ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دا دبیدا د……پشاور میں فا رمیسی کو نسل

……ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ……



حیا ت آبا د میں شو کت خا نم کینسر ہسپتال کا افتتاح ہو نے کے سا تھ اس جدید تر ین ہسپتال میں جن اہم شعبوں نے کا م شروع کیا ہے۔ان میں پیتھالوجی ، کیمو تھراپی اور دیگر شعبوں کے علاوہ فا ر میسی کا شعبہ بھی شا مل ہے ۔عمران خان اپنے ہسپتال کے لئے بھی فا ر میسی کوبے حد اہمیت دیتے ہیں ۔خیبر پختو نخوا کے سرکا ری ہسپتالوں کے لئے بھی فا رمیسی کوبے حد اہم تصور کر تے ہیں ۔شو کت یو سفزئی اور شہرام خان ترہ کئی نے صحت کے وزیر کا حلف اُٹھا یا تو دو نو ں کو صحت کے تمام شعبوں پر جا مع بر یفنگ دی گئی ۔اس بر یفنگ میں محکمہ صحت کے چار ادا روں کاذکر نہیں ہو ا ۔ان میں ہیلتھ ریگو لیٹری اتھا رٹی، سرحد فا ر میسی کو نسل ، سرحد پییرامیڈیکل کو نسل اور سرحد نر سنگ کو نسل شامل تھے ۔شو کت یو سفزئی سبکدوش ہو ئے ۔انہوں نے ان چار اداروں کی خبر نہیں لی ۔شہرام خان ترہ کئی سینئر و زیر بن گئے اُن کو ان چار اداروں کا پتہ نہیں چلا ۔ڈرگز ایکٹ اور ڈرگز ریگو لیشن کا پتہ نہیں چلا۔صو با ئی حکو مت کو یہ بھی پتہ نہیں کہ اس صوبے کے درالحکو مت پشاور میں شعبہ باز ار کے اندر چنا ر بلڈنگ میں عما رت کرائے پر لیکر اس کے چند کمروں میں کئی سالوں سے فا رمیسی کو نسل کام کر رہی ہے ۔یہ کو نسل اسمبلی ایکٹ کے تحت بنا ئی گئی تھی ۔اس کا کام فا ر میسی میں نو جوانوں کو تر بیت دینا اور امتحان لیکر سر ٹیفکیٹ مہیا کر نا تھا۔ تر بیت کے لئے دو شرائط رکھی گئی تھیں ۔کو الیفا ئیڈ ڈسپنسر کا سر ٹیفکیٹ ہو یا فا رمیسی میں عملی کام کا تین سا لہ تجربہ رکھتا ہو ۔2001 ء سے پہلے کا کو ئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔001 2ء میں فارمیسی سر ٹیفکیٹ ” سی ” کا امتحان دینے والوں میں چھو لے ، مصالحے وا لے ، بس کنڈکٹر اور رکشہ ڈرائیور بھی شامل تھے ۔اس امتحان کی بنیاد پر جو سر ٹیفکیٹ جاری کئے گئے۔ان میں غیر متعلقہ لو گوں نے اپنے سر ٹیفکیٹ پا نچ سالوں کے اندر حاصل کئے ۔جو فا رمسِسٹ اور ڈسپنسر تھے۔اُن کے سر ٹیفکیٹ 2010 ء تک اُن کو نہیں ملے ۔2001 ء سے 2013ء تک سرحد فا رمیسی کو نسل نے کو ئی امتحان نہیں لیا۔حالانکہ ” سی “کیٹگیری پاس کر نے والوں کے لئے ” بی” کیٹگیری کا امتحان ہو نا چاہیے تھا۔ اور ایکٹ کے تحت ہر سال یہ امتحانات منعقد ہونے چاہیئے تھے۔ مگر پرانی کہاوت ہے” یہاں کون گنتا ہے” ۔ سرحد فامیسی کونسل وہ ادارہ ہے جسکی فائلوں پر منوں کے حساب سے گرد اور مٹی جمی ہوئی ہے۔ 2013ء میں شوکت یوسفزئی وزیر تعلیم تھے۔ اس سال جولائی کے مہینے میں سرحد فامیسی کونسل نے امتحانات کا اعلان کیا۔ صوبہ بھر سے چھولے اور مصالحہ والوں سمیت 10ہزار 6سو امیدوروں نے کیٹگیری “سی ” کا امتحان دیا۔ 80فیصد کو پاس کیا گیا۔ 20فیصد کا نتیجہ روک لیا گیا۔ انور گل پاس ہواتھا۔ اس کو تین سالوں میں سر ٹیفکیٹ نہیں ملا۔ محراب گل کا نتیجہ روک لیا گیا تھا۔ 3سالوں میں اس کو یہ نہیں بتایا گیا۔ کہ تمہارا نتیجہ کیوں روک لیا گیا ہے۔ قانونی طور پر 3ہزار روپے کا چالان بھرنے کے بعد سر ٹیفکیٹ ملنا چاہیئے۔ لیکن چالان بھرنے کے باوجود بٹگرام، کوہستان، ڈی آئی خان اور چترال سے پشاور آنے والے امیدواروں کو اگلے ماہ آنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ یہ اگلا مہینہ اگلا سال بن جاتا ہے۔ دوبئی، ابو ظہبی، سعودی عرب اور ملائشیاء میں پشاور کے ایسے نوجوانوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ جو پندرہ یا بیس ہزار روپے میں سرحد فارمیسی کونسل کا سر ٹیفکیٹ لے کر گئے تھے۔ بعض کی نوکری کامیاب ہوئی۔ بعض کو دو ماہ بعد فارمیسی سے باہر لے جا کر مزدور، مالی یا چوکیدار لگا یا گیا۔ خدا نہ کرے کہ کوئی تگڑا آسامی سرحد فارمیسی کونسل سے سر ٹیفکیٹ نکلوا کر شوکت خانم کینسر ہسپتال میں فامیسی کی پوسٹ کے لئے اپلائی کرے۔ اور جعل سازی میں پکڑا جائے۔ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔ ہماری صوبائی حکومت اگر عوام کے مفاد میں تحقیقات نہیں کرتی تو بے شک نہ کرے۔ شوکت خانم ہسپتال کو دو نمبر لوگوں سے پاک کرنے کے لئے تحقیقات کرے کہ 2013ء اور 2016ء کے درمیانی عرصے میں سرحد فامیسی کونسل نے کتنے سرٹیفکیٹ جاری کئے؟ جن کو سر ٹیفکیٹ جاری کئے ۔ انکی بنیادی تعلیمی قابلیت کیا تھی ؟ جن کے نتائج روک لئے گئے انکا قصور کیا تھا؟ یہ بات بھی تحقیق طلب ہے کہ کیا سرحد فارمیسی کونسل کے دفتر میں کیٹگیری “سی”اور کیٹگیری”بی” کے امتحانات اور سر ٹیفکیٹ کا کوئی ریکارڈ دستیاب ہے یا نہیں؟ صوبائی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک، سینئر وزیر شہرام خان ترہ کئی اور صوبائی محتسب کو اس پر توجہ دینی چاہیئے۔ ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کو اس پر غور کرنا چاہیئے۔ فارمیسی جیسے اہم شعبے کو شوکت خانم کینسر ہسپتال میں سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت اس کو ردّی کی ٹوکری میں کیوں پھینکتی ہے۔ بقل غالب:
ٍٍٍ ہر بولہوس نے حسن پرستی شعار کی
اب آبروئے شیوہ اہل نظر گئی

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق