ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد………تیسری قوت کا زوال

………….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ……….


ایک کے مقابلے میں دوسیاسی جماعتیں مقابلے اور مسابقے کی فضا پیدا کر تی ہیں تیسری قوت سامنے ہو تو ان دونوں کو اعتدال پر رکھنے میں مد د ملتی ہے وطن عزیز پاکستان میں عوامی لیگ کی علیحد گی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی اس کا مقابلہ مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں سے رہا کبھی ایک دھڑا آگے آیا ،کبھی دوسرا دھڑا آگے آیا 2013 ؁ء کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو تیسری قوت کی حیثیت حاصل ہوگئی خیبر پختونخوا میں حکومت مل گئی بلوچستان ، سندھ اور پنجاب میں اس کی مقبولیت کے امکانات پیدا ہوگئے عمران خان کے دو خوبیاں ایسی تھیں جن کی بنا ء پر لوگوں نے ان کی ذات اور شخصیت کواُمید وں کا محور بنا لیا پہلی خوبی یہ تھی کہ ان کی پرورش مغر بی ماحول میں ہوئی تھی یو رپ کے کلچر اور یورپ کی سیاسی فضا میں اُن کوسیاست اور سیاسی اداب سیکھنے کا موقع ملا تھا دوسری خوبی یہ تھی کہ وہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی طرح صاف ستھر ے ، امانت دار ، دیانت دار اور سچے کھرے نظر آتے تھے اگر پی ٹی آئی کو صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نہ ملتی تو عمران خان کی شخصیت کا کرشمہ اگلے 10 سالوں تک کام دے سکتا تھا لیکن خیبر پختونخوا میں حکومت ملنے کی وجہ سے ان کی شخصیت کا کرشمہ ٹوٹ کر بکھر گیا اور تیسری قوت ہونے کا تاثر زائل ہونا شروع ہوا ساڑھے تین سال حکومت میں رہنے کے بعد صوبے کے اندر پی ٹی آئی کی مقبولیت کا گراف نیچے گرا یہاں تک 30 ستمبر کو نواز حکومت کے خلاف رائیونڈ ریلی اور اڈہ پلاٹ لاہور کے مقام پر جلسہ عام سے اُن کے خطاب نے مزید خرابی پیدا کردی اپنی تقریر میں پی ٹی آئی کے چےئر مین عمران خان نے کوئی انقلابی نعرہ ، کوئی نئی بات ، کوئی کرشماتی منصوبہ سامنے لانے کی جگہ نواز حکومت کو محرم گذرنے کی ڈیڈ لائن دیدی سیاسی پروگرام پیش کر نے کے بجائے نواز شریف کی ذات پر حملے کئے اُن کے دل کی بیماری کوپیٹ کی بیماری قرار دیا اور ایک بالغ نظر سیاست دان کی جگہ سطحی سوچ رکھنے والا واعظ یا عام مقر ر ثابت کردیا پی ٹی آئی کی عمومی حکمت عملی میںیہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ کسی واقعے سے پہلے توقعات کو آسمانوں پر لے جایا جاتا ہے پہلے 4 حلقوں کے نتائج سے بے جا توقعات وابستہ کی گئیں پھرلاہور اور کراچی کے ایک ایک حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخابات کو بڑ ھا چڑ ھا کر پیش کیا گیا اسلام آباد دھرنے کو ملکی تاریخ کا سنگ میل قرار دیا گیا اس طرح رائیونڈ ریلی کونواز حکومت کے تابوت میںآخری کیل کا درجہ دیا گیا پی ٹی آئی کی بڑی اتحادی جماعت کے سربرا ہ شیخ رشید نے اعلان کیا کہ نواز حکومت ٹوٹ گئی تو میں رائیونڈ کے تبلیغی مرکز جا کر چلہ لگا ونگا ہم نے فرص کر لیا کہ 40 دن بعد شیخ رشید بھی حافظ حسین احمد اور مولانا فضل الرحمن کی طرح شرعی داڑھی چہرے پر سجا کر باہر آئینگے اگر چلہ پورا کر کے انہوں نے اندرون ملک چار مہینے اور بیرون ملک 7 مہینے لگائے تو پاکستانی سیاست میں خوشگوار انقلاب آجائے گا ویسے مولانا طارق جمیل اس پر توجہ دیں تو آئیڈ یا بہت شاندار ہے شیخ صاحب نے جو کام مونچھوں کو تاؤ دے کر انجام نہ دے سکے شاید داڑھی پر ہاتھ پھیر کر وہ سارے کام چشم زدن میں مکمل کرسکیں یہ بھی بعید نہیں کہ داڑھی رکھنے کے بعد وہ صاحب اولاد ہوکر سکھ اور راحت کی زندگی گذار سکیں سکھ اور راحت کے حوالے سے کسی بزرگ کا مشہور واقعہ نقل کیا گیا ہے بزرگ نے ایک روز دریا کے کنارے مچھلی پکڑی ایک راہ گیر وہاں سے گذرا ، اُس نے کہا تم بہت ساری مچھلیاں کیوں نہیں پکڑتے ، بزرگ نے کہا کس لئے ؟ راہ گیر بولا کاروبار کرو گے ؟بزرگ نے پوچھا کاروبار کیوں کرونگا؟ راہ گیر نے کہا بڑا گھر بناؤ گے ، بڑی بڑی گاڑیاں ہونگی بہت ساری دولت ہوگی ، سکھ اور آرام ہوگا بزرگ نے کہا اگر سکھ اور آرام ہی مقصد ہے تو کسی محنت ، کاروبار اور دولت کے بغیر مجھے سکھ اور آرام بہت ہے مگر ہماری مشکل یہ ہے کہ ہمیں عمران خان اور شیخ رشید کے مقاصد کا علم نہیں اگر مقصد ملک کو کرپشن سے پا ک کر نا ہے تو بلوچستان ، سندھ اور پنجاب اور اپنی پارٹیوں کو منظم کیوں نہیں کرتے خیبر پختونخوا ، کشمیر اور گلگت بلتستان میں پارٹی تنظیمی امور پرتوجہ کیوں نہیں دیتے ؟ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی سے کس طرح کے نتائج برآمد ہونگے ؟ جس پارٹی کی جڑیں ملک کے چاروں صوبوں میں نہ ہوں ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں نہ ہو اُس پارٹی کے ہاتھوں کہاں اور کیسے انقلاب آئیگا ؟ کس طرح تبدیلی آئیگی ؟ یہ ایک معمہ ہے ’’ جو سمجھنے کا ہے نہ سمجھانے کا ‘‘ پاکستان تحریک انصاف کی صورت میں پاکستانی سیاست کے اندر تیسری قوت اور تھرڈ آپشن کا جوتاثر 3 سال پہلے پیدا ہو ا تھا اُس تاثر کو ہم زائل ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں قوم کے سامنے پھر دو راستے رہ گئے ہیں مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی دونوں کی اپنی اپنی خوبیاں اور خامیاں ہیں دونوں کی الگ الگ کمزوریاں ہیں مگر عوام کی مجبوری یہ ہے کہ تیسرا آپشن کوئی نہیں مجبوراً پولنگ سٹیشن جاکر مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی میں سے کسی ایک کوووٹ دینا ہے 2018ء ؁کا الیکشن آنے والا ہے الیکشن کے بعد پھر وہی پرانی روایت دہرائی جائے گی ،’’ پہلے ساڈی واری تے فیرتہاڑی واری ‘‘ کاش یہ دو جماعتیں لیبر پارٹی اور کنزر ویٹیو پارٹی کی طرح نظریات اور اصولوں پر قائم ہوتیں ! کاش ہمارے پاس تیسرا آپشن ہوتا !

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق