ارشاد اللہ شاد

رموزِ شادؔ ۔۔’’آہ میرے نانابھی چلے گئے ‘‘

۔۔تحریر: ارشاد اللہ شادؔ بکرآباد چترال
’’آہ میرے نانا بھی چلے گئے‘‘

Advertisements

’’بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا‘‘
عظیم انسان ہر روز پیدا نہیں ہوا کرتے ، مادر کھیتی ان کو روز بروز جنم نہیں دیتی، ایسے انسانوں کے لیے تاریخ کو مدتوں منتظر رہنا پڑتا ہے۔ تب کہیں انسان وجود میں آتا ہے جو عظمت ہی کے معیار پر پورا نہیں اترتا بلکہ اس کو دیکھ عظمت ہی کے معیا قائم کیا جاتا ہے۔
’’قبائیے نور سے سج کر پانی سے با وضو ہرکر
وہ پہنچے بارگاہِ حق میں کتنا سرخرو ہوکر‘‘
25ستمبر 2016ء کی تاریخ کیلنڈر کی بہت سی تاریخوں میں سے ایک تاریخ ہی نہیں بلکہ صدق وصفا کا مظہر اور عہدو وفا کی تکمیل کا بھی دن ہے۔ ان کا وجود کیا گیا، ایک دور چلا گیا، ایک تاریخ رخصت ہوگئی ، ایک عہد گزر گیا ، ایک تحریک اجڑ گئی، ایک ہنگامہ اوجھل ہوگیا۔۔۔ اب فضا ساکن ، ہوا ساکت ، صبا دم بخود اور وقت اداس ہے۔ علم و دانائی اور جہا دواجتہاد کاماتم ہے۔
’’کبھی ہوئی جو مرتب خلوص کی تاریخ
لکھیں گے صفحہ اول پہ لوگ نام تیرا‘‘
میرے نانا کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ ہیں جو مستقل ایک کتاب کی متقاضی ہے۔ میرے نانا کی شخصیت حسن و خوبی کے رنگارنگ پھولوں کے حسین گلدستہ تھی، ان کا نمایاں حسن حرکت وعمل اور جہد مسلسل تھا۔ میرے نانا دیکھنے میں تو واقعی ایک انسان نظرآتے تھے لیکن ان کے خصائص اور صفات سو انسانوں کے نہ سہی پچاس انسانوں کے عمل سے باہر کی چیز تھے۔ ان کا وجود گرامی اللہ کی قدرت کا شاہکار تھا اور ایسے شاہکار روز بروز پیدا نہیں ہوتے۔
’’جس بھی فنکار کے شاہکار ہو تم
اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا‘‘
انسانی بلندی کی تمام معیاروں پر وہ پورا اترتے، اخلاس ، بے نفسی اور بے غرضی ان کی زندگی کا جوہر اور ان کے تمام اعمال و مساعی کا محرک تھا۔ کوئی کچھ کہے وہ اپنی دھن میں مگن کام سے کام رکھتے۔
آپ بہت معتدل مزاج انسان تھے، طبعاً شریف آدمی تھے، دوست پرور تھے، ہنس مکھ تھے، تضع و بناوٹی سے کوسوں دور تھے ۔ آپ کا ظاہر و باطن ایک تھا، آپ علم و عمل ، اخلاق و مروت کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ آپ نے ہمیشہ اعلائیے کلمہ حق کے لیے پہل کی۔استقامت کی بلندیوں پر آپ فائز تھے، علم کے میدان میں پیجوتاب رازی اور سوزوساز رومی کے علمبردار تھے، گفتگو مربوط ہوتی تھی، بولتے کیا تھے ، گویا موتی رولتے تھے۔ ان کے ایک ایک لفظ احتیاط کے ترازو میں تولا ہوا ہوتا تھا ۔ زبان و بیان میں کوثر تسنیم کی آمیزش کا سماں معلوم ہوتا تھا۔
’’کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کے چلا ہوں
صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد رکھے گا‘‘
قدرتِ حق نے آپ کو خوبیوں کا مرقع بنایا تھا ، بے حد محنتی داعی تھے ۔ جذبہ صادقہ کے ساتھ دین کی خدمت و صیانت کے لیے آپ زندگی بھر کوشان رہے۔ تبلیغ اسلام کے لیے اندرون ملک آپ کے متعدد اسفار ہوئے۔
وہ بچپن ہی سے انتہائی دین دار تھے ۔ اسلام کی تعلیمات نے ان کے دل میں گھر کرلیا تھا، اور انہیں ایک انتہائی سچا مسلمان بنا یا تھا۔ میرے نانا وہ عظیم شخصیت تھے جس کی انکھوں میں حیا کی معصومیت ،دل میں ایمان کی حلاوت، افکار و عمل میں خدا کا خوف ، عوتِ تبلیغ میں فکرانگیزی ، زہد وتقویٰ میں اخلاص اور للھیت کا منظر تھا،جس کا ظاہر اور باطن میں یکسانیت تھی، جس کا کردار چاند کی طرح شفاف تھا۔میرے نانا مطالعہ کے بہت شائق تھے، اس کی سب سے بڑی گواہی ان کے گھر میں واقع کتابوں کی ڈھیر سے معلوم ہوتی ہے۔ جہاں ہر قسم کے نایاب کتابوں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔
’’تمھاری یاد آتے ہی نکل پڑے ہیں دو آنسو
یہ وہ برسات ہے جس کا کوئی موسم نہیں ہوتا‘‘
میرے نانا کے کون کون سے اوصاف کا تذکرہ کیا جائے ، کون کون سی خوبیوں کو گنوایا جائے، ان کی ذہدو تقویٰ ،عظمُ ہمت سے بھر پور زندگی کے روشن روشن لمحوں کا تذکرہ کن الفاظ میں کیا جائے، یہ تو اہل قلم اور موّ رخیں کا کام ہے، راقم الحروف اپنے نانا کے نواسہ ہونے کے ناطے اکثر و بیشتر ملاقاتیں ہوا کرتی تھی،میرے نانا ایک پرُ خلوص اور مشفق شخصیت تھے، اور میرے ہر قسم کی سرپرستی فرمایا کرتے تھے۔ آج ہم میں وہ دائمی حق کا پہاڑ موجود نہیں ہے۔ وہ چودھیں چاند کی طرح مسکراتا چہرہ موجود نہیں ، اگر ہیں تو ان کی باتیں یا پھر لو دیتی ہوئی یادیں۔
’’لبوں پر قہقہے ، سر پہ کفن جانیں ہتھیلی پر
اک ایسا بھی شخص جان فروشاں ہم نے دیکھا‘‘
ابدی قانون کے تحت حاجی بابو محمد حسین آف بکرآباد اچینگول اس دارِ فانی سے 25ستمبر2016ء بروز اتوار چلے گئے۔ اور اتوار کے روز ہی اپنے قبرستان میں ابدی نیند سو گئے۔
بابو محمد حسین ایک درویش صفت انسان تھے۔ اتوار کے روز حسبِ معمول وہ تہجد کی نماز پڑھنے کے بعد تلاوت قران میں مصروف ہوگئے۔ اس اثناء فجر کی اذان سنائی دی ، مرحوم احتراماً قرآن شریف کو بند کیا اور فجر کی دو سنتوں کے لیے قیام کیا، حسب معمول سنتوں کے بعد مسجد کی طرف روانہ ہونے سے پہلے گھر والوں کو نماز کے لیے جگایا اور خود مسجد کی طرف نکل گئے۔لیکن انسان بھی کیا چیز ہے ، کیا خیالات ہیں کیا تصورات ذہن میں ہیں لیکن اللہ کے ہاں کیا فیصلہ ہے ۔ بابو محمد حسین کو یہ پتہ نہیں تھا کہ ملک الموت راستے میں بیٹھا میرا انتظار کر رہا ہے۔ وہ حسبِ روایت اپنا عصا اور بجلی ایک ہاتھ میں تھاما اور دائیں ہاتھ میں تسبیح کے دانے تھے ۔اچانک راستے میں طبیعت نا ساز ہونے کی وجہ سے وہ زمین پر بیٹھ گئے اور اسی اثناء جان آفرین پرواز کرگئی۔
’’جانے والے رہے گا تو برسوں
دل سے نزدیک انکھ سے اوجھل‘‘
ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی اور بعد ازاں ان کے جسد خاکی کو آبائی گاؤں بکرآباد اچینگول میں تدفین کیا گیا۔
ان کے جسد خاکی کو الوداع کہنے اور نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے مقامی افراد کے علاوہ دور دراز علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور ان کا آخری دیدارکیا۔ جنازہ کے موقع پر اس قدر رش ہوا کہ قرب و جوار سے آنے والوں کی وجہ سے سڑک پر ٹریفک بلاک رہی ۔ وہ ایک اصول پرست شخصیت تھے جنہیں رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔
’’وہ آئے بزم میں اتنا تومیں نے دیکھا
اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی‘‘
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ انہیں اپنی جنتُ الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں اور ان کی تمام لغزیشوں کی مغفرت عطا فرمائیں اور اپنی برکت سے ان رحمت فرمائیں اور انہیں اپنا قربت عطا فرمائیں اور حورعین سے انکا نکاح فرمائیں اور انبیاء ؑ اور صدقین اور بدر احد کے شہداء کی رفاقت عطا فرمائے۔ اور ان کے اہل و عیال ، متعلقین اور دیگر جملہ افراد کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ اور بیشک اللہ ہی کے لیے ہے جو اس نے لے لیا اور اسی کے لیے ہی جو عطا کریں اور ہر چیز کے لیے اس کے پاس ایک مقرر وقت ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى