ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد……اسلامی اتحاد کی فوجی کمان

………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ……..


وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے حالیہ دورہ سعودی عرب کو سفارتی اور صحافتی حلقوں میں بہت اہمیت دی گئی ہے۔اس حوالے سے جو باتیں سامنے آئی ہیں ۔وہ مشترکہ فوجی مشقوں کے معائنے سے بہت آگے کی باتیں ہیں ۔ان باتوں سے اندازہ ہو تا ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان کو ایک بار پھر فیلڈ مارشل ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور کی طرح اہم کردار ملنے کا امکان ہے ۔اگر ایسا ہو اتو یہ پاکستان کی سیاسی قیادت اور عسکری کمان دونوں کی بڑی کا میابی ہو گی اور ملک وقوم کا اعزاز ہو گا ۔گزشتہ چار مہینوں سے ایک اہم تجویز پر کام ہو رہا ہے ۔تجویز یہ ہے کہ اسلامی ملکوں کا یورپی یونین اور نیٹو کی طرز کا مضبوط اتحاد ہو نا چاہیے ۔جس میں مشترکہ پارلیمنٹ ،مشترکہ کرنسی اور مشترکہ فوج کے قیام کی تجویز بھی شامل ہیں ۔ابتدائی طور پر 34اسلامی ممالک کے درمیان اس تجویز کے خدو خال پر بات چیت جاری ہے ۔عالمی حالات اور علاقائی صورت حال کے بدلنے کے ساتھ مزید اسلامی ممالک اس اتحاد میں شامل ہو نگے ۔یہ اسلامی کانفرنس کی تنظیم کی طرح ڈھیلا ڈھالا ڈھانچہ نہیں ہو گا بلکہ مضبوط ڈھانچے کے ساتھ فائدہ اور نقصان میں شریک طاقتور اتحاد ہو گا اور عالمی امور میں موثر کردار ادا کرے گا۔ وقت کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر اس کی ابتدا مشترکہ فوج کے قیام سے ہونے والی ہے اور اسلامی ممالک کی مشترکہ فوجی کمان تقویمی سال 2016 ء کے دوران قائم ہو جا ئیگی ۔مشترکہ فوج کی کمان سنبھالے کے لئے ترکی ،مصر ،انڈونیشیا ، سوڈان اور پاکستان امید وار ہیں ۔پاکستان کی مسلح افواج نے جو بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ان کا میا بیوں کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جا رہا ہے ۔اسلامی دنیا میں بھی ان کامیابیوں کا خاصا بڑا چرچا ہو اہے ۔خاص کر سعودی عرب کی حکومت پاکستانی مسلح افواج کی قربانیوں اور پے درپے کامیابیوں کا کھلے بندوں اعتراف کرتی ہے ۔اس وقت عالم اسلام کے اندر پاکستان کو تین زاویوں سے اہم ملک گردانا جاتا ہے ۔پاکستان کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس کو عالم اسلام کی پہلی جوہری طاقت ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ایٹمی صلاحیت کے حصول کے لئے پاکستانی قوم نے طویل جدوجہد کی ہے ۔1964 ء سے 1984ء تک 20 سال کا عرصہ کئی مشکلات میں گزرا ۔کئی آزمائشیں آئیں ۔عالمی طاقتوں نے پاکستان پر طرح طرح کی پابندیاں لگائیں ۔ان پابندیوں کے باوجود پاکستانی قوم نے اپنی منزل حاصل کی اور قوموں کی برداری میں اپنا مقام بنالیا ۔اس بناء پر اسلامی اتحاد کی عسکری قیادت پر پاکستان کا حق بنتا ہے ۔اور اسلامی ممالک کو اس کا بخوبی اندازہ بھی ہے ۔دوسرا زوایہ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن کا ہے ۔جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ایسے خطے میں واقع ہے ۔جہاں عالمی طاقتوں کی رسہ کشی چل رہی ہے ۔اس رسہ کشی میں پاکستان مرکزی کردار ادا کرتا آرہا ہے ۔چین اور امریکہ کے درمیان 1970ء میں پل کا کردار ہو یا افغانستان کے انقلاب کے بعد امریکہ اور سوویت یونین کی جنگ میں سہولت کا ر کاکردار ہو ۔ہر کردار میں پاکستان نے اپنے آپ کو منوالیا ہے ۔ تیسری اہم حیثیت یہ ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی امن فوج میں نمایاں طور پر خدمات انجام دی ہے۔عالمی سطح پر ان خدمات کو ہر فورم پر سراہا گیا ہے ۔پاکستان کی مسلح افواج کو اس لحاظ سے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو تی ہے یہ پزیرائی اسلامی اتحاد کی فوج کے لئے شروع ہی میں نیک نامی اور سرخروئی کا باعث بنے گی ۔دوسری طرف اسلامی اتحاد کی فوجی کمان پاکستان کے لئے عمومی طور پر اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے لئے بطور حاص ایک چیلنج ہوگی ۔اس وقت عالم اسلام کو جن مسائل کا سامنا ہے ۔ان میں سرفہرست امن اور سلامتی کا مسئلہ ہے ۔اور عالم اسلام کی سلامتی کو بیرونی دشمن سے زیادہ اندورنی دشمن سے خطرہ ہے۔ اندرونی دشمن کا ایک نام نہیں ہے ۔اس کے کئی نام ہیں ۔افریقہ میں اس کا نام الشباب اور بوکو حرام ہے ۔مشرقی وسطی میں اس کا نام داعش اور القاعدہ ہے ۔افغانستان اور پاکستان میں اس کے کئی نام رکھے گئے ہیں ۔یہ ایسے دشمن ہیں ۔جو بیرونی دشمن سے زیادہ خطرناک ہیں ۔پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے ساتھ ہونے والی چار جنگوں میں اتنی جانی قربانیاں نہیں دیں جتنی جانی قربانیاں اندررونی دشمن کے خلاف لڑائی میں پاک فوج نے دی ہیں ۔عالم اسلام کی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے اسلامی اتحاد کی مشترکہ فوجی کمان کو سب سے پہلے اندرونی دشمنوں کا قلع قمع کرنا ہوگا اور یہ آسان کا م نہیں ہوگا ۔10سال پہلے انڈونیشیا کو اندرونی دشمن کا سامنا تھا ۔انڈونیشیاء کی حکومت نے کامیاب حکمت عملی کے ذریعے دشمن کا صفایا کرکے انڈونشیا میں امن قائم کیا ۔انڈونیشیاء کی حکمت عملی تین طریقوں پر مشتمل تھی ۔سب سے پہلے دشمن کو ملنے والی بیرونی امداد کے راستے بند کر دئیے گئے ۔اس کے بعد دشمن کو امن کی پیشکش کی گئی ۔جو لوگ 4سال پہلے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مل گئے تھے ۔ان کو امن کی پیشکش کے ساتھ مالی مراعات دے دی گئیں ۔22 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کو ملازمتیں دی گئیں ۔22 سال سے اوپر کے لوگوں کو کاروبار کے لئے معقول رقم دی گئی ۔ان کے خلاف جتنے مقدمات تھے وہ ختم کر دئیے گئے ۔جن دہشت گردوں نے امن کی پیشکش کو ٹھکرایا ان کو کڑی سزائیں دے دی گئیں ۔عمر قید اور پھانسی کی سزاؤں پر عملدر آمد کے بعد ملک اور قوم کے دشمنوں کا صفایا ہو گیا ۔بوکو حرام ،الشباب ،القاعدہ ،داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اسلامی اتحاد کی فوجی کمان کو انڈونیشیا اور پاکستان کی طرح کا میاب حکمت عملی اختیار کرنی ہو گی۔ اگر اسلامی اتحاد کی فوج نے ایسی حکمت عملی اختیار کی تو اسلامی دنیا میں امن وسلامتی کا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔مشترکہ پارلیمنٹ اور مشترکہ کرنسی کے قیام کی راہ بھی ہموار ہو جا ئیگی ۔اگر مشترکہ فوج کی کمان پاکستان کو ملی تو یہ ملک اور قوم کے لئے بہت بڑا اعزاز ہوگا ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق