ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد…..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

……..34ملکی اتحاد ……..


بہت خوش آئیند خبر یہ ہے کہ 34اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔ تاہم ابھی ان ملکوں کے سربراہوں کا اجلاس نہیں بلایا گیا۔ ان ملکوں کے فوجی حکام کا مشترکہ اجلاس نہیں بلایا گیا۔ اتحاد کا اعلان ایک پریس ریلیز کے ذریعے کیا گیا ہے۔ اسلامی کانفرنس یا اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کے غیر فعال ہونے کے بعد کسی ایسی تنظیم کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ اتحاد کا ہیڈ کوارٹر سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں ہوگا۔ اور ابتدائی اعلان کے مطابق اسلامی ملکوں کا یہ فوجی اتحاد اسلامی دنیا میں دہشت گردی کے خلاف موثر کاروائی کر ے گا۔ اتحاد میں جن ملکوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں سعودی عرب، بحرین، ترکی، مصر ، کویت، ابو ظہبی، قطر، سوڈان، ملائشیا، الجزائر، نائجیریا، مراکش، افغانستان کو ملا کر افریقہ، ایشیاء اور خلیج کے 34ممالک کا نام لیا جا رہا ہے۔ شام، ایرا ن اور فلسطینی اتھارٹی سمیت اسرائیل مخالف یا امریکہ مخالف ممالک کو ابتدائی طو ر پر اتحاد کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ عالمی امور اور خطے میں سلامتی کے گھمبیر مسائل پر نظر رکھنے والے مبصرین اور تجزیہ نگاروں نے نئے اتحاد کے حوالے سے تین امور کو محل نظر ٹھرایا ہے ۔پہلی بات یہ ہے کہ القاعدہ، الشباب، داعش اور دیگر ناموں سے صومالیہ، شام، عراق، لیبیا، یمن، افغانستان اور پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں ماضی میں امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کی حلیف رہی ہیں۔ تینوں ممالک نے ان تنظیموں کو فنڈ دیا ہے۔ فوجی تربیت دی ہے۔ اور کھلم کھلا ان تنظیموں کی حمایت کی ہے۔ وائٹ ہاؤس اور ریاض کے شاہی محل میں ان تنظیموں کے لیڈروں کو ضیافتیں دی گئی ہیں۔ یہ سب کچھ اخبارات کی فائلوں میں محفوظ ہیں۔ اور ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ دوسری اہم بات جو محل نظر ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب، کویت، مصر، بحرین، ترکی اور قطر ایسے ممالک ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کے اتحادی ہیں۔ 1978ء سے اب تک اسلامی ملکوں کے خلاف دشمن کی تمام کاروائیوں میں حصہ دار رہ چکے ہیں۔ مصر نے مُرسی کی زیر قیادت آزادی کے صرف 2سال اتحاد سے باہر رہ کر گزرے۔ باقی سارا عرصہ اس اتحاد میں گزرا۔ تیسری اہم بات جو محل نظر ہے۔ وہ یہ ہے کہ شام، ایران اور فلسطینی اتھارٹی کی شمولیت کے بغیر اسلامی ملکوں کا اتحاد کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ خطے میں امریکی مفادات، اسرائیلی مفادات اور ان مفادات کے لئے کام کرنے والی قوتوں کے خلاف جنگ لڑے۔ اور اس جنگ میں کامیابی حاصل کرے۔ اگر اسلامی ملکوں کا فوجی اتحاد قائم ہو۔ 34ممالک اس میں شامل ہوں ۔ مگر شام کے خلاف بغاوت کرنے والی اسلام دشمن قوتوں کے مقابلے میں اس اتحاد کا کردار سوالیہ نشان رکھتا ہو تو اتحاد کا کیا فائدہ ہوگا؟ بعض مبصرین نے یہ بھی کہا ہے کہ 34ممالک کے اتحاد میں اگر ایران شامل نہیں ہوا تو اس کو امریکی او راسرائیلی کٹھ پتلی کا نام دیا جائیگا۔ایسے اتحاد سے اسلامی دنیا کو فائدہ پہنچنے کی بجائے نقصان ہی پہنچے گا۔ 1991ء میں افغانستان، سعودی عرب، کویت اور 8دیگر ملکوں پر امریکی بالادستی قائم ہونے کے نتیجے میں اسلامی کانفرس کی تنظیم او آئی سی کو غیر فعال کیا گیا۔ تو بعض تجزیہ نگاروں نے او آئی سی کو آرگنائزیشن آف امیوٹنٹ کنٹریز یعنی نامَر د ملکوں کی تنظیم کا نام دیا تھا۔ 34اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد میں اگر ایران، شام اور فلسطینی اتھارٹی کو شامل نہیں کیا گیا۔ تو اس کی حیثیت بھی اسلامی کانفرنس کی تنظیم جیسی رہ جائے گی۔ جس اتحاد کے ذریعے اسلامی ممالک اسرائیل اور امریکہ کے خلاف آواز اٹھانے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ اس اتحاد سے اسلامی ملکوں کو کیا فائدہ ہوگا؟؟ اس لئے موجودہ اتحاد کو اس وقت تک سنجیدہ کوشش قرار نہیں دیا جائیگا۔ جب تک اس میں امریکہ مخا لف اور اسرائیل مخالف قوتوں کو شامل نہ کیا جائے۔ شام، افغانستان، عراق اور یمن میں جو لوگ حکومت کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔ وہ امریکہ، اسرائیل اور دشمن ملکوں کو راستہ دینے کے لئے بغاوت کر رہے ہیں۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت دشمنوں کے خلاف جوان مردی دکھا رہی ہے۔ اس لیے 34اسلامی ملکوں کے اتحاد کا مرکزدمشق ہونا چاہیئے۔ اور اسکی قیادت شام کے صدر بشار الاسد کے پاس ہونی چاہیئے۔ تاکہ ایران اور فلسطینی اتھارٹی اس میں فعال کردار ادا کر سکیں۔ ایسا نہ ہوا تو یہ اتحاد عالم اسلام کے کسی کام نہیں آئے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق