ارشاد اللہ شاد

رموز شادؔ ۔۔۔انوکھی سزا۔

………..۔۔ارشاد اللہ شادؔ ۔۔بکرآباد چترال

Advertisements

جواد بیٹا دکان سے ایک کلو دال جلدی سے لے آؤ۔ جواد کی امّی نے جو جواد کو دیکھ کر بلند آواز سے کہا ۔جواد اس وقت کھیل کر گھر میں داخل ہو رہا تھا۔
جی امّی ! ابھی جاتا ہوں‘‘جواد نے جواب دیا اور گھر سے کچھ ہی دور موجود دکان کی طرف چل پڑا ، دکان پر پہنچ کر جواد نے ایک کلو دال کا آرڈر دیا۔
دکاندار جواد کی بات سُن کر مڑا اور دکان کے اندرونی حصے کی طرف دال لینے کیلئے چلا گیا۔ اسی دوران جواد کی نگاہ دکان میں سامنے کیس میں رکھے ایک ڈبہ پر پڑی جو رنگ برنگے کیکوں سے بھرا پڑا تھا ۔ کھیل کود میں مشعول ہو کے جواد کو کافی بھوک لگی ہو گی اسلئے دل میں نجانے کیا خیال آیا اس نے دکاندار کو اپنی طرف متوجہ نہ پاکر جلدی سے ایک کیک اٹھایا اور منہ میں ڈال کر نگلنے کی کوشش کرنے لگا۔ اسی دوران دکاندار واپس آگیا اور جواد کو دال دی ۔ جواد نے دال لیکر رقم ادا کی۔ اور گھر کی طرف چل پڑا۔
جواد دل ہی دل میں بہت خوش تھا کہ دکاندار اس کی چوری کو نہیں دیکھ سکا ۔ اور کیک مفت میں اُس کو کھالیا ۔ کیک کا ذائقہ جواد کو بہت اچھا لگا، لیکن اسے محسوس ہو رہا تھا کہ جب اس نے کیک کھایا ہے اسکے گلے میں کوئی چیز پھنس سی گئی ہے۔ جواد گھر پہنچا ، ماں کو دال تھمائی اور ایک کمرے میں موجود ائینے کے سامنے جاکر کھڑا ہو گیا، جواد نے اپنا منہ کھولا اور ائینے کی مدد سے گلے میں جھانکنے لگا، کہ وہ کونسی چیز ہے جو اس کے گلے میں پھنس گئی ہے، اور اب تو درد بھی ہونے لگا ہے ۔ جواد آئینے کے سامنے کھڑے منہ کھولے دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک امّی کمرے میں داخل ہوئیں اور جواد کو یوں منہ کھولے آئینے کے سامنے دیکھ کر حیران ہوئیں اور پوچھا بیٹا! اس طرح منہ کھولے آئینے کے سامنے کھڑے کیا دیکھ رہے ہو۔
ابھی جواد نے اتنا ہی کہا تھا کہ اس کے گلے میں ایسا شدید درد ہوا جیسے اس کے گلے کو کسی نے تیز دھار آلے سے کاٹ دیا ہو، جواد وہی زمین پر لوٹ پوٹ ہوا ۔ جواد کی امّی یہ دیکھ کر گھبرا گئیں کہ اچانک میرے بیٹے کو کیا ہو گیا ہے؟ جواد کی امّی نے جلدی سے جواد کو سیدھا کرکے بستر پر لٹایا اور پوچھا کہ کیا ہوا ہے بیٹا؟
جواد مسلسل چیخنے ، چلائے جا رہاتھا، اس کے گلے سے عجیب و غریب آوازیں نکل رہی تھیں۔ اس کے منہ سے ہلکا سا خون بھی باہر نکل رہا تھا ۔ جواد کی امّی نے یہ دیکھ کر سٹپٹا گئیں اور زور زور سے سب گھر والوں کو آوازیں دینے لگئیں جواد کے ابو ،دادا ،بہن، بھائی سب دوڑے چلے آئیے اور جواد کی حالت دیکھ کر سب گھبرا گئے۔
جواد کی ابّو نے سختی سے پوچھا کہ جواد سچ سچ بتاؤ کیا کھایا تھا جس کی وجہ سے یہ حالت ہوررہی ہے۔ جواد نے جب یہ دیکھا کہ اب بتانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ،تو اس نے روتے ہوئے شرمندہ لہجے میں سب کو بتایا دیا کہ اس نے دکاندار کی نظروں سے بچ کر ایک کیک کھایا تھا تب سے اس کے گلے میں کوئی چیز پھنس گئی ہے۔
جواد کے ابّو نے ایک خشک روٹی کا بڑا سا ٹکڑا منگوایا اور جواد کو اس کو نگلنے کا حکم دیا۔ جواد مسلسل اس خشک روٹی کے ٹکڑے کو نگلنے کی کوشش کر رہا تھا، کہ اچانک اُسے زور دار ابکائی آئی اور مسلسل قے شروع ہوگئیں ، جیسے ہی قے رُکی ، جواد کو گلے میں کچھ سکو ن محسوس ہوا، جواد کے ابّو اب اس قے کو دیکھ رہے تھے کہ آخر کیا چیز جواد کے گلے میں پھانس بن کر اسے تکلیف دے رہی تھی۔ اچانک جواد کے ابّو کو چیونٹے کا پچھلا حصہ نظر آیا اور یہی چیونٹا جواد کے گلے می پھنس گیا تھا، چیونٹے دیکھ کر اب سب کو یہ بات سمجھ آگئی کہ جب جواد نے جلدی کیک اٹھا کر منہ میں ڈالا تھا، تو اس وقت وہ چیونٹا اس کیک پر بیٹھا تھا۔ اور کیک کے ساتھ جواد کے منہ میں چلا گیا، لیکن پیٹ میں جانے کی بجائے حلق میں پھنس کر رہ گیا۔ اب جواد کو اس کے کئے کی سزا مل چکی تھی۔وہ سب گھر والوں کے سامنے نادم کھڑا تھا۔ جواد کے ابّو نے جواد کو گلے سے لگایا اور معاف کر دیا ، اور وعدہ لیا کہ آئندہ جواد کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گا ۔
عصر کی نماز پڑھ کر حسبِ معمول میں دکان کی طرف چل پڑا اور باتوں باتوں میں دکاندار بھائی کو سارا ماجرا سنایا جو جواد کے ساتھ رونما ہوا ۔ اور یوں ہم مل بیٹھ کر کافی ہنس پڑا۔
اگلے دن جب جواد کی حالت سنبھل گئی تو اماں نے جواد کو پانچ روپے دے کر کہا بیٹا جاؤ پیسہ دکاندار کو دے کر آؤ۔ جواد پیسہ ہاتھ میں پکڑے دکان کی طرف جارہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ دکاندار کو کیا بولوں لیکن اُسے پتہ نہیں تھا کہ شادؔ پہلے ہی دکاندار کو سارا ماجرا سنایا ہے۔ اسی سوچوں میں گُم جواد دکان پر پہنچ گیا، اور دکاندار سے کہا معذرت انکل ، آپکی دکان سے میں نے غلطی سے کیک کھایا تھا پھر جواد ے جیب سے پیسے نکالے اور دکاندار کی طرف بڑھادیئے ۔ دوکاندار جواد کی ایمانداری کو دیکھ کر خوش ہوا،اور سامنے پڑے ہوئے اسی کل والے کیک کی طرف ایک اور کیک نکال کر جواد کی طرف بڑھادیا اور کہا بیٹا یہ کیک بھی لے لو ۔ یہ میری طرف سے اس ایمانداری کا انعام سمجھ کر کھالو۔
اب جواد کیک کھا کر گھر پہنچا اور اطمینان کا سانس لیا اور دل میں تہیہ کر لیا کہ آئندہ وہ کبھی چوری نہیں کرے گا اور نہ ہی کبھی کیک کھائے گا۔
یوں جواد کی پہلی غلطی اس کی آخری غلطی بن گئی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى