ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا…….کیا پولیس کے پَرکاٹ دئیے گئے ؟

………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …….


بار روموں اور پر یس کلبوں میں ایک ہی بات زیر بحث ہے ۔بات یہ ہے کہ کیا پولیس کے پرکاٹ دئیے گئے ۔خیبر پختونخوا کی حکومت نے پولیس کو سیاست سے پاک کر کے بہت بڑا کا رنامہ انجام دیا تھا اور تبدیلی کا آغا ز پو لیس کی اصلاح سے شروع کیا تھا ۔ٹریفک وارڈن کا نیا نظام بہت بہتر ہواتھا ۔اور نظر بھی آرہا تھا ۔نا ظمین کے لئے تنخوا ہوں کے اعلان کے ساتھ حکومت نے پولیس کو مقامی حکومتوں کی ما تحتی میں دینے کا اعلا ن کر کے خود اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر وار کیا ہے اور پولیس کے سسٹم میں جو بہتر آئی تھی اس کو رول بیک کرنے کی طرف قدم اٹھایا ہے۔ اگلے تین مہینوں میں صو بے کے اندر جرائم کی شرح میں اضافہ ہو گا۔ امن وامان کی صورت حال بگڑ جا ئیگی ۔دہشت گردی میں اضافہ ہو گا اور خیبر پختو نخو ا میں بھی کراچی کی طرح رینجر ز کو بلانے کی ضرورت پڑیگی تو حکومت کو احساس ہو جائے گا کہ پولیس کو مقامی حکومتوں کی ماتحتی میں دیکر حکومت نے اچھا فیصلہ نہیں کیا تھا ۔عمومی حالات میں بھی امن وامان کی بحالی ایک حساس معاملہ ہے ۔دہشت گردی اور خانہ جنگی کے زمانے میں کسی بھی ملک کے اندر امن وامان کو ملک کا اولین مسئلہ قرار دیا جاتا ہے ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں میں پولیس کو ہر اول داستے کا درجہ حاصل ہے۔ واردات کے کسی بھی موقع پر سب سے پہلے پو لیس کو بلایا جاتا ہے ۔ایف آئی آر سے لیکر تفتیش اور عدالت میں مقدمے کی شہادت کے مراحل تک پولیس اہم کردار ادا کرتی ہے ۔جنرل مشرف کے زمانے میں مخصوص مقاصد کے لئے پولیس آرڈر 2002 ء نافذ کر کے پر اسیکیوشن کا کام پو لیس اور محکمہ داخلہ سے لیکر محکمہ قانون کو دیدیا گیا۔ اس فاش غلطی کی وجہ سے 80 فیصد مقدمات میں پو لیس کی شہادتیں ضا ئع ہو گئیں ۔پو لیس کی تفتیش کا پو را کام متاثر ہو ااور مجرموں کی اکثریت جیلوں سے رہا ہو کر ایک بار پھر جرائم کی دنیا میں لوٹ گئی ۔اس کے بعد کسی حکومت نے پولیس آرڈر 2002 ء کو واپس لینے پر توجہ نہیں دی ۔خیبر پختو نخوا کی حکومت نے پولیس کو جس طرح سیاسی مداخلت سے پاک کیا تھا ۔اس طرح تو قع پیدا ہو گئی تھی کہ پر اسیکوشن کا شعبہ بھی پو لیس کو واپس سونپ دیا جائے گا ۔اور عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کا سسٹم بھی درست کیا جائے گا ۔اب ایک طرف آئی جی ناصر درانی کو تبدیل کر کے سینئر افسر لیاقت علی کو نیا آئی جی مقرر کیا گیا ہے۔نئے آئی جی کے آنے سے پہلے پو لیس مقامی حکومتوں کی ما تحتی میں دے کر پو لیس کے پر کاٹ دئیے گئے ہیں ۔اگلے تین مہینوں میں امن و امان کی صورت خراب ہو گئی ۔منشیات کے کا رو بار، اسلحہ کی سمگلنگ اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہو ا۔سڑیٹ کرائمز کی شرح پر پھر بڑھ گئی تو گزشتہ دو سالوں کی اصلا حات کا کر یڈٹ نا صر درانی کو دیا جا ئے گا اور پولیس کی ساری ناکامیاں نئے آئی جی کے کھاتے میں ڈال دی جائیں گی ۔خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی مخلوط حکو مت کا ایک اچھا کام ایک مثالی نظام اور تبدیلی کا جیتا جا گتا نمونہ ضائع ہو جا ئے گا ۔بقول جون ایلیا را ئیگاں جا ئے گا ۔خیبر پختو نخوا کا سیاسی اور سماجی ڈھانچہ فرانس ، برطانیہ ، سوئٹزر لینڈ ،جرمنی اور امریکہ سے بہت مختلف ہے ۔یورپ میں جھوٹ نہیں بولا جاتا ۔ہمارے ہاں سچ بولنے کا کلچر نہیں ہے۔یورپ میں قانون کا احترام کیا جاتا ہے ۔ہمارے معاشرے میں قانون کا کو ئی احترام نہیں ۔سیاست کے میدان میں قدم رکھنے والا ہر کارکن قانون کو اپنی راہ میں رکاوٹ قرار دیتا ہے ۔یورپ میں لوگ عوام کی خدمت اور معاشرے کی بھلائی کیلئے سیاست میں آتے ہیں۔ووٹ لیتے ہیں ۔عوامی عہدہ حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں لو گ نا جائز مفادات ، نا جا ئز کا روبار ، لا قانونیت اور ذاتی اغراض و مقاصد کے حصول کیلئے ووٹ لے کر عہدے حاصل کرتے ہیں ۔عوامی عہدہ حاصل کرنے والے قانون کو اپنے جوتوں کی نوک پر رکھتے ہیں ۔جنرل مشرف کے دور میں بلوچستان کے مسائل کی تفتیش کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تھی۔چوہدری شجاعت اس کمیٹی کے سربراہ اور مشاہد حسین سید اس کمیٹی کے ترجمان تھے ۔کمیٹی چاہتی تھی کہ ایف سی کو واپس بلا کر اختیارات مقامی حکومتوں کو دیدیے جا ئیں ۔مگر خفیہ اداروں کی طرف سے صوبائی درالحکومت اور تین اضلاع میں کمیٹی کو بریفنگ دینے کے بعد پارلیمانی کمیٹی نے ایف سی کو مزید اختیارات دینے کی سفارش کی۔ وجہ یہ تھی کہ ووٹ لے کر آنے والے لوگ گھناونے جرائم میں ملوث تھے ۔ ان کے ہاتھوں میں اختیارات دینا مناسب نہیں تھا ۔مشاہد حسین سید نے سیاست دانوں کے لئے ولنی ریبل (Vulnerable) کا لفظ استعمال کیا تھا ۔اس لفظ کا اردو ترجمہ بہت مشکل ہے۔غیر محفوظ ،آسان ہدف اور غیر محتاط یا نا قابل اعتبار کے الفاظ اس کے قریب تر متبادل یا مترادف ہو سکتے ہیں ۔اس وقت خیبر پختونخوا میں 60 ہزار سے زیادہ ناظمین ،ویلج ناظمین ،نائب ناظم اور کونسلر ایسے ہیں جن کو ملکی سلا متی کے اداروں نے ولنی ریبل قرار دیاہے ۔اگر پو لیس کو ان کی گاڑیوں اور ان کے گھر وں کی تلاشی سے روکا گیا ۔تو قانون کی رکھوالی کون کرے گا ؟ تحریک انصاف کے منشور میں ہے کہ سینٹر ،ایم این اے،اور ایم پی اے کو پروٹوکول نہیں ملے گا ۔پولیس اگر مقامی حکومتوں کی تحویل میں آگئی تو ویلج ناظم اور نائب ناظم کو بھی پروٹوکول ملے گا ۔ایس ایچ او کی نوکری ، ترقی اور تقرری مقامی حکومتوں کی خوشنودی پر منحصر ہوئی تو جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ مل جائیگی۔امن وامان کی صورت حال بگڑ جا ئیگی ۔منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ میں اصافہ ہو گا۔ ہمارا صوبہ دہشت گردی سے پہلے ہی متاثر تھا۔اب رہی سہی کسر مقامی حکو متوں کے پاس پو لیس کے اختیارت آنے سے پوری ہو جائیگی۔ہو سکتا ہے تین ماہ بعد فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت پڑے تاکہ حکومت کو کراچی کی طرح فوج بلانے کی ضرورت پڑجائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق