محمد صابر

مسلمان ، صاحب قرآں اور تارک قرآں (مختصرجائزہ )

محمد صابر ــــــــــــــــــــــ گولدور چترال


آج سے تقریبا کم و بیش14 سو سال پہلے جب دین اسلام کا سورج طلوع نہیں ہوا تهاـ  اس وقت بت پرستی ، قتل وغارت گری ، شراب نوشی ، چوری اور  زنا عام تھے ـ
مگر ! طلوع اسلام کے ساتھ ہی ان خرافات و واہیات کا قلع قمع ہوناشروع ہو گیا ـ
پیغمبر اسلام ﷺ نے سب سے پہلے وحدت کا درس دیا ـ ﷲ ایک ہے ـ اس کا کوئی شریک نہیں ـ  جس جس نے خلوص دل سے پیغمبر اسلام ﷺ کی بات سنی وہ مشرف بہ ایمان ہوئے  ـ اور وہی لوگ ایمان کی دولت سے محروم رہے ، جن کے دلوں پر قلف لگے ہوئے تھے ـ
جب بھی اس مبارک زمانے کی بات ہوتی ہےـ اور پھر جب ہم موجودہ زمانے کی طرف دیکھتے ہیں ـ تو بہت بڑا تضاد ہمیں نظر آتا ہےـ
وہ مسلم و مسلمات ہم سے بہت ہی مختلف  تھے ـ ان کے پاس بھی اسی قرآن پاک کا نسخہ تها اور ہمارے پاس بھی وہی  قرآن پاک کا نسخہ ہے ـ
مگر پھر بهی اتنا بڑا تضاد کیوں ہے ہم میں اور ان میں!!
وہ کامل ایمان والے لوگ وہ متقی اور پرہیز گار لوگ ـ جنہیں دنیا صحابہ کرام کے نام سے جانتی ہے ـ  قرآن پاک ان کی زندگی کا مہور تھا ـ ان کے معاملات لین دین کردار و شخصیت صاف شفاف تھے ـ ان کے قول و فعل میں تضاد نہیں تها ـ جو کہ ہم میں کوٹ کوٹ کر بهری ہوئی ہے ـ
وہ جب کسی سے بات کرتے تو اخلاقیات کا پورا پورا خیال رکھتے اور ہمیشہ سچ بات کرتے ـ وہ شمع علم (قرآن و حدیث) کے پروانے تھے ـ  ان کا کوئی مسلک نہیں تها، سوائے قرآن و حدیث کے  ـ وہ خود کو صرف مسلمان کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے ـ آج ہم خود کو دیوبندی،بریلوی،حنفی،شافعی وغیرہ کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ـ اصحاب رسول ﷲ ﷺ
واقعی صاحب قرآن تهےـ
دنیا اسلام سے قبل  جنہیں جاہل و بے وقوف جیسے ناموں سے پکارتی تهی ـ قرآن اور نبی ﷺ کی صحبت نے رہتی دنیا کےلیے انہیں ایک عظیم مثال بنا دیا ـ
آج اگر ہم اپنا محاسبہ کریں ـ ایک  مختصر سا تقابلی جائزہ اپنی ذات کا کریں  ـ تو یقین جانے کہ ہم ان کی طرح کبھی بهی نہیں بن سکتے ہیں ـ ہم صحیح انسانیت اور مسلمانی سے کوسوں دور ہیں ـ بلکہ یوں کہئے ہم  ہزار سال کی دوری پر ہیں ـ ہم میں وہ سب خرابیاں ہیں جو کہ ایک بیمار قوم میں ہوتی ہیں ـ ہم اس قدر گر چکے ہیں کہ انسانیت بھی شرما جائے ـ اس کی وجہ کچھ اور نہیں بس صرف اور صرف قرآن سے دوری ہےـ
جیسا کہ علامہ محمد اقبال رح فرماتے ہیں :

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں  ہو کر
اور (  ہم  ) خوار ہوئے تارک قرآں ہو  کر

اس مصرعہ  میں اقبال رح فرماتے ہیں وہ معزز تھے وہ کون یعنی کہ صحابہ کرام صاحب قرآن ہونے کی وجہ سے معززین میں سے تھے ـ اور ساتھ ہی فورا ہمارے زوال کی وجہ بھی بتا دی ـ
قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہےـ قرآن کهول کر دیکھ لیں ـ کیا نہیں ہے قرآن  میں ـ زندگی کا ہر ایک پہلو آپ کو ملے گا ـ  کوئی ہے جو قرآن میں تدبر و تفکر کرے ـ قرآن ہم سے کیا کہتا ہےـ کوئی ہے جو اس کی عمیق گہرائی میں اترے اور ان لعل و جواہر کو دنیا کے سامنے پیش کرے ـ
(قرآن دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے  والی وہ واحد کتاب ہےـ جس کو بلا سوچے سمجھے پڑھا جاتا ہےـ )
قرآن پاک کے بعد احادیث نبوی ﷺ کا مقام ہے ـ  قرآن پاک کی تشریح وتوضیح احادیثِ مبارکہ ہی کی بدولت ممکن ہوئی ورنہ قرآن پاک کو صحیح معنی میں سمجھنا  نہایت مشکل ہوتاـ
(مگر بد قسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں ایک ایسا طبقہ بهی ہےـ جو سرے ہی سے  احادیث کو نہیں مانتا جنہیں ہم منکر حدیث کہتے ہیں ـ)

بہرحال موضوع کی جانب آتے  ہیں ـ ہمارے قول و فعل میں تضاد کی وجہ قرآن سے کنارہ کشی ہےـ امت مسلمہ کی زوال کی وجہ ہمارا صاحب قرآن نہ ہونا ہےـ
صاحب قرآن ہونے کےلیے ضروری ہے کہ کچھ وقت قرآن پاک کے لیے مختص کیا جائے ـ یہ کوشش کیا جائے  کہ قرآن کا ترجمہ ضرر پڑھا کریں  ـ تاکہ ہمیں پتہ تو چلے  ﷲ کا پیغام بندوں کے نام کیا ہےـ
آئیے پھر دیر کس بات کی اپنے قول وفعل کی اصلاح کریں اور اسلام کو پھر سے دنیاپر غالب کرنے کے لئے کوشش کریں ـ
ﷲ پاک ہم سب کو توفیق دےـ آمین

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق