ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا….شی میل کی صفوں میں

………..ڈاکٹر عنایت للہ فیضیؔ
یہ خیبر پختونخوا کی حکومت کا بہت بڑا کا ر نامہ ہے کہ اس حکومت نے سالانہ بجٹ 2016-17 میں شی میل یعنی خواجہ سراؤں کو باقاعدہ طور پر تقسیم کرکے ان کا نام بجٹ دستاویز کے اندر ڈال دیا ہے۔ محکمہ ثقافت کے لئے مختص بجٹ میں شی میل یعنی خواجہ سراؤں کے لئے وظائف کی مد میں فنڈ بھی مختص کر دیا ہے جو لائق صدتحسین وہزار آفریں ہے ۔لیکن “مقطع میں آپٹری ہے سخن گسترانہ بات” اور سخن گسترانہ بات یہ ہے کہ شی میل کو ادیبوں،شاعروں اور فنکاروں کے ساتھ ایک ہی درجے میں رکھا گیا ہے۔ جس طرح بعض محکموں کے عجیب نا م ہوتے ہیں مثلا محکمہ اوقاف،زکوٰۃ، عشر، مذہبی واقلیتی امور ایک نا م ہے۔ اسی طرح محکمہ تعلیم ، لائبریری ، آرکائیوز ایک محکمہ ہے۔ اسی طرح محکمہ ثقافت ،سیا حت ، کھیل و امور نوجوانان بھی ایک محکمہ ہے ۔اس طرح حکومت نے محکمہ ثقافت کے اندروظائف کے لئے جو فنڈ مقرر کیا ہے، اس فنڈ کا نام رکھتے وقت خواجہ سرا ، ادیب ،شاعر اور فنکار کو یکجا کر دیا ہے۔ فنڈ کا نا م ہے “وظائف برائے شی میل وادباء ، شعراء و فنکار وغیرہ “۔گویا خواجہ سراؤں کے لئے وظائف مقرر کرتے وقت حکومت نے ترس کھاکر ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو بھی خواجہ سراؤں کی صف میں شامل کیا ۔تاکہ یاد رکھیں کہ کس سخی سے پالا پڑا تھا اور کب پالا پڑا تھا۔ دور کی کوڑی لانے والے کہتے ہیں کہ حکومت کے علم میں دو طرح کے امکانات ہونگے ۔پہلا امکان یہ ہوگا کہ خواجہ سراؤں میں ادیبوں اور شاعروں کی عادات اور خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ ادیبوں ،شاعروں میں خواجہ سراوں کی بعض عادات ،صفات اور خصلتیں پا ئی جا تی ہیں۔پس دونوں کو ایک ہی درجے میں رکھا جائے۔ دونوں میں” سوز وتب و تاب اول ، سوز وتب وتاب آخر ” والی صفت بہرحال مشترک ہے۔ یہ قضا و قدر کے کارکنوں کا معاملہ ہے کہ انہوں نے خواجہ سرا علشیاہ کو اٹھا لیا۔ وہ حکومت کی پالیسی سے مستفید نہیں ہوسکی۔ اگر وہ حیات ہوتی تو بعید نہ تھا کہ نا صر علی سید، نذیرتبسم ،حسام حُر،سعد اللہ جان برق،ہما یوں ہمااور حمد اللہ بسمل کو علیشاہ اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ وظائف حاصل کر نے کے لئے بلا یا جا تا ۔ایک وظیفہ نا مور ادیب و شا عر کا ہے تو دوسرا وظیفہ نامی گرامی خو اجہ سرا کو دیا جا رہا ہے ۔خو اجہ سرا حیراں ہے کہ میں کسی کی صف میں کھڑا ہوں یا کھڑی ہو ں ، اور ادیب و شا عر کو حیرت ہے کہ اسے کس کی صف میں جگہ دی گئی ہے ۔بقول خواجہ میر درد :
حیرت زدہ نہیں ہے فقط تو ہی آئینہ
ہاں ٹک بھی جس کی آنکھ کھلی ہے سود نگ ہے
ویسے اگر محکمہ ثقا فت کا نام بدل کر اس میں تمام شرکاء کو شا مل کر کے نیا نام رکھا جا ئے تو نئے مالی سال کے بجٹ کی رو سے اس کانام کچھ یوں ہوگا ” محکمہ ثقا فت برائے خو اجہ سرا ،خسرہ گان ،ہیجڑہ گان ،ادیبان ،شاعران ،فنکارا ن صوبہ خیبر پختونخوا” اس طرح محکمے کے نام میں تمام شرکاء سہو لت کے سا تھ جگہ پا ئینگے ۔ کسی کو یہ شکا یت نہیں ہو گی کہ میرا نام نہیں آیا ۔یوں ثقافت کا محکمہ وسیع معنوں میں محکمہ ثقافت بن جا ئے گا ۔گزشتہ سال محکمہ ثقافت نے وظا ئف کے لئے درخواستیں ما نگیں ۔مقا می ڈپٹی کمشنر کو اطلاع نہیں دی۔مقامی پو لیس سٹیشن یا کسی ادبی انجمن سے رجوع نہیں کیا ۔دفتر کے کلر کوں کی ڈیو ٹی لگائی کہ 500 وظائف کے نام دیدو ۔یوں جس کا نام جس کو یاد آیا، اُس نے دیدیا ۔بستر مرگ پر مو ت و حیا ت کی کشمکش میں مبتلا اور ہسپتال کے وارڈ میں مسیحا کا انتظار کرنے والے ادیب ، شا عر اور فنکار پیچھے رہ گئے ۔تگڑے قسم کے سامیوں نے وظا ئف پر ہاتھ صاف کیا ۔لوگ حیران رہ گئے اگر معذور معیار ہے تو فلاں کا نام کیوں نہیں آیا ؟اگر ادبی قد کاٹھ معیار ہے تو فلاں کا نام کیوں نہیں لیا گیا ؟اور اگر نادر و نا تواں ہو نا معیار ہے تو فلاں اور فلاں کو کیوں نہیں ملا؟۔ہما ری حکومت ثقا فت کے معاملے میں بہت حساس واقع ہو ئی ہے ۔اس لئے ثقافت کو محمود ایاز تک طول دینا چا ہتی ہے ۔ادیب اور شا عر کو خو اجہ سرا کی صف میں لانے کا مطلب بھی یہی ہے کہ علامہ اقبال کے اس قول کو درست ثابت کیا جائے “ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز “حکومت جن کو وظا ئف دیتی ہے ۔ان کی عزت نفس کا بھی خیال رکھتی ہے ۔اس لئے خو اجہ سرا کو ادیب ،شا عر ،تخلیق کار ،دانشور اور فنکار کے برابر جگہ دی گئی تاکہ ان کی عزت نفس کسی طرح مجروح نہ ہو۔رہا ادیب ، شاعر اور فنکار کی عزت نفس کا معاملہ، تو اس سلسلے میں حکومت نے ایک اصول وضع کیا ہے ۔ اصول یہ ہے کہ جو حکومت سے وظیفہ لینے کی چکر میں پڑتا ہے ، اُس کی کو ئی عزت نفس ہی نہیں ۔عزت نفس ہو تی تو حکو مت وقت سے وظیفہ لینے کے چکر کیو ں پڑتا ؟احمد فراز نے حکومت وقت کی طرف سے دئے گئے تمغے بھی واپس کر دئے تھے۔ بہر کیف وہ منظر دید نی ہو گا جب ناصر علی سید اور سعد اللہ جان برق اپنا وظیفہ لینے کے لئے خواجہ سراؤں کا پتہ ڈھونڈتے پھریں گے۔ کو ئی خو اجہ سرا آگے ہو تو خراماں خراماں محکمہ ثقافت میں جا کر اپنا نام درج کر ینگے اور اپنے آپ کو بڑی مشکل سے حقدار ٹھہرا کو وظیفہ حا صل کریں گے ۔جن لو گوں نے عمر بھر قنا عت کے سا تھ سا دہ زندگی گزاری وہ آخری وقت پر وظیفہ کے چکر میں اپنا منہ کالا کر ینگے ۔غا لب پر بھی یہ دور آیا تھا:
غالب وظیفہ خو ار ہو دو شاہ کو دعا
وہ دن گئے جب کہتے تھے نو کر نہیں ہو ں میں
خو اجہ سرا ؤں اور ادیبوں کے لئے 500 و ظا ئف مقرر کر کے خیبر پختونخوا کی حکو مت نے تا ریخی کا رنامہ انجام دیا ہے ۔دوسری حکو متوں کو ہما ری تقلید کر نی چاہیے ۔واقعی سچ ہے، تبدیلی آنہیں رہی ، تبدیلی آگئی ہے ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق