تقدیرہ خان

جمہوریت …. تحریر: تقدیرہ خان

تحریر: تقدیرہ خان 

Advertisements

جمہوریت کی عام فہم تعریف عوام کی حکومت عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے ہے۔ اس تعریف کی تشریح سے واضح ہو تا ہے کہ ایک خطہ زمین پر بسنے والے لوگ اپنے منتخب کردہ اشخاص کو حق حکمرانی دیتے ہیں جو ایک متفقہ آئین و قانون کے مطابق ایک متعین عرصے تک عوامی خواہشات اور حالات کے مطابق نظام حکومت چلاتے ہیں۔ جمہوریت کے نفاذ اور جمہوری نظام کے لیے ضروری ہے کہ عوام ا س بات کا شعور رکھتے ہوں کہ وہ جس شخص کا یا اشخاص کا انتخاب کریں وہ باصلاحیت ، باکردار ، پرُعزم ، نرم خو اور بلند خیالات کا حامل ہو تا کہ وہ عوام کو عدل ، تحفظ اور سہولیات مہیا کر سکیں۔ کنفوشیس اور لاؤزے نے ہزاروں سال پہلے حکمران اور حکومت کی تعریف کی اور بعد میں آنے والے سیاسی مفکرین نے اسی کی تشریح کی اور عوامی خواہشات کو ہی اولیت دی ۔ کنفوشیس کہتا ہے کہ حکومت کا کام عوام کو خوراک، لباس، رہائش ، تحفظ اور عدل مہیا کرنا ہے ۔ آگے چل کر وہ کہتا ہے کہ علماء کا کام عوامی شعور کو بیدار کر نا ، علم و آگاہی سے مزین کر نا اور قانونی کی پاسداری کی تعلیم دینا ہے ۔
آٹو پیائی کی تاریخ سے پتہ چلا ہے کہ تصوراتی مثالی ریاست کے خدوخال بھی یہی تھے ۔ جس میں حکمران مطلق العنان بادشاہ نہیں بلکہ ایک باشعور اور اعلی صلا حیتوں کا حامل ایسا شخص ہو جو انسانی ضروریات کا احساس رکھتا ہو۔ اور ریاست کے تحفظ کے لیے بہترین منصوبہ بندی کی صلاحیتوں سے مالا مال ہو ۔ وہ وزراء ، عمال، اور قاضیوں کے چناؤ میں احتیاط کرنے کا ہنر جانتا ہوتاکہ کوئی ایسا شخص حکومت کا حصہ نہ بن جائے جو عوام کا استحصال کرے اور اُن کی خواہشات کا قاتل بن جائے ۔
ابن خلدون اور امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی فلسفہ حکومت و سیاست ہے ۔ مفکر پاکستان علامہ اقبال اپنی مشہور نظم “ابلیس کی مجلس شوریٰ” میں چار معاشروں کا ذکر کرتے ہیں ۔ اول جمہوری معاشرہ یا سرمایہ دارانہ نظام ، دوئم اشتراکی نظام، سوئم فاشزم اور چہارم اسلامی نظام حیات جس کی بنیا د قرآن کریم ، قوانین الہی اور فرمان رسول اللہ ہے ۔ اقبال نے کیپٹلزم اور فاشزم کو ابلیسی نظام اور اشتراکیت اور اسلامی نظا م کو ان کی ضد قرار دیا ہے ۔ اقبال کی پیشگوئی ہے کہ مستقبل میں کیپٹلزم ، سوشلزم ، اور فاشزم کا خاتمہ اسلام کے ہاتھوں ہو گا ، جس کی وجہ بیان کر دہ نظام ہائے سیاست اور معیشت سے دنیا بھر کے عوام بے زار ہو کر ایسے نظام کی طرف مائل ہونگے جس کی بنیاد عدل و مساوات پر ہو گی۔ ایسا نظام جو فطرت کے عین مطابق ہو گا۔ اور حکمران عام لوگوں میں سے ہونگے ۔
ڈاکٹر صفدر محمود اپنی تصنیف آئین پاکستان (وضاحت موازنہ اور تجزیہ) کے تعارفی بیان میں 1973 ء کے آئین پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پاکستان ایک وفاقی جمہوریہ ہو گا، جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے پکارا جائے گا۔ اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہو گا اور قرار داد مقاصد میں دئیے گئے اصولوں اور شقوں کو دستور کا حصہ تسلیم کیا جائے گا۔
دیکھا جائے تو آئین پاکستان ایک مکمل دستور حیات ہے اور پاکستان کی عوام کی خواہشات کے عین مطابق ہے جس میں استحصال کا خاتمہ ، بنیادی حقوق کا تحفظ، پارلیمنٹ یعنی مجلس شوریٰ کے ممبران کے چناؤ کا طریقہ اور ریاستی اداروں کے قیام اور کام کی وضاحت کی گئی ہے ۔ اسی آئین میں آرٹیکل 6 کی وضاحت موجو د ہے جس میں آئین توڑنے والے شخص یا اشخاص کے لیے قرار واقعی سزا دینے کا ذکر ہے ۔ 1973ء کے آئین کے نفاذ کے بعد ملک میں ایسے حالات پیدا ہوئے کہ جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت برطرف کرنے کے بعد مارشل لا کا نفاذ تو کیا مگر آئین کو منسوخ نہ کیا ۔ اسی طرح میاں نواز شریف اور اُن کے رفقا نے ملک میں ایسے حالات پیدا کیے جن کی وجہ سے خدشہ تھا کہ ملک میں بغاوت یا سول وار جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے ۔ میاں نواز شریف نے اپنے دوسرے دور حکومت میں ملکی اداروں کو اپنے من پسند افراد کے حوالے کیا ۔ اور انھیں آئین و قانون سے مبر ا اپنے خواہشات اور ترجیحات کے تابع فرمان کر لیا ۔ میاں برادران اور ان کے رفقا نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل جہانگیر کرامت کی برطرفی کے بعد یہ تصور کر لیا کہ وہ فوج کو بھی اپنی مرضی و منشاء کے تابع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو کیوں نہ اس آخری مورچے کو بھی فتح کر نے کے بعد ملک پر ایسا نظا م مسلط کریں جو اسلامی جمہوری بادشاہت ہو اور ان کا خاندان سعودی عرب ، اُردن اور خلیجی ریاستوں کے حکمران خاندانوں کی طرح اس ملک پر ہمیشہ کے لیے قابض ہو جائیں۔
مطلوب احمد وڑائچ اپنی تصنیف “سہروردی سے وردی تک “میں لکھتے ہیں کہ بارہ اکتوبر 1999ء کی سہ پہر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پاکستان فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کو اُن کی ملک سے عدم موجودگی میں برطرف کرنے کے بعد آئی ۔ایس۔ آئی کے سربراہ جن کا تعلق آرمی انجینئرنگ کور سے تھا کو فوج کا سپہ سالار مقرر کر دیا ۔ نواز شریف کی اس سازش میں اُن کے سپیچ رائٹر نذیر ناجی ، خلیل ملک اور دیگر لاتعداد ساتھی شامل تھے ۔ منصوبے کے مطابق جنرل بٹ کے چارج سنبھالنے کے بعد جنرل مشرف کے طیارے کو کراچی کی بجائے نواب شاہ میں لینڈ کروانا اور میاں صاحب کے انتہائی معتمد ساتھی آئی ۔ جی ۔ سندھ رانا مقبول کے ذریعے گرفتار کر وانا تھا ۔ تاریخ کے اوراق پلٹے تو میاں نواز شریف کا یہ منصوبہ سکندر مرز ا کے اُس منصوبے کی طرح ہے جب سکندر مرز ا نے ڈی۔آئی ۔ جی کراچی کو حکم دیا تھا کہ سٹیشن کمانڈر کراچی اور ملیر گیریژن کے برگیڈ کمانڈر سمیت بہت سے فوجی افسروں کو گرفتار کر لے ۔ سکندر مرز ا میاں نواز شریف کی طرح پولیس ایکشن کے منتظر ہی تھے کہ خود اُن کے خلاف ایکشن ہو گیا۔
مطلوب وڑائچ لکھتے ہیں کہ 1998ء میں جہانگیر کرامت کو برطرف کرنے کے بعد نواز شریف نے غلط فہمی میں ایسے آدمی کا انتخاب کر لیا جسے بچپن سے احمقانہ اتھارٹی سے نفرت تھی ۔ میاں نواز شریف کے نامزد چیف آف آرمی سٹاف عہدے کا چارج لینے جی۔ ایچ۔کیو گئے تو انھیں کسی نے اندر ہی نہ آنے دیا۔ جب کہ جنرل مشرف کے طیارے کو ہائی جیک کر لیا گیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف اس بات سے بے خبر تھے کہ زمین پہ کیا ہو رہا ہے ۔ انھوں نے نہ اس بغاوت کا حکم دیا ، نہ وہ مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بننا چاہتے تھے اور نہ ہی ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے کا ارادہ تھا۔ پرویز مشرف فضا سے زمین پر اُترے تو وہ چودہ کروڑ عوام کے سربراہ بن گئے ۔ یہ سب کچھ فضا میں ہوا جس کا انھیں علم نہ تھا۔ وہ نہ تو اس کے لیے تیار تھے اور نہ ہی انھیں اس کا علم تھا۔
جنرل پرویز مشرف کے بعد آصف علی زرداری کا پانچ سالہ دور کسی بھی لحاظ سے آئینی جمہوری یا پھر اسلامی دور کہلوانے کے قابل نہیں ۔ اس دور میں کرپشن ، لوٹ مار، مہنگائی اور بد انتظامی کی ایسی ایسی مثالیں سامنے آئیں جو کسی بھی طرح قابل تعریف نہیں ۔ صدر زرداری کے دور میں آئین میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن کی وجہ سے سیاسی جماعتیں سیاسی لیڈروں کی ٹریڈ کمپنیوں میں تبدیل ہوگئیں اور لیڈر ڈیلر بن گئے ۔ زرداری حکومت نے اپنا دور مکمل کیا تو میاں برادران پھر اقتدار میں آگئے اور اپنی پرانی روش کے مطابق ملکی اداروں کو مفلوج کیا اور اپنی پسند کے لوگوں میں یہ ادارے بانٹ دئیے ۔
قومی اداروں پر دھاک بٹھانے کے بعد میاں صاحب نے حسب عادت فوج کے خلاف محاذ کھول دیا اور اپنے حواریوں مولانا فضل الرحمن ، اسفند یا ر ولی ، محمود اچکزئی اور الطاف حسین کے علاوہ صاحبزادی مریم نواز کے تھنک ٹینک کے ذریعے میڈیا کے ایک خاص سیکشن کو فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کا ٹھیکہ دیا۔ آج ملک ہر طرف سے اغیار کے گھیرے میں ہے اور حکومت فوج کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے ۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتار ی پر حکومت نے ایسا تاثر دیا ہے جیسے یہ ان ہی کا کوئی آدمی تھا ۔ جسے فوج نے اچک لیا ہے ۔ میاں صاحب کے جگری یار اور کشمیر کمیٹی کے چےئرمین نے مسئلہ کشمیر کو فاٹا سے منسلک کر دیا ہے ، جبکہ اسفند یار ولی اور محمود اچکزئی پختونستان اور گریٹر بلوچستان کے لیے سرگرم عمل ہیں ۔ پاکستانی میڈیاکا ایک خاص حصہ اور صحافیوں کا ٹولہ مودی سرکار کا ترجمان ہے ، اور حکومت خاموش ہے ۔ ان حالات میں جنرل پرویز مشرف نے عالمی سطح پر اپنے بیانات میں مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے اندورنی حالات کو پیش کیا تو سیاسی ڈیلروں اور ان کی ٹریڈ کمپنیوں میں ہل چل مچ گئی ۔ جنرل پرویز مشرف نے بیان دیا کہ موجودہ سیاسی جمہوری نظام ایک استحصالی اور عوام کُش نظام ہے ۔ جس میں کسی بھی سطح پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں۔ الیکشن کمیشن ، احتساب بیورو اور انتظامیہ عملاً مفلوج ہو چکی ہے اور میاں خاندان کی مرضی و منشا ء کے تابع فرمان ہے ۔ جس ملک میں جمہوریت آمریت سے بدتر ہو اور سیاستدان اپنی ہی فو ج کی مخالفت میں ملک دشمنوں کے آلہ کار بن جائیں وہاں ضروری ہے کہ ایسا نظام حکومت قائم کیا جائے جو استحصال سے پاک ہو اور عوامی خواہشات ، خوشحالی اور تحفظ کا ضامن ہو۔
جنرل پرویز مشرف کے اس بیان پر مفاد پرست ٹولہ شعلہ جوالہ بن گیا چونکہ ایک بیلنس اور کرپشن سے پاک نظام حکومت ان کے ذاتی مفاد پر ایک کاری ضرب لگائے گاجو انھیں ہرگز منظور نہیں ۔ جنرل پرویز مشرف کے بیان کو ملکی حالا ت اور میاں صاحبان اور آصف علی زرداری کے طرز حکمرانی کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بیان ایک درست سمت کی طرف اشارہ ہے جس کے بغیر یہ ملک نہ کبھی ترقی کرے گا اور نہ ہی اقوام عالم میں ایک باعزت اور باوقار مقام حاصل کر پائے گا۔ آمرانہ جمہوریت اور کرپٹ سیاسی نظام کسی بھی لحاظ سے ملکی اور قومی مفاد میں نہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى