تازہ ترین

چترالی عوام کوصوبائی و ضلعی نمائندہ گان سے انکی اب تک کی کار کر دگی کے با رے میں پو چھنا چاہیئے۔نذیر احمد صدر آئی ایس ایف

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) نذیر احمد صدر آئی ایس ایف ضلع چترال نے ا پنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ضلع چترال کی مقامی و صوبائی قیادت اپنی نا کامیوں کا ملبہ عمران خان چیئر مین پاکستان تحریک انصاف پر نہ ڈالیں۔اگر ضلع چترال کی قیاد ت اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ ایم این اے، ایم پی ایز اور ضلع چترال کے بلدیاتی نمائندگان کر تے تو ضلع چترال کی تقدیر بد ل چکی ہو تی۔ اُنہوں نیافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب نمائندے عوام کی خدمت کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے سیاسی اسکور بڑھانے میں لگے ہو ئے ہیں۔ انہیں چا ہیئے کہ سب ملکر عوام کی خدمت کریں۔ پاکستان تحریک انصاف کے اتحادی حکومت کے وجود میں آنے کے بعد بلدیاتی الیکشن کر ایا گیا ، KPK کی تاریخ میں سب سے زیادہ رقم تعلیم ، اور پولیس میں اصلا حات پر خر چ کئے گئے جو پچھلی حکومتوں کی بس کی بات نہیں تھی ۔ قدرتی آفات کے بعد صوبائی حکومت نے بر وقت عوام کو ریلف دینے کے لئے اقدامات کیے۔متاثرین کی ہر ممکن مدد کی۔ مگر بد قسمتی سے ہماری ضلعی نمائندہ گان کی آپس میں رنجشوں کی وجہ سے بعض اہم امور ابھی تک تعطل کا شکار ہیں۔ اس بات سے ضلع چترال کے عوام بخوبی واقف ہیں۔ کہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں اولین بات عوام کو انصاف دلانا ہے۔ بعض کمزوریوں کو صرف پاکستان تحریک انصاف سے منسوب نہ کیا جا ئے انکے اتحادی جماعتوں کا بھی حال پوچھا جا ئے۔رہی بات ضلع چترال میں PTI کی حکومت کی، چترال میں ایم این اے (APML ) ایم پی ایز (PPP ) ڈسٹر کٹ ناظم جماعت اسلامی ، تحصیل نا ظم (جماعت علما ،ف) کے بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہPTI کے بعض ضلعی قیادتوں نے پاکستان تحریک انصاف کے منشور کی خلاف ورزیاں کی ہیں جنکی وجہ سے پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ PTI ورکروز چترال نے ہمیشہ حق اور صداقت کا ساتھ دیا ہے اور دیتے رہیں گے۔ ہم چا یتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بلا تفرق انصاف ہو۔ہمیں ملکر انصاف کے لئے کو ششیں کرنی چا ہئے ۔ورنہ ہم اسی طرح مسائل کا شکار رہیں گے۔عمران خان پاکستانی عوام کو انکا حق دینے کے لئے پچھلے آٹھارہ سالوں سے جدو جہد کر رہا ہے۔ نو جوانانِ چترال کو چا ہیئے کہ انصاف کی اس جد و جہد میں ان کا ساتھ دیں۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
مزید دیکھائیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق