پروفیسر شفیق احمد

چترال امن کا گہوارہ کب تک؟

دُنیا میں زندہ قومیں لسانی، تہذیبی ،تمدنی اورثقافتی حوالےسے اپنی پہچان رکھتے ہیں ،جس طرح کیلاش قوم ا پنی قدیم تہذیب وتمدن کو اپناتے ہوے فخر محسوس کرتی ہے اور اُسی عکاسی کی بناء پر پوری دُنیا میں پہچان رکھتی ہیں ۔ اگر انساں کوشش کرے تو اپنی روایات وثقافت کو برقرارکھنے کے ساتھ ساتھ جدید دُینا کے صفوں میں مقابلہ کےلئے شامل ہو سکتا ہے۔اگر ایک روایت پسند کیلاش عورت اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئےجہاز اڑا سکتی ہے،تو اسی طرح ہمیں بھی اپنے قدیم روایتی بودوباش ، کہو طرز کے مکانات ،چُغہ ،پکول اور روایت و ثقافت کو برقرار رکھ کر،1 اس میں موزوں اور مثبت تبدیلی لاکر ،جدید علوم کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔ مسلمان روایت کےمطابق طرز حکمرانی کے رموز سے واقف قوم تھی،لیکن آج ہماری بےجا جدت پسندی ،اسلامی تعلیمات سے دُوری ،اسلامی روایات ،رسوم ورواج اور بُودوباش سے انحراف اور اپنی اسلامی و لسانی پہچان عربی ،فارسی اوراس خطے میں خالص مسلمان مُبلغین کی زبان اُردو سے نفرت کی وجہ سےہم تفرقہ کے شکار ہو کر مشکل نہج تک پہنچ چُکے ہیں۔ آج ہم بحئثیت پاکستانی قوم مکمل طور پر ذہنی اور جسمانی لحاظ سے غلام بن کر اپنی حیئثتوں اور صلاحیتوں کومکمل طور پر کھو چکے ہیں ۔مسلمان قوم آج اسلامی تعلیمات سے دُوری اور اسلامی روایات سے انحراف کی بناء پرُدنیا میں بد ترین ذہنی غلامی کے ساتھ ساتھ دہشت گرد قوم کے طور پہچانی جاتی ہے ،کیونکہ یہ مسلمان قوم کا شیوہ ہر گز نہیں ہے ۔آج مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہےکہ ہم مسلمانوں کے سائنسی ترقی کی مثالیں دینے کے بجاے مغرب کی مثالیں دیتے رہتے ہیں اور ہمارے نونہال یہ یکسر بھول چکے ہیں کہ ہارون الرشید کے دور میں کرہء ارض کی پیمائش کی گئی تھی، جوآج کے ترقی یافتہ دورمیں جدید آلات کے ذریعے پیمائش کی گئی تو معمولی فرق پایا گیا ۔ ہم اپنےدرخشان ماضی کو یکسر بھول چکے ہیں اور مسلمان سلطنتیں سائنسی و جدید علوم کے مراکز رہ چکے ہیں اورمسلمان سائنسدانوں کے اس میدان میں ایک الگ تاریخی حیثئت اور منفرد مقام صرف مسلمان قوم کواس دور میں حاصل تھی۔ہم بطور مسلمان قوم ،پاکستان حاصل کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہم ایک الگ لسانی ،مذہبی،تاریخی ، روایاتی اور تمدنی حثیت کے مالک الگ قوم ہیں۔ ہم ہندوں کے ساتھ اُنکے ماحول میں اسلامی تعلیمات اور روایات کے مطابق آزادی کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتے ہیں ،اسی روشنی میں ، ہمارے اسلاف نے دو قومی نظریہ کے تحت بڑی قربانیاں دے کرپاکستان اس لئے نہیں بناے تھےکہ دوبارہ جاکر ہندوں اور فرنگیوں کی منتیں کرتے رہے ۔انگریز قوم نے مغل حکمرانوں کی عیاشیوں اوربے فکری کو دیکھ کرغلامی کے جراثیم کوہمارے خون میں بڑی کاریگری کے ساتھ شامل کر چکی ہے،اور یہ روگ آج کل بڑی شدت اختیار کر چکی ہے۔اس وجہ سے ہم آج تک اپنے پاوں پر کھڑے ہونے کے بجاے دوسروں کا سھار ا لے کرسرگردا ں پھرتے رہتے ہیں ۔ہمیں بطور پاکستانی قوم جدید دور میں دُنیا کے لئے مثال و نمونہ بنے کے بجائےروز بہ روز تباہی و بربادی کی طرف مائل دیکھائی دے رہے ہیں ۔اپنے لسانی ،مذہبی،ذہنی،معدنی اور جغرافیائی صلاحیتوں سے بے خبر دُنیا میں جینا چاہتے ہیں، اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے سے قاصر ہیں اور اپنی روایتی اور ثقافتی طور کو نظر انداز کر کے مغربی روایتوں پر مشتمل، منصوبہ بندی کے تحت اداروں کو چلانا چاہتے ہیں، جب تک ہم اپنے ادروں کو روایاتی ،تہذیبی ،ثقافتی ،مذہنی اور لِسانی حئیثیت کو مد نظررکھ کرمنصوبہ بندی کے تحت نہیں چلائننگے، تو ہمارا ملک خسارے میں رہے گا ۔ہم کسی بیرون ملک ایک مہینےسیر کے لئے جاتے ہیں، تو واپسی پر اپنے پیارے ملک کو بہترین اسلامی ملک بنانے کے بجاے راتوں رات لندن اور پیرس بنانا چاہتے ہیں اور مغرب کے غیر اسلامی روایاتی نظام کو فوراًوطن عزیز کے اداروں میں ہر قیمت میں لاگو کرنا چاہتے ہیں ۔حقیقت میں منصوبہ بندی کرتے وقت اسی علاقے کے زبان ،مذہب ،ثقافت،روایات ،تاریخ ،جغرافیہ ،زراعت ، معیشت اور اور ان باشندوں کےفنی و ادبی دلچسپی کو مد نظررکھ کر اس ماحول کے مطابق اُنکے تقدیر کا فیصلہ کیا جاتا ہے،اسی بناء پر غیر ملکی نظام ان اُصولوں کے تحت یقیناً مغرب میں کامیاب ہونگے ۔لیکن مشرق میں ان منصوبوں کو انہی اُصولوں کے مطابق پرکھے بے غیر ہُو بہوہمارے اداروں پر لاگو کیا جاتا ہے، تو اُسےہمیں خاطر خواہ نتائج اخذکرنے میں ناکامی کا سامنا ہوتا ہے ۔اخیر کار ان ناکامیوں اور کوتاہیوں کو پاکستان اور اسکے اداروں کو ذمہ دار ٹھرانے میں دیر نہیں لگاتے ہیں ۔میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم تاریخ سے عبرت لینے والے قوم نہیں ہیں۔ مغل حکمرانوں کی انگریز نوازی اوربےجا جدت پسندی نے انہیں ڈبو دیئے، اور آج ہم بھی انہی طرز پر وطن عزیز کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو وطن عزیزاور انکے باسیوں کے لئے مہلک ثابت ہو گی۔ہم جدید دُنیا کےایک ایسے خطے میں بس رہے ہیں ،جہاں ہم جدید علوم ہی کے ذریعے سے انکا مقابلہ کرکے جی سکتے ہیں، ورنہ بے شمار پیچیدگیوں کا سامنا ہوگا ۔ہمیں اپنی زبان اُردو کو ٹیکنالوجی کی زبان بنانے،تمام جدید علوم کواس زبان میں منتقل کرنےاوراس کے لئے دارالتراجم بنانےکی ضرورت ہے۔ہمیں اپنی زبان کو اس سوچ کے ساتھ ترقی دینے کی ضرورت ہے ،تاکہ آئندہ انے والی نسل کے لئے اردو بین الاقوامی زبان بن جائےگی۔کیونکہ اپنی قدیم روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ،اس خطے کےزندہ قومیں چین ، کوریا،جاپان ، روس ، ایران اور دیگر ممالک ،اپنے تہذیب وتمدن ،روایات و ثقافت کو مغرب زدگی سے بچا کر ترقی کی اوج تک پہنچے کی کئی مثالیں قائم کر چکے ہیں۔ہم خدا کے فضل سے ،طرز حکمرانی کے رموز سے واقف اور اسلامی وایات وثقافت سےبھر پورقوم ہیں ۔لہذا ہمیں اپنی تمام تر سائنسی اور جدید علوم کو قرآن پاک کی روشنی میں پرکھنےکے لئے باقاعدہ تجربہ گاہیں قائم کر کے ،جدیدعلوم کے ساتھ ہم آہنگ بنانے کی ضرورت ہے۔کیونکہ جدید علوم کے ساتھ ہم آہنگی نہ ہونے وجہ سے انسان اپنی زبان ،مذہب، ملک اور روایات کو بے کارچیز سمجھ کر نفرت شروغ کرتاہے ،تواس عمل کی وجہ سے انساں کے زوال کا دن بھی آہستہ آہستہ شروغ ہو جاتا ہے ،نفرت کی یہ بیماری بے حس اور کمزور قوموں کو بہت جلد اپنے لپیٹ میں لے کر سب میں یکساں طور پر پھیل جاتی ہے۔جب تک ہم اس خطرناک ذہنی غلامی کے خول سے باہر نکل کر ، اپنے وطن عزیز کو اسلامی روایات کے مطابق نہیں چلائنگے اور اُردو زبان کی قومی و سرکاری حیثیت کو تسلیم نہیں کرینگے، تو اس وقت تک ہم اس غیر منصفانہ ماحول میں چین محسو س نہیں کر پائیں گے۔لسانی ،مذہبی ،تہذیبی وثقافتی ،اور روایاتی حیثیت کو کھونے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چند خوفناک تاریخی شواہد کو مختصرا ً پیش کرنے کے بعد اصل موضوع کی طرف آتے ہیں ۔


غیر شرعی روایات کی نمو میں الیکٹرانک میڈیا(برقی ابلاغ)کا کردار :

چترا ل کےباشندے قدیم آیام سےپہاڑوں میں گھری ہوئی وادی میں، انتہائ کم بیرونی مداخلت کی بناء پراور اپنی محصوص جغرافیہ کی وجہ سے ایک روایاتی زندگی گزار رہے ہیں ،اُنکے تہذیب وتمدن میں مُختلف مذاہب کے اثرات کی عکس بھی نظر اتی رہتی ہے ۔چونکہ موجودہ دور میں اسلامی روایات اسکو راس آئی ہے ، آج خدا کے فضل سے اسلامی اثرات کے حامل معاشرے سےان باشندوں کی زندگی کے آیام گزر رہے ہیں ۔عصر حاضر کےاس برق رفتار ترقیاتی وٹیکنالوجی کےدور میں چترالی معاشرہ الیکٹرانک میڈیا کی بر مار و یلغار کی وجہ سے عیر اسلامی رسوم و رواج کو اپنا رہا ہے ۔ہمارے معاشرے میں دس بارہ سالوں کے دوران ایک نہایت غیر موزوں اوراسلامی روایات کے برعکس نسل کو نمو پاتے ہوے ہم دیکھ رہے ہیں ۔بعض لوگ اس دور کے تیز رفتار ترقی کے بھیانک پہلوں کو دیکھنےاور محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔اپنی بے چینی اور پریشانی کا اظہارمختلف پیرائے میں پیش کرتے ہوے ،لاواری سُرنگ کو ذمہ دار ٹھرانا شروغ کر چُکے ہیں ۔آپ یاد رکھے لواری ٹنل اپنی تیاری کے آخری مرحلے میں ہے،اور ہمارے معاشرے میں بڑی سُرغت کے ساتھ غیر شرعی رسومات شامل ہو کر معاشرے کو کافی حد تک متاثر کر چکے ہیں ۔ ہم حقیقت سے انحراف اور تما م ذاتی غلطیوں اور کوتاہیوں میں پاکستان اور دوسروں کو ذمہ دار ٹھرانے کےعادی باشندے ہیں اور یہ عادت ،آہستہ آہستہ ملک کے مصنوعات سے نفرت،اسلامی تعلیمات سے دوری اور بے جا معرب پسندی کی کمزور پہلو کی وجہ سے ،آج نوجوان نسل میں روایتی حُب الوطنی کا فقدان نظر اتا ہے۔اس کمزوری نے ملک کے روشن رخ کو دیکھانے میں ناکامی کی وجہ سے ،آج دُنیا کے جس کونے میں بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو پاکستان کا نام اسی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے۔ان بُرائیوں اور کمزوریوں کو پروان چڑھانے میں وطن عزیز کی کوئی غلطی نہیں ہے،البتہ اس غلطی کا آلہ اپکے ہاتھ میں ریموٹ کنٹرول ، نیٹ اور موبائل کی شکل مِیں موجود ہے۔ان سہولیات میں سب سے خطرناک ،انڈیا اور مغرب کی غیر اسلامی قصے کہانیوں پر مبنی ڈرامے ، فلمیں اورفخش ویب سائیڈز ہیں ،انکو آپ اپنے خاندان کے ساتھ ٹی وی میں سارا دن بُت کی عبادت اوراسکی منتیں کرتے ہوے دیکھتے رہتے ہیں اور معصوم نوجوان نسل اپنے گھر میں ان سرگرمیوں کو دیکھ کر ان غیر شرغی پہلوں کو جائز قرار دیتے ہیں ،اسی طرح بے شمار غیر اسلامی روایات غیر محسوس طریقےسے ہمارے رسوم ورواج کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں ٹنل کھلنے کے ساتھ ساتھ سہولیات تک رسائیِ کے علاوہ بے شمار بُرائیا ں بھی جنم لینگے، اسکی سد باب ممکن نہیں ہوگا ۔ٹنل سے چترال کی تقدیر بدل جاے گی ،معیار زندگی میں تبدیلی ائےگی انساں خوب سے خوب تر کی کوشش میں اپنا سب کچھ کھو دےگا۔مادہ پرستی حد سے بڑھ جاے گی ہماری عزت اور سب کچھ پیسہ ہی ہو گا ۔ ہم تمام رسوم و رواج کو ثانوی حیثیت دے کر روایات و ثقافت کو اپنی نظروں کےسامنے دم توڑتے ہوے دیکھیں گے، اس وقت اس نتیجے میں پیدا ہونے والے پیچیدگیوں کےسد باب کی تمام کوشش بے سود ثابت ہونگے۔ان پیچیدگیوں کےروک تھام کا حل ریموٹ کنٹرول ،نیٹ اور موبائل فون کے شکل میں ہمارے ہاتھ میں ہیں ،اسکا جائز طریقئہ استعمال کی حوصلہ آفزائی کی جاے اگر ہماری روایات کے عین مطابق اگر یہ برقی ابلاغ کے آلات استعمال نہیں ہو رہے ہیں ،اس پر پابندی لگائی جائے،اسکی روک تھام کرے شاید سُرنگ کے تکمیل تک یہ قبیح رسومات معاشرے میں شامل ہوکرسند حاصیل نہ کرے۔لواری سُرنگ ایک عظیم منصوبہ ہے، اسے ہم بُنیادی سہولیات سے آراستہ ہونگے، ملک کے دیگر علاقوں کے برابر حقوق کے مالک شہری ہونگے۔اس خوشی میں مگن رہ کر، اس بناء پر جنم لینے والےان تمام تربے راہ روی کو لاواری سُرنگ کوہی قرار دینگے۔ لیکن یہ یاد رکھےہم اپنی کوتاہیوں کو دوسروں پر ڈالنے کے عادی لوگ ہیں، تو اس وقت ماضی کی طرف بھی، ذرا جھانک کر دیکھوکہ اسکے مضر اثرات اپکو نظر آئننگے۔ اس بے راہ روی بے حیائی اور نفسانفسی کے شکار معاشرے کا ذمہ دار صرف لواری سُرنگ ہی نہیں، بلکہ الیکٹرانک میڈیا اور بے انتہا مغرب نوازی کا بھی اہم کرداراپکو نظر ائے گا ۔میرے اندازے کے مطابق الیکٹرانک میڈیا نے انڈیا کے ٹی۔وی ڈراموں کو قرار دیتاہوں ،کیونکہ عین خبروں کے وقت حالات حاضرہ کے پروگراموں اور خبر ناموں کےدوران ایسے دلچسپ اور تذ بذب (سپنس) ڈرامے چلاتے ہیں کہ انکو دیکھنے کے لئے سارے خاندان کے افراد ، اپنے ملکی حالات سے بے خبر (پاکستانو کیا خبر شینی رے) غیر ملک کے فخش ،مشرکانہ اور غیر اسلامی رسوم ورواج پرمبنی فلمیں اور ڈرامےاپنے پورے خاندان اور معصوم نونہالوں سمیت دیکھتے رہتے ہیں ،پھر نوجوان نسل کو برا بلا کہنا شروغ کرتے ہیں ۔حلانکہ اس میں قصور وار والدین ہی ہوتے ہیں ۔اسی طرح لاوری ٹنل سے بے شمار فوائد کے علاوہ نئے جنم لینے والے مسائل اور معاشرتی برائیوں کی روک تھام کو ہم بازور بازو کر سکتے ہیں، لیکن میڈیا کے منفی پہلو سے پیدا ہونے والے نفسیاتی اور مہلک بیماریوں کا علاج اورروک تھام طاقت کے زور سے ممکن نہیں ہوگا۔ ہم ہر کام بغیر تربیت کے شروغ کرتے ہیں ،ہمارے معاشرے میں ہر نئے شامل ہونے والی چیزوں کے بارے میں اسکے مثبت اور منفی پہلوں پر غورور کرنا ہوگا، کیونکہ گھر کا سربراہ ان نازک پہلوں کو خاطر میں لائے بغیر اپناتے رہتے ہیں، تو ان پہلوں کو سند حاصیل ہوتی ہے۔تب جاکر یہ چیزیں ہمارے تہذیب و معاشرت کے حصہ بن جاتے ہیں اور اسکی مثالیں ہمارے معاشرے میں روز بروز پیش اتے رہتے ہیں اسکوتقویت ملتی ہے اور ہر ناجائز کام کو جائز تصور کرتے رہتے ہیں ،پھر کوئی برائی برائی نہیں رہتی بلکہ جدیدیت کی شکل میں اسکو قبولیت کی شرف حاصیل ہوتی ہے ۔اسکے لئے ہمارے مغل غافل تاجداروں کے غفلت کی مثالیں ہمارے سامنے بھرے پڑے ہیں ان میں سےایک مثال آج کے ماحول کی مناسبت سے دینا چاہتا ہوں ۔مغل حکمران جدت پسندی کی انتہا کر کے اپنی بچیوں کوشہر کے امراء اور عمائدین ، جدید دور کے مطابق تہذیب سے ہم آہنگ کرنےاور ناچ گانا سیکھانے کے لئے طوائف خانے بھیجا کرتے تھے ،تاکہ انکے بچیاں جدید تہذیب سیکھ کر عصر حاضر کا مقابلہ کر سکےاور انکا انجام اپکے سامنے ہے ،ان عظیم حکمران خاندان کا نام لینے والا آج کوئی موجود نہیں ہے ۔کیا ہم آج اپنے بچوں کوجدید تہذیب سیکھانے کے لئے قیمتی قیمتی موبائیل اور لیب ٹاپ تھما دیتے ہیں ؟اور کیا ان جدید آلات کے منفی پہلوں میں طوائف خانوں سے زیادہ بھیانک اور خوفناک عکس نظر نہیں آرہی ہے؟کیا ہم اج سے موجودہ دور میں جدید دور کے ساتھ ہم آہنگی کی دوڑ میں وہی بھیانک رخ کو دوبارہ دہرا نہیں رہے ہیں ؟اور کیا کسی اوربڑے حادثے کے منتظر رہنگے اور کیا تاریخ سے عبرت نہیں لینگے؟کیا آپ کوئی قیمتی موبائیل اور لپ ٹاپ اپنے بچوں کوجدید دور کے تیز ترین تدریسی مواد کے طورپر تھما دیتے وقت اسکی صحیح استعمال کے بارے میں تاکید کرتے ہیں ؟کہ مرا بچہ /بچی آپ اس جدید چیز کو اپنی تعلیی مقاصد کےعلاوہ کسی ناجائز کاموں میں استعمال نہ کرے ۔کیا آپ اپنے بچوں اوربچیوں کے موبائیل میں مسیجز، لیب ٹاپ میں فوٹو ، فیس بُک اور کمروں کا اچانک معائنہ کرنے کا حق و ہمت رکھ سکتے ہو؟اب ان چند سوالات کی روشنی میں ان تمام باریک پہلوں پر سنجیدگی کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔عمل نہ کرنے کی صورت میں یہ تمام منفی پہلو آہستہ آہستہ ہمارے روایات و ثقافت کے حصہ بن جاتے ہیں، جو ہمارے روحانی اور روایاتی اصولوں کے خلاف ہیں اسکی روک تھآم لازمی ہے۔اس وجہ سے اپنی روایات و ثقافت اور لسانی وروحانی اہمیت کو بروئے کار لانا پڑے گا، تاکہ وطن عزیز کو مشکلات سے نکال سکیں ،اورالیکٹرانک میڈیا کے صحیح اصولوں کے مطابق استعمال کی تربیت دینے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے پر منفی اثرات مرتب نہ ہو۔

چترال سے باہر شادیوں کا کھو معاشرےپر منفی اثرات:

لواری سُرنگ کے علاوہ چترال سے باہر شادیوں کے رواج کا عام ہونا بھی، ہماری تہذیب وثقافت کو متاثر کر چکے ہیں ۔نہایت کم عمری میں بلا تحقیق اپنی بچیوں کی چترال سے باہر رشتہ کرانےسے قسم قسم کی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں اور دیگر برائیوں کے بارے میں بلاتحقیق و ثبوت اورثوق کے ساتھ رائے نہیں دے سکتے ہیں ۔چترال اور دیگر معاشرے کی شادی بیاہ کے طریقہ کار اور رسوم راوج میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔مثال کے طور پر چترال کے کہو معاشرے میں شادی بیاہ کے موقع پر زیورات کواتنی اہمیت نہیں دی جاتی ہے ،البتہ گاوں والوں کی دعوت کےلئے دُلہا والوں کی طرف سے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے،پرانے زمانے میں روایات کے مطابق چالیس پچاس تک بھی بڑے بڑے ٹوکریوں (ویشکو بار)کے حساب سے پکا پکایا کھانایا زندہ بیل بکریاں بھی دُلہا کی طرف سے دُلہن کے گھر لایا جاتا تھا ،اوران اشیاء کو گاوں والوں میں تقسیم کرتے تھے ۔اُس زمانے میں جنس کی اہمیت تھی اور آج پیسوں اور مادہ پرستی کا دور دورا ہے۔آجکل ان تمام انتظات کے بجاے دُلہاکی طرف سے آسانی کے خاطر معقول پیسہ گاوں اور خاندان والوں کے حساب دعوت طغام کے لئے لایا جاتا ہے۔اجکل چترال کے سیدھے سادھے روایات کے مالک باشندے ، چترال سے باہر رشتوں کا سلسلہ اچانک شروغ کرچکے ہیں۔ کہو معاشرے کی روایات کے مطابق جب گاوں والوں کی دعوت کے لئے رقم مانگا جاتا ہے، تو اسی روایات و رسوم و رواج سے ناواقف رشتہ دار، اس فعل کوطعنہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، حلانکہ یہ ایک زندہ اور روایات سے بھر پور قوم کے معاشرے کی روایت میں شامل ہے، جورشتہ طے کرتے وقت دعوت طغام کے لئے مطالبےِ میں شامل کرتے ہیں۔ا س سےبھی بڑ ھ کر قبیح فعل دیگر قبیلوں میں کسی اور شکل میں بے شمار انداز میں موجود ہیں۔ آج یہ غیر معا شرے کے غیرموزوں رسوم ورواج ہماری ثقافت کو بہت زیادہ متاثر کر چکی ہیں۔ انکی مشقیں ابھی ہمارے معاشرے بڑے زور وشورکے ساتھ اپنی اثرات دیکھا رہی ہیں ۔ ۔مجھے نشیبی چترال میں شادی کے موقع پر دُلہاکی طرف سے بطور مہمان دیگر مہمانوں کے ہمراہ شرکت کر نے کا اتفاق ہوا ۔نکاح کے وقت تند وتیز جملوں کا تبادلہ شروغ ہوا ،توجہ دینےپر معلوم ہوا کہ حق مہر نقد پاکستانی کے بجائے سونے کے حساب سے مقر ر کرنے پر دلائل و براہین سے قائیل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی ۔دُلہا والوں کی طرف سے بھی اپنی دلائیل سے ثابت کرنے کی کوشش میں محفل میں تندو تیز جملوں کے تبادے میں شدت آرہی تھی ۔دُلہاوالوں کا کہنا تھا، یہ نئی روایت ہے ہمارے کہو معاشرے کا حصہ نہیں ہے،دُلہن والے کہ رہے تھے ،نہیں یہ روایت بن گئی ہے میری بڑی بیٹی کی اسی حساب مہر مقر ر کر چکے ہیں اور زید ،بکر اور عمرکے ہاں بھی یہی کچھ ہوا تھا نئی روایت کی پوجاری اپنی نئی روایت کو لاگو کرنے کے خاطر اس معاملے میں مزید بحث نہ کرنے کا حکم صادر فرمایا ! تو دُلہا کی طرف سے حاجی صاحب موقع کی نزاکت کو دیکھ کر بڑے دلبرداشتہ ہوگئے اور تما م لوگوں کو مخاطب کرتے ہو ے اس نے فرمایا!کہ میں سونے کی وجہ سے پریشان نہین ہو رہا ہوں ،اپنی بہو کے لئے اسے بھی زیادہ زیورات بنا کر دونگا ،لیکن یہ روایت ہمارے چترال کے کہو معاشرے کی روایت نہیں ہے،یہ سلسلہ انے والی نسل کے لئے ایک روایت بن جائے گی ،لہذا آپ لوگ ضد کر رہے ہیں آپ لوگوں کی مرضی میں کیا کر سکتا ہوں ؟ لہذا امقررہ حد سے دوگنا کرکے مہر مقرر کردے ۔بیرون اور اندرون چترال رشتوں کے حوالے سے یہ چند باتیں کافی نہیں ہیں۔ اسکے علاوہ بڑے باریک باریک پہلوں جنکو ہم محسوس نہیں کر سکتے ہیں ،جو ہمارے معاشرے میں روز بہ روز جنم لیتے رہتے ہیں ۔ہمارے چترال کے کہو معاشرے کے باشندے ایک خاص قانون کے تحت اپنی غم اور خوشی اپنے حالات اور استطاعت کے مطابق مناتے رہتے ہیں۔لہذابیرونی روایات کو شامل کرنے اور اپنانے کے بجائے اپنی روایات کوموجودہ جدید تقاضوں کے تحت موزوں تبدیلی لاکر منانے کی ضرورت ہے۔تاکہ اس میں جدت و تبدیلی لے آئے،تاکہ یہ فعل قابل تعریف عمل بن کر ہماری روایت میں شامل ہو جائے ۔اسکے لئے بہتر یہی ہوگا کہ رشتے والوں کو کہو معاشرے کےروایات اور رسوم ورواج کے بارے میں آگہی دے کر اسکو قبول اور عمل کرنے کی پابند بنایا جاے اور مکمل چھان بین کے بعد معتبر خاندان میں شادیا ںکروائی جائے،تاکہ اس معاشرے میں اچھی روایات جنم لے لیں ۔اسکی ایک زندہ مثال آفعان مہاجرین کی شکل میں موجود ہے، اپنی ہجرت کے مشکل ترین وقت میں بھی اپنی بچیوں کو غیر معاشرے میں رشتوں سے گریز کیا ۔
ہماری تہذیب ، ثقافت و روایات میں نئے داخل ہونے والے پیچیدگیوں کی روک تھام کرنا بھی ممکن ہے۔ تاکہ ہمیں ٹنل کے تکمیل سے قبل ہی اپنی روایت و ثقافت کی بچاو نہایت ضروری ہے ،ورنہ اس خطے میں آریائی نسل کی طرح کسی اور روپ میں کسی دوسری نسل کے لوگ زیریں چترال اور بالائی چترال والوں کوآپس میں لڑا کر اس خطے میں اپنی قدم مظبوظ نہ کر ے۔اس سلسلے میں آفغانی قوم کی طرح اپنے معاشرے کے اندر اپنی روایات اور ثقافت کو ترجیح دے کر شادیوں کی رواج کو فروغ دی جائے ۔ایک اندازے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اپر چترال میں اپنی بچیوں سے رشتہ ڈھونڈنے کے بجاے پنجاب میں رشتوں کی بلا تحقیق ترجیح دیتے ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق اپنی بچیوں کی شادیاں ارضی جنت چترال کے حسین میں وادیوں میں کراکر ، وہاں سے پیاری شہزادیوں کو اپنے گھروں کے بہو بنائے ،تاکہ ہم اپنی روایت اور ثقافت کے مطابق روز مرہ زندگی میں اسانی کے ساتھ ساتھ روایت و ثقافت کی تحفظ بھی ممکن ہوسکے ۔انہی رشتوں کی وجہ سے ہم میں باہمی اتحاد واتفاق قائم ہو جائے گی اور قبولیت کی شرف حاصیل کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی تعصبات سے پاک ہونگے، کیونکہ اس مشکل خطے میں بلا تقریق آپس میں اتفاق کے ساتھ مل جل کر رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ان تما م کاموں کو با زور بازو روکنے کی متعدد مرتبہ کوشش کی گئی لیکن ناکامی کا سامنا رہا، اسکے لئے ایک منظم تنظیم کی ضرورت ہے ،تاکہ اسکی وساطت سے عوام میں اگاہی پھیلائی جاسکے۔تاکہ ہم انکے معیار زندگی کو بہتر بنا کر اس قسم کے غلط کاموں کاخاتمہ کر سکے۔

روایات سےلا علمی اورتربیت کا فقدان :

2رو ایتی تربیت کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں قدیم روایات کے مطابق گھوڑ سواری ،تیر اندازی ،شکار کھیلنا، کُشتی،بندوق چلانے کے فن اور بڑوں کا ادب کرنا،مہمانوں ،مسافروں اور رشتہ داروں کے خیال رکھنے کے علاوہ ناچ گانے کی تربیت بھی دی جاتی تھی ۔اس طرح کسی کا ہاتھ بٹانا ،کسی کی مدد کرنا حصوصی طور گھر بناتے ،گندم کی کٹائی، ہل چلاتےاور بیواوں اور بے سھارا لوگوں کے کام کاج کے اوقات ایک دوسرے کی مدد کرنا ہماری روایت و ثقافت کے نمایاں وصف ہیں ۔اسکے علاوہ مختلف شعبوں میں بھی بے شمار روایاتی نظام موجود ہیں ۔ان میں چند بنُیادی روایتی اصولوں کے نام درج ذیل ہیں ۔

  • 4یار دوئی :باہمی امداد۔. مختلف کاموں کے حوالے سے ایک دوسرے کی مدد کرنا،یعنی محلے کے لوگ مل جل ایک دوسرے کے کام باری باری سر انجام دیتے ہیں ۔اسے کام کے رفتارمیں تیزی کے ساتھ ساتھ ہمدردی اور حوصلہ آفزائی بھی ہوتی ہے۔
  • سوت سیری:بھیڑبکریاں چرانے کی نوبت ۔اس رویااتی نظام کے تحت گاوں کے بکریوں کی ریوڑ کو ہر گھرانہ روزانہ کے بُنیادپر باری باری چراتے رہتے ہیں ۔ا س طرح ہم اس شعبے کو روایت کے مطابق ترقی دے کرگوشت ،دُودھ اوراُون کے پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں
  • 5سق:پابندی ،اس روایتی نظآم کے تحت۔اس نظام کو چلانےوالا نگران عملہ “دارو پھاڑ “بکریاں چرنےاور لکڑیاں کاٹنے پر موسم کے لحاظ سےپابندی لگاتا ہے اور مقررہ ا وقات کے لئے یہ پابندی ہٹائی جاتی ہے۔اور رویتی نظام میں جدت پیدا کر کے اپنے جنگلات کی کٹاو اور دیگر سیلاب کے خطرات سے بچاوکو ممکن بنا سکتےہیں ۔
  • سوروغ:آبپاشی کے لئے پانی کی نوبت ۔اس روایتی نظام کے تحت پانی کی قلت والے علاقوںمیں باری باری پانی کی نوبت مقررہ اوقات کے لئے معین کی جاتی ہے،مقررہ وقت گزرنے کے بعد یہ نوبت کسی دوسرے 6بندے کو منتقل ہو جاتی ہے۔
  • میر ژویو:صیغہ انہار کا نگران بندہ۔اسکا کام گاوں کے مرکزی نہروں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ پانی کی فراہمی کو برقرار رکھتا ہےاور کسی سیلاب اور پشتوں کے گرنے اور زیادہ کام پیش انے کی صورت میں گاوں والوں کو اطلاع دینے تک اُنکے فرائض میں شامل ہیں ،اور ہر گھرانہ ایک محصوص حساب سے “غلہ”عوض کے طور پر ادا کرتا ہے۔
  • ژوئی پاغیک: بل صفائِی مہم۔اس روایتی نظام کے تحت گاوں کے لوگ مرکزی انہارکی مل جُل کر صفائی کرتے 7ہیں، تاکہ انہار کی مرمت و بحالی اور پانی کی فراہمی میں روکارٹ پیدا نہ ہو ۔اس طرح نہروں میں پانی کے بہاو کو بر قرار رکھ کر اپنی زراعت کو فروغ دے کر عذائی ضروریات کی کفالت پوری کر سکتے ہیں ۔
  • چھیک چھومیک و بریک اژیک:پیدائش ،بیمار پُرسی اور کفن دفن کی ذمہ داریاں ۔ جب کہیں بچےکی پیدائش ہوتی ہےتو پورے علاقے کےلوگ مبارک بادی کے لئےاس کے گھر پہنچ جاتے ہیں ،اور ہمسایوں اور رشتہ داروں کی طرف سے “پورچھیک “کے نام سے پکا پکایا کھانا اور جوڑےوعیرہ لائے جاتے ہیں ۔ بیمار اور لاش کے چارپائی کو کندا دینے اور بیمار پُرسی کرنا ،اتمام امور میں پہل کرنا بھی ہمارے روایتی طریقے ہیں ۔اسکے علاوہ غمی خوشی میں شریک ہونا کفن دفن کا طریقہ سیکھنا ،قبرکی کھدائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اور تین دنوں تک اپنے تمام معمولات و کاروبار کو بند کر کے ہمسائیوں اور رشتہ دار کے غم میں شریک ہونا اور تعزیت کے لئے انے والے رشتہ داروں کے قیام وطغام کی مناسب بندوبست کرنا ہمارے ثقافت و روایت کے حصے ہیں ۔تو میرے محترم قارئین کیا اس حوالے سے اپنے بچوں کی تربیت کے فرائض ادا کر چکے ہیں کہ نہیں؟ اگر اس روز اپکے بچے ان کاموں میں حصہ لینےکے بجائے اپنی قیمتی موبائیل سے تصویریں کھنچتے رہے تو اسکی ذمہ داری و قصور واری میں صرف ہمارے نوجواں نسل ہی نہیں ہوگی بلکہ اس غفلت میں والدین بھی برابر کے شریک نظر ائنگے۔اس لئے ہر وقت بچوں کی اس حوالےسے مناسب تربیت فراہم کرےتاکہ آپکا بچہ معاشرے کاایک فعال شہری ثابت ہو اور اپکے لئے نیک نامی کا باعث بنے۔
  • روژایو انگیک و ژور ویشیک:بہو کی آمد اور بیٹی کی رخصتی۔ خوشی کے موقع پر رشتہ داروں کے علاوہ پورے گاوں والوں کا بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اور اور انکی مناسب مالی و اخلاقی مدد کرنا اور بہتر سے سے بہتر انتظام کی کوشش کرکے اسی خوشی کےموقع کو گزارنا بھی تمام گاوں والوں کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں ،اور بُہو کے ساتھ انے والے مہمان خصوصی” تحمیران یا نخانیشک” کے لئے خصوصی طغام اورخاندان کی مناسبت سے مخافل کا اہتمام کرنا ،ستار ،ڈھول اور ناچ کے شور سے فضاء کا گونج اٹھنااور پیسوں اور دیگر انعامات کا بارش کرنا بھی ہمارے روایات کے حصے ہیں۔اگلی صبح تحمیران کے رخصتی کےوقت بندوق ،ُشقہ (چُغہ)کوٹ،پوشاک اور بیل وعیرہ کے تحائف کی پیشکش کی جاتی ہے اور مہمان اپنی مرضی سے کسی چیز کو پسند بھی کرتا ہے۔ اس طرح لڑکی والوں کی طرف سےبھی گاوں کے ہر گھرانے سے اپنی اسطاعت کےمطابق(چیغیچی ) کپڑے ،جوتے،دستکاری کے اشیاء،ہاتھ سےبنی ٹوپیاں ،اور دیگر اشیاء کے تخائف لائے جاتے ہیں ،کیونکہ دُلہن اپنی جنم بھومی اور بچپن کے زمانے کےگھومی پھیری جگہوں،کھیل کود اور بھیڑ بکریاں چرنے کی تمام یادوں کوپیچھے چھوڑ کر کسی اور نئی جگہ منتقل ہو رہی ہے۔ اسکے ساتھ اس بناء پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے،تاکہ وہ اپنی سُسرال میں اپکے لئے نیک نامی کے باعث ثابت ہو اور اپکا سر فخر سے اونچا رہے۔

اس قسم کی روایتی تربیت کےفقدان سے قسم قسم کے واقعات رونما ہو رہے ہیں ۔ان کارتوں کی سرپرستی ہونے کی وجہ سے یہ قبیح عمل ہمارے روایات میں جائز مقام حاصیل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔یقینی طور پر رخوشی و غمی کےروایتی رسوم و رواج میں جدید دور کے مطابق مناسب اور شرغی تبدیلی لاکر اسکو گزار نے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہمیں اپنی روایاتی اصولوں میں ہی جدید دور کے مطابق بہتری لے ائے اور اُن سے مکمل طور پر انحراف کر کے کسی نئے طرز کو فروغ دینا مناسب بات نہیں ہے۔انسانی معاشرہ مل جل کر کام 3کرنے اور غمی خوشی میں شریک ہوکر زندگی گزارنے کا نام ہے۔اسے ہم درج بالا متذکرہ شعبوں میں جدید دور کے تقاضوں پر عمل کرکے جنگلات کی تحفظ ،سیلاب سے بچاو ،انہار کی حفاظت ،جانورں کی آفزائش نسل کی فروغ، آبپاشی و کھیتی باڑی اور باغبانی کے نظام میں جدت پیدا کر کے ان شعبوں سے خاطر خواہ فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔اپنے روایتی کھانوں کی تشہیری مہم چلا کر اسکی طبی فوائد اور غذایئت سے بھر پور کھانوں کی طرف نوجواں نسل کو راغب کر سکتے ہیں ۔

روایتی تعلیم وثقافت و عصر حاضر:

قدیم زمانے میں تعلیم کا کوئی خاص انتظام ورواج نہیں تھا۔مال مویشی ،کھیتی باڑی اور جنس پر سارا نظام چلایا جاتا تھا ۔جس بندے کے زیادہ اولاد ،کثیر تعداد میں مال مویشی اور زمینات ہوتے تھے وہ طاقتور تصور کیا جاتا تھا ،اور خاندان کا سربراہ اپنی روایات کے مطابق متذکرہ بالا پہلوں پراپنی اولاد کو ان امور کی پاسداری پر باقاعدہ تربیت دیتے تھے،اور ان ِ میں سے زیادہ ہوشیار بیٹے کو تعلیم حاصیل کرنے کیلئے بخارا ،ثمر قند ہندوستان اور دیگر علوم کے مراکز کی طرف بھیجا کرتے تھے ،تحصیل علم کے بعد واپسی پر ریاست کی طرف سےاعلے عہدےاور مراعات حاصیل کرنے کے ساتھ ساتھ علاقے کے باشندے اسے مستفید ہوتے تھے ۔چترالی (کہو)باشندے قدیم زمانے سےادبی ذوق بھی رکھتے ہیں ، لوک کہانیان شلوغ اورلوگ گیت اور کلاسیکی گانے کہوار ادب میں شہرت کے حامل ہیں ۔

  • 8غورو:ان قدیم ادب میں شکار کے لئے الگ لوک گیت گانا”غورو”آج بھی مشہور ہے اور موجودہ وقت میں موسیقارکوراغو میشٹیر اسکوخوب گاتا رہتا ہے۔روایت کے مطابق مارخور اور پہاڑی بکرا(آیئبکس)وغیرہ کےشکارکھیلنے کے بعد اپنے قصبے میں داخل ہوتے ہی شکار کو روزن (کوماڑ)کے راستے گھر کے اندر داخل کرنے تک گائی جاتی ہے۔
  • لوک ژور:بیٹی کی شادی کے موقع پر رخصتی کے وقت یہ گیت گائی جاتی ہے،اُس گھر کے حدود ختم ہونے تک اور راستے میں بھی یہ گیت گائی جاتی تھی۔
  • ننو بیگال:پولو میچ کے دوران ایک بوڑھی عورت کا نوجوان بیٹا اس وقت کے کسی گورنریا حکیم وعیرہ سے سبقت لےجانے پر اسکو قتل کیا جاتا ہے۔دوسرے دن بوڑھی ماں خودگھوڑے پر سوار ہوکرپولو میچ کھیلتے ہوے اس پر یہ واضح کردیتی ہے، کہ یہ پولو ایک عورت بھی کھیل سکتی ہے، لیکن آپ نے میرے دوردانہ نوجوان بیٹے کو کیوں قتل کیا؟اس واقعہ پر مشہور مرثیہ ہنوز زبان زد عام ہے۔

شوغور بو ڑانگاژاغا ےہائےننوبیگال
تاپونگ بہتاشیخی دوئی ہائے ننو بیگال

  • غاڑ وار:اصولی لحاظ سے روزانہ پولو میچ نہیں کھیلا جاتا ہے۔ جس دن پولو کھیل کھیلنے کا فیصلہ ہو جائے ،اُس دن صبح دس بجے ڈھول بجایاجاتاہے اور خاص آہنگ سے بانسری”بیڑو،سُرنائے”بجائی جاتی ہےاسی آہنگ اور ڈھول بجا کر لوگوں کو ااطلاع دی جاتی ہے تاکہ لوگ شام کے وقت پولو کھیل دیکھنے کے لئے جنالی پہنچ جاتے ہیں ۔
  • ژانگ وار:اسکا مطلب ہے “جنگ”اس آہنگ کو کسی ہنگامی بُنیاد پر کوئی دشمن وعیرہ حملہ آور ہو جائے،تو گائی جاتی ہے اسکو اعلان جنگ بھی کہتے ہیں ۔
  • ڈوک یخدیز: ڈوک یخدیز تورکہوکے کہوت گاوں کے سامنے اونچائی پر واقع گاوں ہے ،اپنے قبیلے میں شدید عشق لڑانے کے بعد منگنی کر کے ، منگیتر کواچانک “نوغور والی” یعنی قلعے کی حفاظت کےبیگارکے سلسلے میں گلگت جاناپڑا،وہاں سےواپسی پر ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ لگتا تھا ،دیر ہونے پر یہ افواہ پھیل گئی کہ وہ بندہ مر گیاہے ،اب اس لڑکی کی شادی واشیچ والے کسی بندے سے طے ہو گئی اوریہ لوگ دُولہا کو لیکرلڑکی کے گھر پہنچ چکے تھے، لیکن لڑکی کو یقین تھی کہ اُسکا محبوب لال زندہ ہےاور اپنے گھر کے چھت پر بیٹھ کر راہ تکتی رہ گئی کہ اچانک کہوت گاوں کے ڈھلوان سے ایک کالے رنگ کے گھوڑے پر سوار نوجون اس اُترائِی سے تیز گھوڑادوڑتے ہو ے اسکے گھر کی طرف ارہا ہے ،اسکی طرف دیکھ کر یہ ساتھ ساتھ گاتی رہی کہ “استور لالو استور شا کمیت استور “یعنی گھوڑا کالے رنگ کا ہے اس پر سوار بندہ بھی لال کی طرح ہے ۔اس طرح گاتی رہی اترائی اور چڑھائِی کاٹتےہوَئے اسکے سامنے وہی لال منگیتراچانک نمودار ہونے پرچھت سے کودکر اپنی محبوب /لال سے لپٹ جاتی ہے۔اسکےفراق کے تلخ لمحات سےلیکر ، موت کی خبر ، دوسری جگہ شادی طے ہونے کی کربناک لمحات اور عین شادی کے دن لال محبوب کی آمد کے لمحات تک یادوں پر مبنی گیت کو “ڈوک یخدیذ” کہتے ہیں ۔

