۔ کوئی اس کائنات کے خالق کے اس فرمان پر نہیں سوچتا کہ ۔۔ خشکی اور تری میں فساد لوگوں کے اعمال کے نیچے میں پھیلتے ہیں۔کوئی یہ نہیں سو چتا کہ۔۔ کہ اس خالق کی مرضی کے خلاف کوئی بات ہوئی ہوگی ورنہ تو وہ رحمت کا سمندر ہے۔ سمندر کبھی خشک تو نہیں ہوتا ۔۔ وہ ’’ باغیوں ‘‘ کو جھنجوڑ کر جگا رہا ہے کہ راستے بدلیں اس کی طرف ہوجائیں اس کے بھیجے ہوئے نبی ؐ کی پیروی کریں۔۔ جھنجوڑ کر جگاتا ہے تب بھی ہم الزامات کادھارا ایک دوسرے کی طرف بہاتے ہیں۔اپنا آپ بھول جاتے ہیں اپنا محاسبہ نہیں کرتے ۔۔۔ ہمیں اپنی زندگی پر اتنا بھی اعتبار و اختیار نہیں کہ ہم ’’ 5 منٹ‘‘ پہلے کو سمجھ سکیں۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ سکول کے بچے چھٹی ہو نے کاانتظار نہ کرتے ۔۔ یہ اساتذہ گھڑی نہ دیکھتے ۔۔ یہ بڑے بڑے لوگ کرپشن نہ کرتے ۔۔ یہ عدالتوں میں انصاف ہوتا یہ 80 سال کا بوڑھا خاموش دھوپ سینگ رہا نہ ہوتا’’ اللہ اللہ ‘‘ کرتا۔۔ یہ خواتین چار دیواری کے اندر ہوتیں۔۔ ہماری حیثیت یہ ہے کہ ہم2 منٹ کی ’’ جھنجھوڑ‘‘ کی تاب نہیں لاسکتے اور پھر ہماری حیثیت یہ ہے کہ دو منٹ کے بعد اپنی ’’اوقات‘‘ بھول جاتے ہیں۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق