محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان ’’شام غم کیسے ڈھلی‘‘

…………..محمد جاوید حیات…………
ماں باورچی خانے میں تھی چائے پک رہی تھی ۔ دوسرے چولہے پہ ہنڈیا چھڑی تھی دال گرم کی جارہی تھی ۔۔چمچے کی ضرورت پڑی اس نے ہاتھ اٹھائی ہی تھی کہ بجلی چلی گئی ۔چائے ابل کر کیتلی سے باہر امڈ آرہی تھی اس نے جلدی میں چمچے کی تالاش میں چولہے سے ٹکرائی ہاتھ جل گیا اس نے بے اختیار چیخ ماری۔بیٹی چیخ سن کر دوڑتی ہوئی آئی اندھیرے میں چولہے سے ٹکرا گئی ابلتی چائے آمی کے پاؤں پہ گری۔۔پاؤں بھی جل گیا ۔ایک ہنگامہ ہوا ۔۔بیٹی امی کو گھسیٹ کر باورچی خانے سے باہر لے گئی ۔وہ تڑپ رہی تھی ۔ساتھ والے کمرے میں اس کا سیاسی کارکن شوہر فون پہ اپنے بیٹے سے بات کر رہا تھا ۔بیٹا جشن شندور دیکھنے گیا تھا۔۔بیٹے کے فون پہ وزیر اعلی کی تقریر ،ضلعی ناظم کا سپاس نامہ،سیاسی عمائدین کی شرکت ،انتظامیہ کے انتطامات زیر بحث تھے ۔چترال کیلئے پیکیج کی بات ہورہی تھی ۔۔سیاسی شوہر لہک لہک کے گوڈگوڈ کہہ رہا تھا ۔جلتی ہوئی بیوی کی چیخیں اس کو سنائی نہیں دے رہی تھیں ۔کمرے میں کھپ اندھیرا تھا ۔وہ ہائی ہائی کرتی پلنگ پر گر گئی ۔سیاسی شوہر عجیب تھا ۔اس کا کوئی خاص نظریہ نہ تھا ۔وہ سدا دھواں دار تقریر کر تارہتا ۔دلائل دیتا ۔۔سیاسی لیڈروں کی غلطیاں گنواتا۔۔سیاسی پارٹیوں کی کیریئر پر بات کرتا ۔۔جو پارٹی اقتدار میں ہوتی یہ اس کا گن گاتا ۔۔اس کو اپنے گھر آنگن کی فکر نہیں تھی ۔سیاسی جلوسوں میں شوق سے شرکت کرتا ۔تالیاں بجا کے واپس آتا ۔اس کی شرکت کی کوئی اہمیت نہ ہوتی ۔ریڈیو شوق سے سنتا ۔اس کی بیوی ایک سنجیدہ خاتون تھی ۔اگرچہ شوہر کی حرکات اس کو بُری لگتیں ۔اس کی بحثیں اس کے تبصیرے اس کو بلکل پسند نہ تھے۔مگر بحث نہ کرتی۔ وہ ’’معیار تعلیم‘‘کے زمانے کی مڈل پاس تھی ۔۔اس کو کا فی دور کا دور یاد تھا ۔اس کا ابو ایک سلجھے ہوے سیاسی کارکن تھے ۔اس کو سیاسی انقلابات بحوالہ تاریخ یاد تھے ۔بیٹی اس کے جلتے ہوے ہاتھ پاؤں کی مرہم پٹی کی تگ و دو میں تھی ۔اس کو اندھرے میں کچھ نہیں مل رہا تھا ۔امی ساری رات تڑپتی رہی ۔صبح ہمسایے کے گھر سے برنال مانگ کے لائی گئی ۔جلن سوجن میں بدل گئی ۔وہ صاحب فراش ہو گئی ۔۔۔جشن شندور اختتام پذیر ہوا ۔۔چترال نے ٹورنمنٹ جیتا ۔۔۔بیٹا واپس آیا ۔۔۔اور باپ کو روداد سنانے لگا ۔۔ماں کے سر پہ ہتوڑا گرنے لگے ۔۔جشن شندور سے مالی فائدہ ہوتا ہے ۔ٹرانسپوٹرز،ہوٹل مالکان خوب کماتے ہیں ۔ہر لحاظ سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے ۔باہر کے لوگ آتے ہیں ۔جغرافیائی لحاظ سے چترال اور گلگت کی اہمیت بڑھتی ہے ۔۔علاقے کی پسماندگی دور کرنے کے وعدے وعید ہوتے ہیں ۔روڈ بنانے کے خواب ،کارخانے لگانے کے خواب ،روزگار مہیا کرنے کے خواب ،خوشحالی لانے کے خواب دیکھائے جاتے ہیں ۔خوابوں کا ایک سلسلہ ہے ۔۔جب بیٹے نے بجلی گھر بنانے کا ذکر کیا تو ماں کراہتی ہے ۔۔یہ آہ کراہ شوہر کو ناگوار لگتی ہے ۔۔۔کہتا ہے یہ عورت ذات صرف سامنے دیکھتی ہے ۔عجیب خصلت ہے اس کی۔۔ لمحہ موجود کو سوچتی ہے ۔۔یہ سن کر کراہتی بیوی منہ کھولتی ہے ۔کہتی ہے مجھے سنو میں عورت ذات ہوں ۔۔وہ میرا بہت بچپن تھا جب چترال میں ایک بجلی گھر کی بنیاد رکھی گئی ۔۔آج میری ڈھلتی عمر ہے مگر کسی سیاسی پارٹی، کسی سیاسی قائد ،کسی سماجی کارکن نے اس کی حالت بدلنے کا نہیں سوچا۔میں عورت ذات اگر آپ کے چترال کے ان قائدیں کی طرح بار بار اقتدار میں آتی ۔تو خدا کی قسم آج چترال میں دس بجلی گھر بناتی ۔ آج میری طرح کسی کے ہاتھ نہ جلتے ۔۔میں نے دیکھتی آنکھوں سنتی کانوں یہاں پر خلوص کو مرتے دیکھی ہے ۔بس ایک کھیل دیکھی ہے جس کا نام سیاست ہے ۔یہاں ہر کام میں سیاست ہوتی ہے سستی سیاست ۔۔جو کتنوں کے ہاتھ جلاتی ہے ۔میں مانتی ہوں کہ جشن شندور ہماری پہچان ہے ۔ہمارا تعارف ہے ۔مگر اس کے لئے مختص فنڈز سے صرف دو کروڑ اٹھا کر دو جنریٹرز خریدے جائیں اور ان کو ٹاؤن کے بجلی گھر میں پرانی مشینوں کی جگہ رکھے جائیں تو چترال شہر روشن ہو جائے گا ہمارے ہاتھ پاؤں نہیں جلیں گے۔پھر سارے لیڈرز، انتظامیہ،خوشحال لوگ شندور جاکر عیش اڑائیں ۔۔لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔میرے کراہنے پر تم غصہ ہوتے ہو تمہیں اس درد اور محرومی کا احساس نہیں ۔اگر احساس ہوتا تو تم میرے ہاتھ کی جلن اپنے سینے میں محسوس کرتے۔جو قوم اندھیروں میں ٹاکم ٹوئیاں کھاتی ہے وہ روشنی کا حقدار نہیں ہوتی ۔تبدیلی الفاظ کے گورکھ دھندوں کا نام نہیں ۔بیداری ذہن کی بیداری اور مثبت سوچ کا نام ہے ۔جب قوم کا کوئی لیڈر کچھ کرکے قوم پر احسان جتائے تو وہ قوم یقیناًمحرومی کا شکار ہوتا ہے ۔یہ تمہاری دلیلیں اورتبصرے صدا بہ صحرا ہیں ۔ان سے میرا کراہنا اچھا ہے ۔کم از کم درد کا احساس کسی کو دلاتی ہوں ۔۔۔۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق