محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان ……………’’اس کہانی کی کہانی‘‘

………….محمد جاوید حیات …………
ایک بہت حسین و جمیل لڑکی تھی ۔اللہ نے اپنی تخلیق کا کمال دنیا والوں کو دیکھا یا تھا۔۔احسن الخالقین نے شاہکار تخلیق کیا تھا۔مگر بد قسمتی سے وہ دونوں آنکھوں سے اندھی تھی ۔۔اس نے دنیا کی خوبصورتی دیکھی نہیں تھی ۔۔اس پر ایک نوجواں عاشق ہوگیا ۔۔عاشق صادق تھا اس لئے اس پہ قربان ہو نے کو تیار ہو گیا ۔۔مگر لڑ کی نے کہا کہ میں آنکھوں سے اندھی ہوں ۔میں اگر اپنی آنکھوں سے تجھے دیکھ سکی تو تجھ سے شادی کروں گی پہلے میری آنکھوں کی روشنی کہیں سے لا ۔۔۔عاشق صادق نے آپنی آنکھیں اس کو دے دی ۔۔لڑکی نے دنیا دیکھی اس کی خوبصورتی دیکھی۔۔مگر اس نے لڑکے کا پروپوزل کنسل کردیا ۔۔لڑکا بہت دل برداشتہ ہوا ۔۔مگر محبت کے ہاتھوں مجبور اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا ۔۔مگر جاتے جاتے اس نے اتنا کہا۔۔’’مہربانی کرکے میری’’آنکھوں ‘‘کی حفاظت کرنا ‘‘۔۔ایک بڑے سکول کے گیٹ سے باہر نکلتے ہوئے میرا بھی دل چاہا کہ یہ کہانی کاغذ پہ لکھ کر گیٹ کے اندر پھینک جاؤں ۔۔کہ اس ادارے میں میری آنکھیں ہیں میرے بھی خون سے سینچے ہوئے پودے ہیں ۔۔میں نے بھی کسی کو لفظ لفظ بولنا سیکھایا ہے ۔۔میں نے بھی کسی کو اتنا جرات مند بنایا ہے کہ وہ لاکھوں کے ہجوم میں بول سکے ۔۔یہ میری آنکھیں ہیں ان کا خیال رکھنا ۔۔پھر میرے دل میں یہ خیال آتے ہی میں بھاگم بھاگ دوڑا ۔۔کہ تو اس بڑے ادارے کے لائق نہیں ہے ۔۔یہاں پر بڑے اسکالر ٹائپ لوگ ہیں ۔۔یہ لوگ بے مثال ہیں ۔۔یہ چراغ ہیں تو جگنو ہے یہ تناور درخت ہیں تو تنکا ہے ۔۔تو خود بول نہیں سکتا تو کسی کو بولنا کیا سیکھائے گا ۔۔سیاست کے پلیٹ فارم میں تیرا تعارف نہیں ۔بڑے بڑوں کی محفلوں میں تیرا ذکر نہیں ۔۔دھندوں میں تیرا شمار ہیں ۔۔تو تو مسمار بنا پھرتا تھا تیری آنکھیں کہاں تھیں ۔۔کہ تو کسی کو دیتا ۔۔تیرے الفاظ کہاں تھے کہ تو کسی کو سیکھاتا ۔۔تیری صلاحیتیں کہاں تھیں کہ تو بروئے کار لاتا ۔۔یہاں تولوگوں کو تعلیم دینی ہے ۔۔علم کی روشنی سے ملامال کرنا ہے ۔۔صلاحیتیں نکھارنی ہیں ۔۔تو تو روکاوٹ تھا ۔۔ایک ادارے کی شان کی راہ میں ۔۔۔اس کی اپنی ایک شان ہے اس کا استاد عظیم الشان ہے ۔۔۔اس کے درودیوار سے علم کی خوشبو آتی ہے ۔۔۔تو جا اپنی بے نور آنکھوں کے ساتھ کہیں دور چلے جا۔۔۔وہاں جہان روشنی کا نام و نشان نہ ہو ۔۔لوگ تجھے جگنو سمجھ کر تجھ سے کھیلیں ۔۔تو بچوں کی تفریح کا سامان بنے ۔۔۔بچے تیرا گیت گائیں گے ۔۔تجھ سے پیار کریں گے ۔۔۔تو بڑوں کے پیا ر کے قابل نہیں ۔۔بچے تجھے پکڑنے کی کوشش کریں گے ۔۔تو ان کی مٹھی میں مت آنا البتہ ان کا دل رکھنا ان کو سمجھانا کہ جگنو کو پکڑا نہیں کرتے تیلی کے پر کاٹا نہیں کرتے ۔۔پھول مسلا نہیں کرتے ۔۔سورج کو گالیاں نہیں دیا کرتے چاند کو بدصورت نہیں کہا کرتے موتی اور خاک ایک پڑلے میں نہیں تولا کرتے ۔۔جا جا ان کے پاس جا یہاں پر تیری کیا حیثیت ہے ۔۔یہاں تو بڑے بڑے چراغ جلتے ہیں ۔۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ ان چراغوں کے تلے اندھیرا ہے ۔۔تو نے آپنی آنکھیں خوبصورت لڑکی کونہ سوچتے ہوئے کیوں دے دی ۔۔تو صاف انکار کرتا تو کہتا ’’کہ جب رب نے تجھے آنکھوں سے محروم کر دیا ہے تو میں کیوں تجھے اپنی آنکھیں دے دوں؟ ۔۔ اس کو اندھا رہنے دیتا۔۔وہ دیکھنے کے قابل ہوگئی تو تو اس کو نظر نہیں آیا ۔۔تو نے آپنی آنکھوں کی قدر نہیں کی ۔۔تجھے تیری نا شکری کا بدلا مل گیا تیرا بھروسہ غلط تھا ۔۔کہ ایک انسان کسی انسان کو کچھ دے سکتا ہے ۔۔
ایک انسان کسی انسان کو کیا دیتا ہے
آدمی صرف بہانہ ہے خدا دیتا ہے ۔۔
تو چپ کر تیری کوئی آنکھیں نہیں ہیں ۔۔چھڈ تو کیا لفظ بنائے گا ۔۔۔گونگے کہیں کے ۔۔۔۔جا تو چمکتے لوگوں کی محفل میں اندھیرا پھیلا رہا تھا ۔۔تجھے خود کہنا چاہیے تھا کہ ۔۔۔
در محفل خود راہ مدہ ہمچومنے را
افسردہ دل افسردہ کند انجمنے را ۔۔
تو انجمن کو افسردہ کرتا تھا خوشا وقتے تیرے وجود سے نجات مل گئی ۔۔پیچھے مڑ کے نہ دیکھ تیرے پیچھے دیدے چھڑائے ہوئے مگر مچھ ہیں ۔۔۔دوڑے چل کہ تجھے ڈس نہ لیں ۔۔۔یہ مادر علمی اس قوم کی تاریخ ہے ۔۔یہاں پر تاریخ ساز لوگ آئیں گے ۔۔خواہ ان کے ہاتھ میں قلم ہو نہ ہو ۔۔خواہ ان کے منہ میں زبان ہو نہ ہو یہاں پہ رہنا ان کا حق ہے ۔۔۔۔تو اپنی حیثیت کے ساتھ شکر کر ۔۔۔۔۔۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق