محمد اقبال شاکر

کاوشات اقبال….آج کی شام تیرے نام

……از محمد اقبال شاکر….


جب کہ وقت اجل اجاتا ہے نہ ایک ساعت پیچھے ہو جاتا ہے نہ ہی ایک ساعت اگے خواہ کوئی دولت میں قارون ،تکبر میں فرعون ،ظلم میں نمرود ،شہ زوری میں رستم ، خوبصورتی میں یوسف ؑ ،درازی عمر میں نوح ؑ ،بسالت میں موسیٰ ؑ ،صبرمیں ایوب ؑ ،عدل و سیاست میں عمرؓ،ملک گیری میں سکندر ،حکمت میں لقمان ،شہادت میں حسین،غریب پرور و خدمت خلق میں ایدھی کیوں نہ ہو لیکن موت سے کسی کو راستگاری نہیں ۔انسان کیسا ہی خدمت گزار ،بندہ پرور اور درویش صفت کیوں نہ ہو لیکن موت کا یقین اس سے علیحدہ ہو نہیں سکتا موت کا سیا ہ بادل جو اس پر آنے والا ہے خواہ وہ کیسا ہی زبردست قوی جوان عمر ہو مگر وموت کے پنجے میں ضررورگرفتارہوگا
رہ مرگ سے کیوں ڈراتے ہیں لوگ
بہت اس طرف کو تو جاتے ہیں لوگ
آج کی شام کسی سیا ست دان ،نواب ،حکمران ،صنعت کار ، بیوروکریٹ کے نام نہیں بلکہ ایک ایسے عالم و مرد درویش و پیکرخدمت فخر انسانیت ،فخرپاکستان ،انسانیت کا مسیحا ،خیالات کی دنیا ،خوابوں کی دنیا ،حقیقت کی سب دنیاؤں میں فلاح انسانیت کا سوچ رکھنے والا،غریب ،مجبور ،لاچار اور بے سہارا انسانیت کے دھڑکنوں کا زبان عظیم ہستی کے نا م ہے جو آج سے 88سال قبل بھارتی ریاست گجرات کے شہربانٹو میں ایک درمیانی درجے رکھنے والے کپڑے کے تاجر کے گھر میں پیدا ہونے ولاے بچے کے بارے میں ہے کہ اس بچے نے بڑا ہوکر نہ صرف اپنے خاندان کا نام روشن کیا بلکہ اپنے قوم اور ملک کے لئے سرمایہ افتخار ثابت ہوا ماں سکول کے زمانے میں دو پیسے اس کو دیتی تھی ایک پیسہ بچاکر کسی حاجت مند کے لئے علحیدہ کر لیتا اور اس کی بچپن کی یہ عادت جو اس کی اندر اسطرح گھر کر گئی کہ خود سے پہلے دوسرو ں کی مدد کرنا جو آنے والے زندگی میں اس کے لئے کامیابی کی منزل ٹھہری ۔قیام پاکستان کے چوتھے روز ہندوستان چھوڑ کر اپنے خوابوں اور حقیقت کی سر زمین پاکستان کے شہر کراچی میں اللہ کے بندو ں کی بھلائی اور فلاح کے کا م میں لگ گیا اور اپنی جمع پونجی سے ایک دوکان خر ید کر دُکھی انسانیت کی خدمت کا کام شروع کیا 1956-57 میں کراچی میں ایک قسم کی وباؤ پھیلی تو اس نے مخیر حضرات کی مدد سے شہر کراچی کے نواح میں خیمے لگا کر مد افتی ادویات کی مفت فراہمی شر وع کی ۔ ایک کاروبار ی شخصیت کی مد دسے ایک ایمبولینس خریدی اور اُس سے خو د چلا کر مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے کا کام شروع کیا ۔جذبہ اور اخلاص نے کام کر دیکھا یا اور دیکھتے ہی دیکھتے فلاحی فاؤنڈیشن کا باقاعدہ آغا ز ہو اجس نے اپنے کاموں سے اقوام کو حیرت میں ڈال دیا سادگی اوردُکھی انسانیت کی خدمت میں بے نظیر یہ شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان اور پوری دنیا میں شعبہ خدمت خلق میں جانی پہچانی شخصیت عبدالستار ایدھی تھے جو ایک سروے کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمولینس سروس کا موجد ہے ۔ جس کے ہزاروں ملازمین، چار ہوائی جہاز، 1800 ایمبولیسنز کئی ہسپتال ، ہوم فار ہوم لیس، ایدھی شیلٹر ،ایدھی ویلج ،ایدھی چائیلڈہوم ، میٹر نٹی ہوم، ایدھی فری لیبارٹری ، ایدھی ریسکیو ،ایدھی پاگل خانے ، اید ھی معذوروں کے لئے گھر بلڈ بینک، نادر ، اور بے سہار مستحق بچیوں کی نرسنگ سکول ، گھرداری کے کورسز ، لاوارث بچوں کے گو دلینے کی مراکز ، ایدھی سکول ایدھی ویٹنری ہسپتال ، ایدھی جھولے عرض زندگی سے متعلق ہر شعبے میں ایدھی خدمت رکھنے والے اتنی بڑی عزت و شہرت کے ثریا میں چمکنے والے ایدھی فاؤنڈیش اربوں روپے کا بجٹ رکھنے والے ایدھی صاحب نے اپنی سادہ زندگی کو ترک نہیں کیا اپنی ذات پر ایک پیسہ تک خرچ نہیں کی سادہ روایتی پاکستانی لباس وہ بھی صرف دو جوڑا گذشتہ سالوں سے انہوں نے جوتے بھی تبدیل نہیں کئے تھے اپنی فلاحی کاموں کے لئے حکومتوں سے امداد نہ لی تو اپنی ذاتی کاموں کے لئے وہ سرکار سے کیسی مد د لیتے اس بنا پر اُس نے سندھ حکومت سے علاج کے لئے بیرون ملک علاج کے لئے لے جانے کی پیشکش مسترد کر دی تھی ۔
لوگ اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتے ، ان کی یادیں لوگوں میں رچی بسی رہتی ہیں وہ آنکھوں سے دور اوجھل ہوجاتے ہیں لیکن دل کی بہت قریب ان کی یاد میں کتابیں تصیف ہوتی ہیں تحریر یں ، نغمے اور نظمیں لکھے جاتے ہیں ان کی خدمات تعلیمی نصابوں میں شامل کئے جاتے ہیں مائیں اپنے بچوں کی لوریوں میں ان کا نام شامل کرتی ہیں ا ان کے یوم پیدائش اور یوم وفات انکے احسانات کو زندہ رکھنے کے لئے منائے جاتے ہیں ۔
صدیوں بعد مٹی ا پنی گود سے ایسے ہیرے تراشے جاتے ہیں اور للہ پاک ایسے نیک سیرت کو اپنی مخلوق کی خدمت کے لئے پیدا کرتاہے کیونکہ اپنے لئے ہر انسان ہوتا ہے دوسروں کی غموں کا مسیحابہت کم لوگ ہوتے ہیں اور مٹھی بھر درد رکھنے والوں کی وجہ سے یہ دنیا قائم دائم ہے ۔جس عزت و احترام سے مولانا عبدالستار ایدھی رخصت ہوئے ۔اس سے کسی کو تعجب ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر کسی ماں کے بچے سے الفت کیا جائے تووہ اس سے اس قدر خوش ہوتی ہے ور اللہ اپنے بندے سے ماں سے ستر گنا ذیادہ پیا ر کرتاہے اورجو کوئی اس کے بندوں کے ساتھ خدمت کے انداز میں اظہارر محبت کریگا تو اس سے وہ کتنا خوش ہوگا ۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

إغلاق