9اسکے علاوہ بے شماورلوک اور کلااسک گیت ،خوش بیگم ،نندوشی،اشروژانگ کو ہمارے موسیقار اور ستار کی سُریلی آواز کے ساتھ ساتھ گاتے رہتے ہیں ،شاہ گلی زار اور علی ظہور چترالی ستارکے مشہور ستار نواز رہ چکے ہیں ۔اسکےعلاوہ بے شمار لوک ادب اور کلاسیکی ادب سے کہوار ادب بھری پڑی ہے۔ اس پر پہلے بھی کام ہو چکا ہے ،میرے خیال میں اس پر فلمیں بھی بنا کر اپنی قدیم ثقافتی ورثےکو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔کلاسیکی شاعری میں بھی متعدد شعراء نے اپنا لوہا منوا چکے ہیں ،بابا سیارصاحب دیوان فارسی زبان کاشاغر عالم تھا ۔مولانگاہ صاحب نے انکے “دیوان بابا سیار” کو اردومیں ترجمہ کرکے پیش کرچکا ہے۔اس نے کہوار شاعری میں بھی اپنی شاعری کا کمال دیکھا چکا ہے۔ اس عظیم شاعر نے محبوب کے ساتھ عشق کی پاکیزگی و پاکدامنی کے قصے اور پُلِ میں محبوب کا سامنا ہونا اور پیٹھ کو اپنی محبوب کی طرف کرنے کے بجائے دریا میں کودنے کے قصے موجودہ وقت کے بوالہوس عاشقوں کے لئے ایک سبق آموز مثالی کردار کی حیثیت رکھتا ہے۔اپنے کہوارشاعری کےگیت یارمن ہمین میں ، تراکیب اور صنعتوں کے علاوہ منظر نگاری ، واقعہ نگاری اور مبالغہ آرائی کو انتہائی ندرت خوبصورت انداز سے بیان کرتے ہوے کہتا ہے،ریشن کی سرزمین میری محبوب کے سرخ لبوں کی وجہ سے رنگ پکڑ کرسرخ ہو چکی ہے ۔

ریشنو بوم رانگ گانیشیر ما دوستو یاقوت شناری
قہرا بشار گانیکو شارانہ فقیر کوراری

اسکے شاعری میں ایسے بےشمار تراکیب وتشبہات ،استعارات کو انتہائی ُپر کاری کے ساتھ استعمال کرتا رہا ہے۔اسکے علاوہ فردوس فرودسی اور سنوغر ملنگ کے ادبی ذخیرے بھی ہماری راہنمائی کے لئے کافی ہیں ۔سنوغر ملنگ کے شاعری میں اسکی منظر کشی کے بے مثال اشعار پر مشتمل گیت موجود ہیں ۔اس نے اپنی شاغری میں جنت سنوغر کے سورج نکلنے کے منظر10 کشی کو اس طرح پیش کی ہے کہ انسان اپنے اپکو سنوغر کے کسی ٹھنڈے چشمےکے ارد گردمحملی سرسبز گھاس میں بیٹھا ہو محسوس کرتا ہے اور پرندوں کے چہچہانے کی آواز اور سورج کی کرنیں گلیشیر (شایوز) پر پڑتی ہوئی منظرآنکھوں کے سامنے پھرتی رہتی ہےاور کسی ارضی جنت کے نظارے سے کم نہیں ہے۔ان واقعات کو انتہائِ جزیئات نگاری کے ساتھ نگینہ جڑا ہے ۔

جنت سنوغر تا نام با غے گلے      ہائے مینہ چوڑینیان یوردیکو بلبلے
ماموڑا گھاس بحمل سورا شوکورے               دُنیا اویوتاماﷲشکر

اس زمانے کے اکثر شعراء اپنی کم علمی اور کسی بڑے ادبی ماحول کا حصہ رہے بعیر شاعری کے فن سے مکمل طورپر واقف تھے ۔ مختلف 11وادیوں میں جشن کا اہتمام کراکر اس میں انکی فروغ کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں ۔اس جشن میں مختلف روایایتی کھیل ،نشانہ بازی ،کشتی ،گھوڑ سواری کے مقابلے کا اہتمام کرایا جا سکتا ہے ۔تمام گھوڑ پال حضرات اپنے گھوڑوں کو پولو کے علاوہ سیاحوں کو گھوڑ سورای اور پولو سیکھانے ،بندوق چلانے کے فن سیکھانے کے مواقع فراہم کرکے آمدنی کا ذریعہ بنا سکتے ہیں ۔موسیقی کے پروگرام ،سٹیج ڈرامے منعقد کر کے اپنی روایت وثقافت کو نہ اپنانے سے پیدا ہونے والےنقصانات بارے میں آگاہی دے سکتے ہیں ۔اس قسم کی جدت پیدا کر کے نوجواں نسل کے لئے اس میں رغنائی و دلچسپی پیدا کر سکتے ہیں ،تاکہ نوجواں نسل میں روایت وثقافت اپناتے ہوے فخر محسوس کرے۔ہمارے مذہبی تہواروں عیدین میں رشتہ داروں سے ملنا انکے ہاں 12تخفے تخائف بانٹنا اور مٹھائی وعیرہ لے جانے کی روایت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔جشن نوروز،جشن قاقلشٹ،جشن شندور،جشن چترال ،جشن بروغل اور جشن غاریوغ کے علاوہ دیگر تہواروں کوجدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے منا نے کی ضرورت ہے تاکہ اپنے نوجواں نسل کوثقافتی و روایتی ورثےکے بارے میں زیادہ سے زیادہ اگاہی کےمواقع فراہم کر سکے۔اس طرح کیلاش مذہب کے تہواروں میں روایاتی اصولوں کو برقرار رکھنےکے لئے بھی سرپرستی کی کی ضرورت ہے، ہم ان مواقع سے میں بھر پور طریقے سے شرکت کر کے اپنی روایات و ثقافت کو فروغ دے سکتے ہیں ۔اسی طرح ہم آپس میں اتحاد اتفاق اور ایک دوسرے کے مزاج سے آگاہی پیدا کر کے اپنے پُرآمن وادی کو ہمیشہ کے لئے امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں ۔
درج بالاچند مثالیں اس حوالے سے کافی نہیں ہیں، البتہ انہی شواہد سے ہم اس نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں کہ آریا ئی نسل کے آنے کے بعد اس 13علاقے کے قدیم زبان پاسیچا (pasicha)یا داردک (dardic)کے ساتھ اُنکی ادبی زبان سنسکرت سے مل کر ایک نئی ادبی زبان وجود میں ائی ہوگی۔کیونکہ ہمیں بہت مشکل ہو گا کہ ہم اس قدیم زبان کو ادبی زبان قرار دے کر اس دور کے کسی شاعر یا لوک کہانیاں یا لوک گیت کے بارے میں کوئی رائے دے کر سراغ لگاسکے،یہ حقیقت ہےکہ ایک زبان کو کسی دوسری زبان کے ساتھ مل کر ادبی زبان بنے میں کافی عرصہ لگتا ہے۔ اس طرح شاید کہوار زبان عیسوی کے بعد ادبی زبان کی حئثیت اختیار کر چکی ہوگی ۔اور تمام لوک گیت قصے کہانیاں بھی ادبی رنگ جمانے کے بعد شروغ ہو چکی ہونگے۔ہمارے ادبی ثقافتی حوالے سے ہر پہلو پر ایک ایک کر کے نام لینا اور تبصرہ کرنا اسی مضمون میں ممکن نہیں ہے البتہ اس حولے سے مزید بہتر کوشش کی جائے گی۔
اب ہمیں سوچنا پڑے گاکہ ہمارےنونہال ہماری بھر پور تہذیب و ثقافت سے کس حد تک واقف ہیں ،کیا وہ اپنی روایات کی پاسداری کر رہے ہیں 14کہ نہیں کیا ہم اپنے نونہالوں کو اپنی روایات کے بارے میں مناسب راہنمائی کرتے ہیں کہ نہیں اور اس پر عمل پیرا ہونے پر روایتی انداز سے کڑی نظر رکھتے ہیں کہ نہیں ؟ان تمام کوتاہیوں اور کمزوریوں کی ذمہ داری صرف موجودہ دور کے جدید تعلیم یافتہ نسل پر ہی عائد کر کے ذمہ دار کیوں ٹھراتے ہیں ۔؟کیا موجودہ علوم سے ناواقف اپنی روایات سے منحرف جدید روایات سے متاثر والدین پر کچھ بھی ذمہ داریاں عائد نہیں ہوتی ہیں، وہ اس معاملے میں اپنے اپکوبری الذمہ کیوں قرار دےرہےہیں ؟کیا آپ نے جدید آلات اور ٹیکنالوجی کے نقصان دہ پہلوں سے دور رہنے کی تاکید کی ہے کہ نہیں ؟جہاں تک تعلیمی فروغ کا تعلق ہے،تو تعلیمی اداروں نے نوجوان نسل کو علمی خزانے سے معمور کیا ہے ۔علم کے میدان میں اسکا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا ہے۔اسکا 15مطلب ہے تعلیمی ادارے جسکے ذمے تعلیم دینے کی ذمہ داری تھی اپنی فرائض احسن طریقے سےادا کر رہے ہیں ۔تربیت روایاتی انداز میں گھروں اور والدین کی طرف سے ملتی ہے ۔درسی کتابوں میں وہ چیزیں مکمل طور پر موجود نہیں ہوتے ہیں ۔علم ارادی اور عیر ارادی طور پر سیکھی جاتی ہے ۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ آج کا معاشرہ والدین کی تربیت کے فقدان کا شکار نظر آتا ہے اور والدین اپنی تمام تر کمزوریوں اور ناکامیوں کو تعلیمی اداروں کو ذمہ دار ٹھرا کر اپنے اپکو برِی الذمہ قرار دے رہے ہیں ،جو ہر گز جائز عمل نہیں ہے۔میرے اندازے کے مطابق آج وقت کی اشد ضرورت ہے کہ اس ضمن میں ایک باقاعدہ ادارے اور تنظیم بنانے کی ضرورت ہے ۔اس تنظیم کے تحت روایاتی انداز میں اپنی تہذیب وثقافت کی پاسداری کی تربیت والدین مساجد کے پیشواوں ،عبادت خانوں کے ذمہ داروں اور اساتذہ کوباقاعدہ تربیت دینے کی ضرورت ہے ۔تاکہ ہم تعلیم وتربیت میں روایاتی طریقہ کار کے تحت ہم آہنگی پیدا کر سکے ۔اسکے لئے باقاعدہ ہر
علاقے میں لوگوں کو اگاہی دے کر اہلکار مقر رکئے جاے۔اور اصولوں کے خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ کوئی قانوں کے تحت حکومت سے مشاورت کے بعد سزا مقرر کی جاے اور سخت سے سخت سزامقرر کرنے لئے قانونی حوالےسے وکلاء کے ساتھ بھی مشاورت کی جاے۔
تنظیم روایتی انداز سے تعلیم و تربیت کے علاوہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے مختلف شعبوں میں ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرے ۔اس میں بلا تفریق چترال کے طول وعرض سے دانشوروں ،ریٹائرڈ افسروں ،وکلاء،سیاستدانوں ،علماء،اساتذہ،ڈاکٹرز ،انجینئرز 17،پروفیسرز عیر سرکاری تنظیموں مذہبی اداروں وعیرہ کے تمام اہلکاروں کو شامل کیا جاے ۔مساجد ،جماعت خانوں اور دیگر عبادت خانوں کے ذمہ داراں کو محلے کی سطح تک با اختیار بنایا جاے اور کسی بھی مسئلے کی بھر پور تحقیقات سرکاری سطح تک بھی کی جاے اور باقاعدہ حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر ان تمام امور کو سر انجام دیا جاے ،تاکہ ہم سب ایک ذمہ دار شہری بن کر حکومت کا ہاتھ بٹاے اور ذمہ دار شہری کی حئثیت سے زندگی گزار سکے اپنے ارد گرد کے ماحول کو پاک صاف رکھے۔کیونکہ ہم ان تمام کاموں کو چترال کے معاشرے میں ممکن اس لئے بنا سکتے ہیں، کہ ہم اس وادی کے تمام لوگوں کو ذاتی طور پرپہچانتے ہیں ۔مثال کے طور پرارندو کے باشندے بروغل کےباشندوںاور دیگر وادیوں کے باشندے ذاتی طور ایک دوسرے کو پہچاننے کے ساتھ ساتھ معلومات بھی رکھتے ہیں۔ اس طرح چترال کے پُر امن باشندوں کی مدد سے اس کام کو چترال کے پُر آمن وادی میں ممکن بنا سکتے ہیں ۔تاکہ ہم اپنی روایات و ثقافت و رسوم و رواج کو جدید اصولوں کے تحت فروغ 18دے کر پورے پاکستان کے لئے ایک مثالی نمونہ فراہم کر سکے ۔کیونکہ ہم ٹنل کوانے والی نسل کے تباہی و بربادی کاذمہ دار قصور وار نہ ٹھرایا جاے۔ٹنل سے بے شمار فوئد حاصیل ہونگے ،لواری ٹنل ترقی و خوشخالی لائے گی، بُنیادی حقوق تک رسائی ہو گی ،کوئی محنت کرے گا، اس کے لئے روز گار کی کمی نہیں ہو گی ،مواقع بڑھ جائنگے،دیگر شہریوں کی طرح سہولیات میسر آئنیگے۔ ہمیں اپنے اپکو انے والے وقت کے لئے تیار رکھنا پرے گا ،ہمیں اپنے اپکو جدیددور کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیب وتمدن ،ثقافت و روایات سے بغاوت کئے بغیراگے بڑھنا ہوگا، کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم کسی بڑی غلطی کے مرتکب ہو کر اپنی قدیم ثقافت وروایات سے منحرف ہو کر اپنی شناخت کو کہیں کھونہ بیٹھے۔اور ہمیں آج سے یہ عہد کرنا ہو گا اور ہمارے اپر لازم بھی ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں جدید علوم کو اپنی روایات کے پاسداری کے ساتھ ساتھ حاصیل کرکے اپنے پیارے خوبصورت وادی کو ہمیشہ کے لئے آمن کا گہوارہ بنا سکے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق