مضامین

صدابصحر۔۔۔۔۔پولیس چیف نا بینا ہے

۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی۔۔۔۔۔۔۔

اخبارات کے عجیب وغریب خبروں میں صفحہ اول پر چھوٹی سی ایک کالمی خبر لگی ہے۔ اس کی سرخی سب کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے ۔سرخی یہ ہے کہ افغان حکومت نے نابینا شحض کو ولایت ازرگان کا پولیس چیف مقرر کیا۔ خبر کے اندر تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ شاہ محمد شاہ نا بینا ہوتے ہوئے 13سال افغان پولیس میں خدمات انجام دیتا آرہاہے ۔گزشتہ روز ان کی بہادری ، دلیری اور شجاعت سے متاثر ہو کر دونوں آنکھوں سے معذور شاہ محمد شاہ کو افغان حکومت نے ولایت ازرگان کی پولیس کا سربراہ یعنی پاکستا نی حساب سے انسپکٹر جنرل کے عہدے پرفائز ہوگیا۔ خدا دے تو چھپر پھاڑ کے دیتا ہے۔ خبر میں اخباری اصطلاح کی رو سے مکمل خبریت ہے۔ خبر کی تمام شرائط پر یہ خبر پوری اترتی ہے۔ افغان حکومت نے برادر پڑوسی ملک پاکستان کے لئے اچھی مثال قائم کی ہے۔ ساغر صدیقی کی بے مثال غزل کا لاجواب مصرعہ ہے:
دستور یہاں بھی گونگے فرمان یہاں بھی اندھے ہیں

افغانستان پر پہلے 29 ملکوں کے اتحاد نیٹو کی حکومت تھی۔13سال بعد نیٹو نے اپنی فوجوں کا انخلا کیا ۔ اب وہاں امریکہ اور بھارت کی حکمرانی ہے۔ افغان پولیس کے لئے حکم یہ ہے کہ اپنی آنکھیں بند رکھے۔ چنانچہ افغان پولیس اپنی انکھوں پر پٹی باندھے رکھتی ہے۔ امریکی اور بھارتی وہاں جو مرضی ہو وہی کرتے ہیں ۔مثلا کوکنار کی کاشت کرنی ہو تو وسیع رقبے پر کاشت کرتے ہیں ۔مثلا ہیروئین کی فیکٹری لگا نی ہو تو راتوں رات ہیروئین کی فیکٹری لگاکر سفید پاوڈر بنا نا شروع کرتے ہیں۔ اس پوڈر کو پاکستان ،ایران ،تاجکستان،ازبکستان اور ترکمنستان کے راستے سمگل کرکے مشرقی بعید اور یورپ تک لے جاتے ہیں ۔شمالی امریکہ بھی پہنچا تے ہیں۔ افغان پولیس آنکھیں بند رکھتی ہے۔ امریکی اسلحہ آتا ہے بھارتی ہینڈ گرینیڈ آتے ہیں۔ خودکش جیکٹ لائے جاتے ہیں۔ٹرکوں میں اسلحہ ڈال کر افغانستاں سے باہر سمگل کیا جاتا ہے اور باہر سے افغانستان لا یا جا تا ہے۔ افغان پولیس آنکھیں بند رکھتی ہے :
ہم مجبوروں پہ ناحق تہمت ہے مختاری کی
جو چاہے سوآپ کرے ہے ہم کو عبث بد نا م کیا
ایک 26سالہ امریکی شہری عامر متین فلوریڈا میں سی آئی اے کے ٹرننیگ سنٹر سے 2سال کی لازمی ٹریننگ لیتا ہے ۔بالائی حکام اس کو ٹاسک دید یتے ہیں وہ اورلینڈو کے شہر میں ہم جنس پر ستوں کے کلب کے اندر گھس کر فا ئر نگ کرکے 50سے زیادہ امریکیوں کو ہلاک اور 55سے زیادہ کو زخمی کرتا ہے۔ خبر آتی ہے کہ حملہ آور افغان تھا۔افغان پولیس کو حکم ہے کہ اپنی انکھیں بند رکھے۔ اس کی تردید نہ کرے۔ عامر متین کے باپ کا شجرہ نہ کھولے۔ اُس کا باپ بھی امریکی ہے اور وہ بھی سی آئی اے کا ملازم ہے۔ چنانچہ افغان پولیس آنکھیں بند کرکے دنیا کو یہ باور کراتی ہے کہ حملہ آورافغان تھا۔ اُس کا باپ بھی افغان تھا ۔اس طرح کی ہزاروں مثالیں ہیں ۔جن میں افغان پولیس آنکھیں بند کرکے خاموش تماشائی بنتی ہے۔ اس لئے افغان حکومت نے سوچا ہوگا کہ جب پولیس کو آنکھیں کھول کر ادھر اُدھر دیکھنے کی اجازت نہیں تو پھر پولیس میں سروس کے لئے بینائی کی کیا ضرورت ہے؟پولیس چیف کے لئے بینائی کی کیا ضرورت ہے؟ اس اقدام سے پاکستانی حکومت کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے۔ یہاں بھی صورت حال کچھ یوں ہے کہ بقول ساغر صدیقی:
تقدیر کے کالے کمبل میں عظمت کے فسانے لپٹے ہیں
مضمون یہاں بھی بہرے ہیں عنواں یہاں بھی اندھے ہیں
وطن عزیز پاکستان میں ہم دیکھتے ہیں کہ بڑی واردات ہوتی ہے پولیس سامنے کھڑا دیکھ رہا ہے اور مجرم ارتکاب جرم کے بعد آرام سے فرار ہوجاتا ہے ۔پولیس نامعلوم ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے اس گھناؤنے جرم کو بھول جا تی ہے دیکھنے والے پولیس کی جگہ اگر نا بینا پولیس والا ہوتا تو کیا فرق پڑتا ؟ کچھ بھی فرق نہ پڑتا ۔ واردات ہو جاتی ، ملزم آرام سے فرار ہو جاتا، پولیس پر دیکھنے کی تہمت نہ آتی ۔یا ایک اور منظر ہمارے سامنے آتا ہے ۔تاجر اشیائے خوراک میں ملاوٹ کرکے بیچ رہا ہے۔ پولیس والا خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہا ہے۔ ایسے میں بے چارے تاجر کو شرم آتی ہے ، وہ ڈرتا ہے اور شرم کے مارے اُس کے پسینے چھوٹ رہے ہیں۔اب پکڑ اگیا ، اب پکڑاگیا ۔اس دیکھنے والے پولیس مین کی جگہ اگر نا بینا پولیس مین آجاتا تو تاجر کوبڑی سہولت ہوتی۔ کم ازکم اُس کو یہ ڈر اور خوف تو نہ ہو تا کہ پولیس والا دیکھ رہا ہے ۔ منشیات فروشوں کا بہت آزمودہ طریقہ کار ہے ۔یہ لوگ شہر میں اُس جگہ اپنا کا روبار کرتے ہیں جہاں ٹریفک پولیس یا موبائل وین والوں کی ڈیوٹی لگتی ہے۔ دیہات سے شہر جانے والے کو منشیات کی دکان کا دوسرا پتہ نہیں بتاتے ۔صرف اتنا بتاتے ہیں کہ چرس اباد یا کوکنار چوک میں جہاں پولیس کھڑی ہے ، وہی دکان ہے پیسہ دو، مال لے لو۔آدمی چونک کر دوبارہ سوال کرتا ہے ۔کیا پولیس والے کی موجود گی میں مجھے مال دیدے گا؟ وہ کہتا ہے، جی بالکل پولیس والے کی فکر مت کرو، اپنا آدمی ہے۔ اس جگہ اگر نا بینا پولیس کانسٹیبل ڈیوٹی پر ہو تو کیا فرق پڑے گا۔ آنکھوں والا بھی نہیں دیکھتا۔وہ بھی نہیں دیکھے گا۔ بس اتنی سی بات ہے ۔ وطن عزیز پا کستان کے حکمرانوں کو پو لیس کے معا ملے میں افغانستان کے تجر بے سے ضرور استفادہ کر نا چا ہیے ۔یہ ایسا تجربہ ہے جس خیر ہی خیر، فا ئدہ ہی فا ئدہ ہے ۔اس کا ایک فا ئدہ یہ ہے کہ بینا ئی والے ،آنکھوں والے کسی اور شعبے میں جا کر ملک اور قوم کی خدمت کر ینگے ۔جہاں آنکھوں کی ضرورت ہو گی ،جہا ں بینا ئی کی ضرورت ہو گی ۔دوسرا فا ئدہ یہ ہے کہ ملک بھر کے نا بینا افراد کو با عزت روز گار ملے گا۔تیسرا بڑا فا ئدہ یہ ہے کہ مجرموں اور ملزموں کے فرار ہونے میں جو تھو ڑی بہت دقت ہے ۔ وہ ختم ہو جا ئیگی۔ مجرم کو فرار ہوتے وقت سو بار سو چنا نہیں پڑے گا۔گو یا نا بینا پو لیس مین کا ہو نا ایک نعمت ہے ۔اور اگر صوبائی پو لیس چیف نا بینا ہو ۔تو یہ سب سے بڑی نعمت ہے ۔اس سے بڑی نعمت کو ئی ہو ہی نہیں سکتی۔شاعر نے اندھوں کے شہر میں آئینے بیچنے کا ذکر اس طرح کیا ہے :
کیا پو چھتے ہو میرا کا رو بار کیا ہے
اندھوں کے شہر میں آئینے بیچتا ہوں
ہما را ہر شہر اندھوں کا شہر ہے ۔حا کم وقت اندھا ہے۔ فقیہ شہر اندھا ہے ۔امیر شہر اندھا ہے اور غریب شہر بھی اندھا ہے ۔تب ہی اندھیر نگری چو پٹ راج کا منظر ہر سو نظر آتا ہے۔میرا خیال ہے کہ افغان حکومت نے پہل کی ہے۔ ولایت ازر گان سے زیادہ ہمیں نا بینا پو لیس چیف کی ضرورت ہے ۔ساغرصدیقی نے ایک اور با ت ہمارے حسب حال کہی ہے:
بے رنگ شفق سی ڈھلتی ہے بے نور سو یرے ہو تے ہیں
شا عر کا تصور بھوکا ہے ، سلطان یہاں بھی اندھے ہیں

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