ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد …..اصلاحات کمیٹی اور فاٹا کا مستقبل

…..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ….

وزیر اعظم نے فاٹا اصلاحات کمیٹی کے نام سے نئی کمیٹی بنائی ہے اور گذشتہ 30 سالوں میں فاٹا کے حوالے سے بننے والی یہ ساتویں کمیٹی ہے پہلی 6 کمیٹیوں کے کام کا بُرا حشر ہوا ۔موجودہ کمیٹی سے بھی نیک تو قعات اور اُمید یں وابستہ کرنا فضول اور بیکار ہے یہ کمیٹی ایسے وقت پر مبنی ہے جب فاٹا کے ایک کروڑ عوام نے اپنے نمائیند وں کے ذریعے فاٹاکوخیبرپختونخوا میں ضم کر کے انسانی آئینی اور اسلامی حقوق دینے کے لئے بائیسویں ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے سینیٹ کی کمیٹی بل کا جائزہ لے رہی ہے دوسری طرف فاٹا کے موجودہ سسٹم اور ایف سی آر کے قانون سے فائدہ اٹھانے والے200خاندانوں نے فاٹاکو صوبے میں ضم کر کے آئینی حقوق دینے کے خلاف زبرداست قسم کی تحریک چلائی ہے اس تحریک پربڑاسرمایہ خرچ کیا جارہا ہے200خاندانوں میں50کا تعلق فاٹاسے 100کا تعلق پنجاب سے اور بقیہ50 کاتعلق خیبر پختونخواکے بندوبستی علاقوں سے ہے ان کے مالی مفادات فاٹاکے موجودہ نظام کی مرہون منّت ہیں۔اس لئے یہ چھوٹا سا طبقہ فاٹا کو آئینی حقوق دینے،وہاں عدالتیں قائم کرنے ، پولیس سٹیشن کھولنے اور فاٹا میں ایف سی آر کو ختم کر کے تعلیمی ادارے کھولنے کی مخالفت کر تا ہے فاٹا اصلاحات کمیٹی تین سال اپنی بے معنی میٹنگوں میں لگا ئیگی 3 سال بعد میاں نواز شریف کی حکومت ختم ہوجائیگی موجودہ اراکین پارلیمنٹ کی مدت ختم ہوگی پاکستان پیپلز پارٹی ،جماعت اسلامی ،پاکستان تحریک انصاف ،ایم کیو ایم ،قومی وطن پارٹی اور اے این پی نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر فاٹا کو آئینی حقوق دینے ،اس کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے اور ایف سی آر کو ختم کر نے کی حمایت کی ہے جمعیتہ العلمائے اسلام (ف) کے پاس ایف سی آر کو بحال رکھنے اور قبائل کو سابقہ حالت پر رکھنے کے حق میں دلائل ہیں خیبر ایجنسی سا بق پارلیمنٹرین حمید اللہ جان آفریدی کے پاس بھی ایف سی آر کے حق میں دلائل کے انبار لگے ہوئے ہیں اس اختلاف رائے سے کمیٹی کو فائد ہ ہوگا کمیٹی میں قبائل کا کوئی نمائیندہ نہیں ہے 5 رکنی کمیٹی میں ایک پختون ہے سرتاج عزیز کمیٹی کے سربراہ ہیں سیفران کے سکرٹری کو کمیٹی کا سکرٹری بنایا گیا ہے سیفران وہ محکمہ اور وزارت ہے جو ایف سی آر کو قیامت قبائل پر مسلط رکھنے کے حق میں ہے کمیٹی کے دیگر ممبران میں وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ اور نیشنل سیکورٹی ایڈوئز ر لفٹننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ ، اسحاق ڈار ،زاہد حامد شامل ہے ایک کا تعلق بلوچستان سے جبکہ 3 کا تعلق پنجاب سے ہے اسحاق ڈار اور زاہد حامد نے کبھی قبائلی علاقہ نہیں دیکھا قبائلی تاریخ اور قبائل کی موجودہ بے بسی ، بے کسی اور کمپر سی کے بارے میں دونوں کے معلومات کا دائر ہ صفر ہے وہ قبائل کواس نظر سے دیکھینگے کہ بھینس اگرروزانہ 30 کلو دودھ دے رہی ہو تو اُس کا ذبح کر نا فائد ے کا کام ہے یا نقصان کاسودا ہے اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے بجا طور پر اعتراض کیا ہے کہ کمیٹی میں قبائل کاکوئی نمائیند ہ نہیں پختونوں کی نمائیند گی نہ ہونے کے برابر ہے قبائلی اراکین پارلیمنٹ کی طر ف سے ڈاکٹر غازی گلاب جمال نے بیا ن دیا ہے کہ کمیٹی ہماری درخواست پر بنائی گئی ۔انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر ان کی درخواست پر کمیٹی بنائی گئی تو کمیٹی میں قبائلی اراکین پارلیمنٹ کو نمائیند گی کیوں نہیں دی گئی اسلام اباد کے سفارتی اور صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حکومت جس کا م کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنا چاہتی ہے اُس کے لئے کمیٹی بناتی ہے اب تک کسی بھی کمیٹی کا کوئی کا رنامہ سامنے نہیںآیا فاٹا اصلاحات کمیٹی کا مقصد بائیسویں ترمیمی بل کو سبو تاژ کر کے فاٹا میں ایف سی آر کو دوام بخشنا ہے پشاور میں اقتدار کی راہداریوں کے اندر گھوم پھر کر خبریں لانے والے باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ بائیسویں ترمیم کا مسودہ سامنے آنے کے بعد ایف سی آر کا فائد ہ اُٹھا کر مال بنانے والے 200 خاندانوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے اگر ایف سی آر ختم ہوا قبائلی عوام کو آئینی حقوق مل گئے پولیس آگئی عدالتیں کھل گئیں کالج ،سکول اور یونیورسٹیاں کھولی گئیں ایک کروڑ نفوس کی قبائلی آبادی کونوشہر ہ ،پشاور ،گوجر انوالہ اور سیالکوٹ کی طرح انسانی حقوق مل گئے فاٹا سکرٹریٹ بند ہوا سفیران کا دوتہائی کام صوبائی حکومت کو مل گیا تو 200 خاندانوں کے مفادات کا کیا بنے گا؟ ایک طرف ایک کروڑ قبائل کا مفاد ہے پاکستان کا مفاد ہے اور دوسری طرف 200 خاندانوں کا مفاد ہے کمیٹی 200 خاندانوں کے مفاد میں بنائی گئی ہے اور اس کمیٹی کا کام فاٹا کے مستقبل کو مزید تاریکی میں دھکیلنا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

مزید دکھائیں

متعلقہ آپڈیٹ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
إغلاق