اے ایم خان

پس وپیش ایدھی……

 اے ایم خان چرون،چترال



گوکہ میں چند سالوں سے لکھنے کی کوشش کررہاہوں لیکن آج پہلی بار میں اپنے کالم کیلئے عنواں دے نہیں سکا، اور ساتھ مجھے یہ مجبوری بھی پیش آئی کہ میں کسطرح اپنی بات سمیٹھ سکوں۔ مرحوم عبدالستار ایدھی کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے آخر مجھے مناسب یہ لگا کہ کالم کا عنوان بھی ایدھی ہی لکھوں، کیونکہ ’’ ایدھی ‘‘گوکہ پانچ لفظوں کا مرکب ہے لیکن یہ لفظ پاکستان میں غریب ، نادار، بیمار، یتیم ، مسکین، اور زخمی کیلئے اُمید کا لفظ ہے ، اور یہ نام اُنکے اُو پر سایے کی ایک چھتری ہے۔
ایدھی فاونڈیشن ہر قسم کے ’’اِنسان‘‘ کو سایہ فراہم کر دیتی ہے۔ ایدھی اِنسان کو دیکھتی ہے یعنی ایدھی کا مشن اِنسانیت کی فلاح ، بہبود اور خدمت ہے ۔
ایدھی نے اِنسان کی خدمت کے عظیم مشن میں ایک چھوٹی ڈسپنسری سے کام شروع کی، اور ایدھی فاونڈیشن کی ایک چھتر ی بنا لی جس کے زیر سایہ کئی ایک فلاحی کام ہورہے ہیں، جس میں اِنسان سے ایک قدم آگے جانوروں کی فلاح پر بھی کام رہا ہے۔ پاکستان میں اب ایدھی ایمبولینس کا سروس مہیا کرنے والاسب سے بڑا ِ ادارہ بن چُکی ہے۔
ایدھی اب ایک فرد کا نام نہیں رہا بلکہ ایدھی ایک اُمید، سایہ، عظیم اِنسان،ِ ادارہ، ایک وژن، ایک نیک مشن، ایک سروس، اِنسانیت کا عملی مددگار، اور بزرگ صفت اِنسان ہے۔
ایک وقت یہ بھی آیا کہ پاکستان میں سیاسی اور معاشی پیشہ ور لوگ ایدھی فاونڈیشن کے پس منظر میں اپنے اشتہار چسپان کرنے کی کوشش کی لیکن ایدھی اگرچہ تعلیم یافتہ نہیں تھا لیکن اُس نے اپنے پس منظر میں صرف اپنے چند تصویروں کے ساتھ محمد علی جناح کا ایک تصویر ہی رکھنے کی اجازت دی۔اور جب وہ بیمار ہوگئے تو اُسے باہر علاج کروانے کو بھی کہا گیا لیکن وہ اپنا علاج پاکستان میں کرنے پر بضد رہا،اور پاکستان میں اُس کی وفات ہوئی، اِسی لئے اُسے لوگ ’’سب سے امیر غریب ‘‘ کہتے ہیں۔ اُس کی امیری کی یہ حد تھی کہ کروڑوں کی تعداد میں پاکستان اور بیرون ملک سے ڈونیشن اُس کے ہاتھ اور اکاونٹ میں روزانہ جمع ہوتے تھے لیکن اُس کے پاس گاڑی تو دور کی بات، پہننے کیلئے صرف دو جوڑے کپڑے تھے۔ ایدھی صاحب اِنسانیت کی اِتنی گہرائی میں جا چُکا تھا کہ اُن کو اپنے کھانے ، پینے اور پہننے کا اِحساس کم اور اِنسانیت کی فلاح اور فکر زیادہ لاحق تھی، اِسی لئے لوگ اِسے ’’ پاکستان کا فادر ٹیریسا‘‘ (Pakistan’s Father Teresa) کہہ دیتے ہیں۔ ڈان نیوز پیپر میں سمی شاہ کے آرٹیکل کے ابتدائی کلمات میں ’’لیکن‘‘ کا استعارہ ایدھی پر مکمل سجتاہے گوکہ سارا پاکستان اِس ’’ لیکن‘‘ پر پورا نہیں اُترتا، بہرحال ایدھی پاکستانی، مسلمان اور اِنسان ہونے میں دُنیا میں ممتا ز حیثیت کا حامل شخصیت تھا،جسے دُنیا بھی تسلیم کرتی ہے۔
وال اسٹریٹ جارنل اپنے ایک رپورٹ میں ایدھی کے بارے میں لکھتا ہے کہ’’ایک اِنسانیت کا خدمت گزار جسے پاکستان کے لوگوں نے قومی علامت تصور کی۔۔۔جسکی اپنی کوئی دُنیا نہیں سادہ کپڑے پہنا ہوا، دُنیا کی دولت سے اور اپنے خیال سے بے خبر اِنسانیت کی خدمت میں مگن‘‘ اِنسان تھا۔ امریکہ کے ایک دوسرا اخبار ’’اسوسیٹٹ پریس ‘‘ نے ایدھی کو ’’رحم کا فرشتہ ‘‘ سے تعبیر کی۔ برطانیہ کا اخبا ر گارڈین اید ھی کو اُن کے کاموں کو بیان کر کے سراہا او بی بی سی نے اپنے ایشیاء کے صفحے پر فلاح اِنسانیت کے علمبردار کے بارے میں لکھا کہ اُس نے ’’اپنی زندگی غریبوں کیلئے وقف کردی‘‘۔ این ڈی ٹی وی اور ٹائمز آف انڈیا نے ایدھی کے کاموں کو سراہتے ہوئے اُسے Living Saint سے تعبیر کی۔نیویارک ٹائمز جوکہ امریکہ کا مشہور ترین اخبار ہے ، ایدھی کو “Pakistan’s Father Teresa” کا لقب دیا۔ اور انڈیا کا دوسرا اخبار “The Hindu” نے اید ھی کو پاکستان کا مادر ٹیریسا “Pakistan’s Mother Teresa”اور ’خادم اِنسانیت‘ کے صفت سے تعبیر کی۔
مختصراً میرے خیال میں کوئی ایک لقب ایدھی کی شخصیت کا احاطہ نہیں کرسکتا ، اِسی لئے ہر ایک لقب میں ایدھی کے صفات بدرجہ اتم موجود ہیں ،جس سے کم ازکم کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اب یہ بات بھی قابل غورہے کہ ایدھی ایک فرد کی حد سے نکل کر ایک دوسری حیثیت اختیار کر چُکی ہے ، یعنی اگر ایدھی کو غریبوں، یتیموں، بیماروں اور زخمیوں کا مددگارکہاجائے ، تو وہ اِنسانیت کا خادم ہے ۔اگر اُسے اِنسانیت کا خادم کہا جائے تو فلاح اِنسانیت کا علمبردار بھی ہے۔ اگر اُسے اِنسانیت کا علمبردار کہتے ہیں، تو ایک سادہ لوح اِنسان بھی ہے۔ اگر سادہ لوح کہتے ہیں تو یہ ایک بزرگ صفت اِنساں بھی ہے۔ اگر یہ فادر ٹیریسا ہے تو مادر ٹیریسا بھی تھا۔ اگر ایدھی ایک فرد ہے ، تو ایدھی ایک ادارہ بھی ہے۔ اگر ایدھی ایک اِدارہ ہے تو ایدھی ایک مشن بھی ہے ۔ اگر ایدھی ایک مشن ہے تو ایدھی ایک وژن بھی ہے۔ اگر ایدھی ایک غیریب ہے تو ایدھی امیر ترین اِنسان بھی ہے۔ اگر ایدھی مسلمان ہے تو مسلمان کا عملی پہچان اور عظیم اِنسان بھی ہے۔اگر ایدھی اِنسان ہے تو اِنسان سے بڑھ کر فرشتہ ہے۔ اگر ایدھی فرشتہ ہے، تو زمیں میں کیوں تھا؟ اب ایدھی ہمارے ساتھ اِس دُنیا میں نہیں ہے ، یہ سچ ہے۔
اگر ہم ایدھی کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں یعنی اُس کے فلاح اِنسانیت کے وژن اور مشن کو جاری رکھنا چاہتے ہیں گوکہ وہ اب جسمانی طور پر تو اِس دُنیا سے رحلت کر چُکا ہے تو ہم ثمیہ آصف کے دئیے ہوئے اُصولوں کو اپنی زندگی میں اپنائیں تو ہم ایدھی کو زندہ رکھ سکتے ہیں ۔ وہ اُصول ہیں: یتیموں کو نہیں بھولنا،فوت شدہ (نعش) کی تکریم، وسیع سوچ، مذہب سے بالاتر سوچ، ذاتی شہرت سے بالاتر ہوکر کام،جانورون پر رحم، جہد مسلسل،لوگوں پر رحم و شفقت وغیرہ۔ ایدھی کے کئی ایک قول موجود ہے ، میں نوجوانوں کو جو فرمان کیا ہے لکھ دیتا ہوں۔
وفات سے پہلے ایدھی نے نوجوانوں سے مخاطب ہوکر فرمایا تھا: “selflessness, simplicity and honesty are virtues that the young man and women of this country need to adopt”.
ایدھی کی تعریف میں ہر کوئی لکھ سکتا ہے اُس کی ایک صفت کو لیا جائے تو اُس کیلئے اُس کی زندگی میں کئی ایک مثال مل سکتے ہیں ،لیکن میں یہ ضرور کہونگا کہ ایدھی کی شخصیت کا احاطہ چند الفاظ میں نہیں کیاجاسکتا، اِسی لئے میں اپنی کالم یہاں سمیٹ لیتا ہوں اِس دُعاکے ساتھ کہ ’’رب العالمین مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے ، اور اعلی مقام عطافرمائے‘‘۔ امین

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
اظهر المزيد

مقالات ذات صلة

اترك تعليقاً

إغلاق