ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا ………….چینی صدر سکول میں

…………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ………..
وطن عزیز پاکستان میں کسی کو یقین نہیں آئے گا اخبارات میں تصاویر کے ساتھ خبر لگی ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ کسی پروٹوکول کے بغیر سائیکل چلاتے ہوئے اُس پرائمری سکول میں داخل ہوگئے جہاں انہوں نے بنیادی تعلیم حاصل کی تھی سکول پہنچنے پر سکول کے استاد وین شین نے اُ ن کاا ستقبال کر تے ہوئے کہا کہ آج ہم صدر مملکت کو سکول میں خوش آمدید کہتے ہیں اس کے جواب میں چینی صدر نے تاریخی جملہ کہا ان کا جواب تھا ’’ سکول میں کوئی صدر نہیںآیا طالب علم آیا ہے یہاں یا تو استاد آتا ہے یا طالب علم ‘‘ خبر کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ چینی صدردیر تک اپنے سکول میں رہے انہوں نے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ بات چیت کی اپنے بچپن کی یادیں تازہ کیں اپنے فٹ بال کھیلنے کا ذکر کیا انہوں نے ابتدائی تعلیم کی ضرورت اور اہمیت پر رشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور مساوات کا سبق ہمیں پرائیمری سکول سے ملتا ہے ایک اچھا سکول ہمیں اچھی قوم اور اچھا معاشرہ دے سکتا ہے ہمارے نقطہ نظر سے چینی صدر کی ہر بات کی جامع تشریح ہونی چاہیے مگر باتوں کی تشریح سے زیادہ ا ہم بات یہ ہے کہ ڈیڑھ ارب کی آبادی کا صدر اپنے بچپن کے پرائیمر ی سکول کویاد کرتا ہے اپنے بچپن کے سکول میں داخل ہوتا ہے تو عام شہر ی کی طرح اس میں داخل ہوتا ہے وہ سکول کے اساتذہ اور طلبہ / طالبات کو اپنے سے کم تر ، فروتر اور اچھوت نہیں سمجھتا اس دورے سے پہلے 500 فوجی کمانڈر ز اور 500 پولیس اہلکار سکول پر قبضہ کر کے بچوں کو بند وقوں کے بٹ مارکر کمروں میں بند نہیں کرتے سکو ل کی چھت پر مورچے نہیں بناتے چینی صد ر کے ساتھ 300 کمانڈوز بندوقین تان کر سکول میں داخل نہیں ہوتے چینی صدر کے آنے کے دن گاؤں کی سڑکین 10 گھنٹوں کے لئے بند نہیں ہوتیں چینی صدر کے آگے پیچھے 50 موٹروں کا جلوس نہیں ہوتا چینی صدر کے آنے کے موقع پر پولیس کی گاڑیاں ہسپتال کی ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کی طرح ہولٹر بجاکر لوگوں کا جینا حرام نہیں کرتے چینی صدر خاموشی کے ساتھ سائیکل پرسوار ہو کر اپنے بچپن کے زمانے کے سکول میں داخل ہوتا ہے ایک اور اہم بات یہ ہے کہ چینی صدر اپنے بچپن کے سکول کا ہائی درجہ دینے کا اعلان نہیں کرتا سکول کی عمارت کے لئے دو چار کروڑ روپے کی گرانٹ نہیں دیتا وہ سیاستدان ہیں عوام کے ووٹوں سے صدر منتخب ہوا ہے پرائیمر ی سکول کو مڈل یا ہائی کا درجہ دینا اس کے ا ختیار میں نہیں یہ متعلقہ محکمے کے افسر مجاز کا اختیار ہے سکول کی عمارت کے لئے دو چار کروڑ کی گرانٹ دینا چینی صدر کے اختیار میں نہیں یہ بھی متعلقہ محکمے کے مجاز افیسر کے دائر ہ اختیار میںآتا ہے ہمارے بابائے قوم قائد اعظم محمد جناح بلوچستان کے صحت افز ا مقام زیارت میں زیر علاج تھے را ولپنڈی کے رہنے والی ایک نرس نے ان کی بہت خدمت کی تھی ایک دن نرس سے باباقوم سے درخواست کی کہ مجھے راولپنڈی ٹرانسفر کیا جائے تاکہ بوڑھے ماں باپ کی خدمت کروں قائد اعظم نے فرمایا ’’ یہ تمہارے محکمے کے ڈائر یکٹر کا اختیار ہے میرا اختیار نہیں چین پاکستان کا دوست ملک ہے ہمارے سیاستدان چین کے دورے بھی کرتے ہیں مگر چینی قیادت کے تعمیر ی سوچ اور مثبت اندازِ حکمرانی کو اپنا نے پر غو ر نہیں کرتے تعمیر سوچ یہ ہے کہ ملک کا ہر شہری عزت کے لائق ہے استاد اور طالب علم بھی عزت کا حق دار ہے ملک کا بڑا یا چھوٹا سیاستدان کسی سرکاری سکول ہسپتال یا دفتر میں جائے تو اس کے مقام اور اس کی عزت کی فرق نہیں آتا ملک کا سیاستدان اور منتخب نما ئیندہ ملک کے کسی شہری یا سرکاری ملازم سے برتر نہیں ہے منتخب صدر کا وہی مقام ہے جو ملک کے عام شہری کا ہے مثبت انداز فکر یہ ہے کہ ملک کے اندز سکول ، ہسپتال اور دفتر عوام کی سہولت کے لئے ہوتے ہیں عوام کو تنگ کر نے کے لئے نہیں ہوتے اس تعمیر ی سوچ اور مثبت طرز فکر کو لیکر کوئی سیاستدان پارلیمنٹ کا ممبر ، گورنر ، وزیر یا صدر بنتا ہے تو وہ عوام کو اچھوت اور اپنا دشمن قرار نہیں دیتا بلکہ سب کو اپنا بھائی ، اپنی بہن سمجھتا ہے سب کو مساوی سلوک کا حقدار سمجھتا ہے ملک کی فوجی اور ملکی پولیس منتخب سیاستدانوں کی حفاظت پر مامور نہیں ہوتی ان کے آتے جاتے وقت سڑکوں کو بند نہیں کیا جاتا بلکہ وہ بھی عام شہریوں کی طرح ان سڑکوں پرسفر کرتے ہیں اس لئے وہ آسانی سے سکول بھی جاسکتے ہیں ہسپتال بھی جاسکتے ہیں عوام اور حکمران کے درمیان فاصلے نہیں ہوتے دوریاں نہیں ہوتیں دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں دونوں میں، اُنس ، محبت ، بھائی چارہ اور قربت کا رشتہ ہوتا ہے یہ وہ طرز حکمرانی ہے جس کی بنیاد رسول اکرام ﷺنے رکھی خلیفہ دوم سید نا عمر فارق نے اس پر عمل کر کے دکھایا آج کل چینی قیادت نے اس طرز حکمرانی کو اختیار کیا ہوا ہے چینی صدر شی جن پنگ اپنے بچپن کے پرائیمری سکول جاتا ہے عام شہری کی طرح سکول کے اساتذہ اور طلبہ ، طالبات سے ملتا ہے ان کیساتھ تبادلہ خیلات کرتا ہے ہم نے چین سے ٹینک بنانے کی ٹیکنا لوجی سیکھی ، جہاز بنانے کی ٹیکنا لوجی سیکھی مگر اپنے ہم وطنوں کو انسان سمجھنے ، معزز شہری کا درجہ دینے اور اپنے داروں کی تنظیم و تکر یم کر نے کی حکمت علمی نہیں سیکھی وہ دن کبھی نہیںآئے گا جب پاکستان کا کوئی سیاسی لیڈر ، ایم پی اے ، ایم این اے ، کوئی وزیر یا صدر یا گورنر کسی سرکاری سکول یا ہسپتال جا کر عملے کے ساتھ تبادلہ خیال کریگا ہمارے سیاستدان اپنے آپ کو وطن عزیز کے شہر یوں سے ، اساتذہ سے ، ڈاکٹروں سے افیسروں سے ، طالب علموں سے برتر اور اعلیٰ ترین قسم کی مخلوق سمجھتے ہیں اب تک پاکستان میں وہ سیاسی لیڈر پیدا نہیں ہوا جس کو مشورہ دیا جائے کہ چینی قیادت سے اپنے عوام اور اپنے اداروں کا احترام بھی سیکھو
ندا آئی کہ یہ آشو بِ قیامت سے یہ کیا کم ہے
گرفتہ چینیاں احرام و مکّی خُفتہ در بطحا
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق