محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان….’’ہم ناشکرے ہیں‘‘

……محمد جاوید حیات…..


چترال ٹاون میں رہتا ہوں،سکرٹریٹ روڈ سے روز گذرتا ہوں۔ضلعی انتظامیہ کے اکثر دفاتر ادھر ہیں۔جاتے ہوئے دائیں طرف اورآتے ہوئے بائیں طرف اسسٹنٹ کمشنروں کے دفاتر ہیں۔26اکتوبر کو زلزلہ آیا۔تباہیاں ہوئیں،جانوں کا ضیاع ہوا۔مال برباد ہوئے۔مکانات گرے،پورا ملک حرکت میں آگیا۔فوج دوڑی ،پولیس دوڑی ،صوبائی حکومت ،وفاقی حکومت،این جی اوز سب چترال کے طرف دوڑے۔جنرل پہنچے،کور کمانڈر پہنچے،وزیراعلیٰ پہنچے ،وزیراعظم پہنچے،حزب مخالف کے لیڈر پہنچے،ہیلی کاپٹر کی سروس رہی،ضلعی انتظامیہ نے نیندیں حرام کردی۔ممبران صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی چترال کے گلی کوچوں میں گئے۔ضلعی حکومت لوگوں کی دکھ درد میں شریک رہی۔۔۔۔میں حیران ہوں۔۔۔گمنام انسان ہوں۔۔۔کوئی فورم میسر نہیں جس میں بات کرسکوں ۔کوئی بڑا عہدہ نہیں جوکام میں لاسکوں۔۔۔۔سیاسی وابستگی کے اہل نہیں کہ پکار اُٹھوں۔۔۔۔۔مگر حیران ہوں کہ چترال کو اتنی بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔یہ اس کی نرالی تہذیب ،انوکھا کلچر،امن،شرافت اور مہذب باشندے ہیں کہ فعال سیاست ہے۔بہترین انتظامیہ ہے کہ صحافت کے کرشمے ہیں کہ چترال ہر لحاظ سے ہائی پروفائل ہے اگر میرا بس چلے تو میں کمانڈنٹ چترال،ڈی سی چترال،ایس پی چترال اور ان کے سارے عملے کو ایک جگہ جمع کروں اور کہوں کہ افرین ہو۔تمہاری خدمت،تمہاری صلاحیت اور تمہاری فرض شناسی پہ کہ تم نے خدمت کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔مگر کیا کروں گمنام شخص ہوں۔۔۔۔یہ سٹیک ہولڈرایری فیری کریں گے یہ ایسا کرنے کی زحمت نہیں گریں گے لیکن ’’چترال کی مٹی‘‘ان کو شاباش دے رہی ہے۔۔۔۔مگر سکرٹریٹ روڈ سے آتے جاتے ہوئے مجھے بہت کوفت ہوتی ہے۔۔۔۔سوچتا ہوں کہ یہ اے سیز اور ان کا عملہ ڈی سی اور ان کا عملہ سارا دن چیکوں پر دستخط کرنے اور تقسیم کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔مگر جو چیک وصول کرتا ہے۔وہ اس کو اپنی پھرتی اور صلاحیت سمجھتا ہے۔اور جس کو ابھی نہیں ملا وہ ان کو ملامت کرتا ہے۔سوچتا ہوں کہ کتنے لوگ ہیں جو چیک وصولی میں ’’بے اوصولی‘‘کرتے ہیں۔جن کا کوئی نقصان نہیں ہوا وہ ناجائز ذرائع سے سب کچھ وصول کرتے ہیں۔۔۔۔سوچتا ہوں کہ یہ لوگ اللہ کی رحمت سے مایوس اس کے عذاب کو پھر سے دعوت دیتے ہیں۔۔۔سوچتا ہوں کہ اگر حکومت کی طرف سے امداد کی جگہ حکم نامہ آتا کہ ایک مہینے کے اندر اندر اپنے گھروں کی خود تعمیر کرو۔ورنہ کڑی سزادی جائے گی تو سب تعمیر کرتے آخر میں وہ بے بس رہ جاتے جن کے پاس نہ پیسہ ہے نہ چھت ڈالنے کی ٹن ،پھر ان کی پھر پور مدد کی جاتی۔۔۔
سوچتا ہوں کہ نقصانات کی فہرست بنانے والوں کی کڑی نگرانی کی جاتی۔بے قاعدگی کی انکشاف پر لکھنے والے اور لکھانے والے دونوں کو کڑی سزادی جاتی۔۔۔سوچتا ہوں کہ بحیثیت زمہ دار قوم ہم میں صداقت،امانت اور ایثار پیدا کیوں نہیں ہوتا۔۔۔سوچتا ہوں کہ اپنے آفسیروں کو تنگ کیا جاتا ہے ان کو کام کرنے دیا جاتا۔۔۔مگر کسی آفیسر کی غیر زمہ داری پر اس کو عبرتناک سزادی جاتی۔۔۔۔سوچتا ہوں کہ بات کرتے ہوئے ہمیں اللہ یاد آتا اور ہم اس کے عذاب سے ڈرتے۔۔۔گمنام شخص ہوں سوچتا ہوں تومیری کسی دیوار سے ایک پتھربھی نہیں گرا۔مگر امدادی چیکوں للچاتی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہوں۔سوچتا ہوں تو صوبائی اور وفاقی حکومت کو دعائیں دینے لگتا ہوں کہ چترال جیسے پسماندہ ضلع کو اہمیت دی گئی۔سوچتا ہوں تومیں فوج،پولیس،ضلعی حکومت کے اہلکاروں کو خوش قسمت کہتا ہوں کہ ان کو خدمت کرنے کا موقع ملتا ہے۔انسان کو اپنی صلاحتیں دیکھانے کا کم کم موقع ملتا ہے۔اگر موقع ملے تو یہ اس کی خوش قسمتی ہے۔معزز قارین انسان کو اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں چار ناموں سے پکارا’’عجول کہا۔قتور کہا۔جہول کہا اور ظالم کہا‘‘۔یہ سب ہماری کمزوریاں ہیں ہم عارضی ،ٹھوس اور نظر آنے والے معمولی فائدے پر نظریں گاڑ دیتے ہیں۔نظر نہ آنے والی بڑی نعمت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔اللہ کی رحمتیں،عزت،صحت،عافیت اور سکون ہمیں نظر نہیں آتے۔آگر ہمارے گھر گرتے،گھر والے مرکھپ جاتے تو ہم پیسے لے کے کیا کرتے۔خود اپنی ریڑھ کی ہڈی ناکارہ ہوچکی ہوتی ہم دائمی طورپر معذور ہوتے ۔پیسے لے کیا کرتے۔ہمارے بچوں میں سے ایک ہمارے سامنے تڑپ تڑپ کے مرچکے ہوتے تو ہم امداد لے کے کیا کرتے ۔گاؤں کے گاؤں نسیت نابود ہوجاتے ۔توپھر کس امداد کی ضرورت تھی۔مجھے اُس قلم پہ افسوس ہوتا ہے جو غلط فہرست بناتا ہے اس لکھنے والے پہ خیف ہے جو فہرست بناتے ہوئے سوچتا نہیں ہے۔کہ اس کے اوپر بڑا نگر ان اس کو دیکھ رہا ہے۔ اس سیاسی وابستگی ،زاتی تعلق ،اس فعالیت ،اس زیرکی اور اس چالاکی پر افسوس ہے۔جوہم سے غلط کام کرواتی ہے۔پتہ نہیں ہماراا صلاح کب ہوگا۔اب میں سکرٹریٹ روڈ سے گذرتا ہوں تو سرجھکا کے گذرتا ہوں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق