محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان….ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شدہ

…..محمد جاوید حیات…..



درویش صفت اور شاہین صفت شاعر اقبال نے کہا تھا ۔
اگر جوان ہوں میری قوم کے جسورو غیور۔۔۔قلندری میری کچھ کم سکندری سے نہیں۔۔
ان کی نگاہیں جوانوں پہ تھیں۔وہ تبدیلی، ترقی،انقلاب، مضبوطی،اور فتح و نصرت کی سوتیں ان میں پھوٹتی دیکھتے تھے۔وہ سوچتے سوچتے ان کو شاہین کہا۔کیونکہ شاہین جھوٹ،حرص،طمع سے پاک ایک مقنع،بلند پرواز،خودار،سخت کوش،دوربین نگاہ اورگرم خون والا پرندہ ہے۔وہ تھکتا نہیں۔ اس کو پروآز پسند ہے۔امت مسلمہ کی تاریخ اس بات پہ گواہ ہے۔کہ جب وہ اُٹھ رہی تھی تو سرور کائینات ﷺ کے ارد گرد ایسے پروانوں کا اجتماع تھا۔جن کی عمریں دس سال سے لے کر تیس سال کے درمیان تھیں۔دنیا کی یہ بے مثال قوم جب بھی اٹھی ہے انہی نوجوانوں کے کندھوں پہ ہاتھ رکھ کے اٹھی ہے۔۔۔پاک سر زمین کے معرض وجود میں لانے ،اس کی حفاظت اور اس پہ نازل ہو نے والی ہر آزمائش سے دھرانا گزرنے میں انہی نوجوانوں نے ہراول دستے کا کام کیا۔چترال اس سال مختلف قدرتی آفات کاآماجگاہ رہا۔۔اس پر آشوبیت میں نوجوانوں نے جو کردار ادا کیا بے مثال ہے۔۔ہم نے اپنی آنکھوں سے ان چاند چہروں کو گرد آلود دیکھا کہ وہ خدمت کیِ ،،گرد،، تھی۔جس کے درمیان ان کا مکھڑا چمکتا تھا۔۔حا لیہ زلزلے میں گورنمنٹ سنٹینیل ہائی سکول برائے طلبا چترال کے بوآئے سکاوٹ کا گروپ دن رات اس کام میں لگا رہا۔۔زلزلے کی رات ضلعی بوائے سکاوٹ آفیسر حاجی فاروق اعظم پی ای ٹی جی سی ایچ ایس چترال ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ساری رات خدمت میں لگے رہے۔وہ ضلعی انتظامیہ کے شانہ بہ شانہ کام کر تے رہے۔دوسرے دن سکول کے پچیس طلبا کے ساتھ دوسرے اساتذہ ہسپتال میں خدمت میں مصروف رہے۔فاروق اعظم کے ساتھ مولانا حسین احمد اس سکول کے استاد جناب کمال دین صاحب پرنسپل سکول اور ڈسٹرکٹ آفیسر الیمنٹری اینڈ سیکینڈری ایجوکیشن جناب احسان الحق صاحب بچوں کے کاموں کی نگرانی کرتے رہے۔ ان جوانوں کی خدمت مثالی تھی۔۔سارے لوگ عش عش کر اٹھے۔ڈی سی چترال،کو ر کمانڈرکے پی کے ،کمانڈانٹ چترال سکاوٹ ممبر صوبائی اسمبلی جناب سلیم خان،ضلعی ناظم ،تحصیل ناظم،جوبھی اسپتال کے دورے پہ آیا ان کو گلے سے لگایا ۔ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ہائی سکول کی فغالیت کو داد دئے بغیر نہ رہ سکے، یہ اس سکول کے طلبا اور اساتذہ کی خصوصیت ہے کہ وہ ضرورت کے وقت ہراول دستے کا کام کرتے ہیں حالیہ زلزلے کی تباہ کاریاں پھر سے قوم کے ہر طبقہ فکر کو ایک کڑی میں پرونے کے کام کیے۔۔سب کے دل ایک ساتھ دھڑکے۔ سب نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے۔سب ایک دوسرے کے دست و بازو بنگئے۔سب نے ایک دوسرے کے آنسو پونجھے۔سب ایک دوسرے کا سائبان بنے۔یہی زندہ قوموں کی مثال ہے۔اور اہم بات یہ ہے کہ اساتذہ تعلیمی اداروں میں نونہالان قوم کو خدمت خلق کی تربیت دے رہے ہیں ۔ان کی باقاعدہ ٹرئننگ ہو تی ہے۔ اساتذہ ایسے مواقع پر لیڈر کا کام کرتے ہیں۔یہ لوگ قوم کے اثاثہ ہیں۔اور اسی مرحلے پر بقول اقبال قلندروں کی قلندری سکندری بن جاتی ہے۔اور قوم چٹان بن جاتی ہے۔ضلعی سکاوٹ آفیسر،پرنسپل اساتذہ اور طلبا ہائی سکول چترال اور ضلعی آفیسر تعلیم ضلع چترال قابل صد تحسین و آفرین ہیں کہ ان کی کاوئشیں اور مستعدی قابل داد ہے۔یہی مثال ہے ۔یہی تعلیم و تربیت ہے۔تعلیم و تربیت اصل نا خدا ایسا ہی کچھ کرتے ہیں۔۔۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق