حافظ نصیر اللہ مننصور

وزیر اعظم کا دورہ چترال اور افتخار الدین کی شخصیت و سیاست…… چوتھی قسط..

…. حافظ نصیر اللہ منصور چترالی


باتیں بہت ہیں اگر تحریر میں لائی جائیں تو ایک مکمل شہنامہ بن جائے ،بہر حال مختصر کرنے کی کوشش کرونگااور کم سے کم اقساط میں زیادہ باتیں تحریر میں لا سکوں۔ گزشتہ دور میں جب مسلم لیک (ن) کی حکومت تھی، میاں نواز شریف اقتدار کے نشے میں مست تھے تو چترال سے ممبر پارلیمنٹ ،صوبہ سرحد کے سب سے بڑے ضلع کا نمائندہ محترم شہزادہ محی الدین نے وزیر اعظم کو اپنے حلقے کے مسائل پیش کرتے ہوئے چترال کے دورے کی دعوت دی۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ چترال ویسے بھی پسماندہ ضلع ہے ۔عوام بڑے بڑے مسائل کا شکا ر ہیں،ڈیزاسٹر کی وجہ سے انفراسٹکچر تباہ ہو چکا ہے، آمد ورفت کے لئے سڑکوں کا انتظام نہیں ہے ، مواصلات کا نظام نا پید ہے ،ہسپتال نہیں ہیں خصوصا تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ الیکشن میں عوام نے آپ کاساتھ دیا ہے۔ لہذا آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ چترال آئے عوام کے لئے ایسے حالات میں خصوصی پیکچ کا اعلان کریں جس سے چترال میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو ۔شہزادہ صاحب کی اس عاجزانہ درخواست کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے میاں صاحب نے دعوت قبول کر لی اور چترال آنے کااعلان کیا ۔ وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی چترال آمد کے موقع پر چترال بازار کو خوب سجایا گیا۔ پولوگراؤنڈ چترال میں امسال کی طرح عظیم الشان جلسے کا اہتمام کیا گیا اور وزیر اعظم کا پر تپاک خیر مقدم کیا گیا۔ بے چاری عوام نے اپنے خلوص کااظہار کیا او رجلسے میں پورے چترال سے لوگ آئے اور شاندار جلسے کا اہتمام کیا گیا ۔وزیر اعظم کی آمد پر ان کو روائتی ٹوپی او رچغہ پہنایا گیا ۔جلسے کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔وزیر اعظم پاکستان کی تقریر سے پہلے شہزادہ صاحب او رسعید احمد خان صاحب کا تیار کردہ سپاسنامہ پڑھ کر سنا یا گیا۔ جس میں خستہ حال ضلع کی ترقی اورانفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے ملک کے سب سے بڑے سیاہ و سفید کے مالک سے صرف تیس کروڑ روپے کی پیکیچ کے اعلان کا مطالبہ کیا گیا ۔وزیر اعظم حیران رہ گئے شاید ان کے ذہن میں دو ہی سوال آئے ہونگے یا تو ان لوگوں کو گنتی نہیں آتی تو تعلیم کی کمی ہے یا جھوٹ بول رہے ہیں۔شکر ہے کہ جھوٹ پر مبنی نہ کہا۔ حالات و واقعات کے منافی تیس کروڑ کا مطالبہ وزیر اعظم کی شان میں سراسر گستاخی کے مترادف تھا ۔میاں صاحب سمجھ گئے تھے کہ جس طرح سپاسنامہ پیش کیا گیا تیس ار ب کی بجائے تیس کروڑ کا مطالبہ کرنے والے یقیناًتعلیمی انحطاط کا شکار ہیں ۔ وزیر اعظم نے پھر بھی تین گنا سے بھی زیادہ بڑھا کر پیکچ کو ایک ارب کرنے کا علان کیا اور ساتھ ہی یہ کہہ دیا کہ آپ لوگ کو تیس کروڑ مانگ رہے تھے میں ایک ارب روپے دے رہا ہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ ایک ارب کتنے ہوتے ہیں چلو میں ہی بتاتا ہوں کہ ایک ارب میں سو کروڑ ہوتے ہیں جو تیس کے تین گنا سے بھی زیادہ ہیں۔ اس باربھی وزیر اعظم کی تقریر سے پہلے سعید احمد خان نے اپنے اسی لہجے اور اسی اردومیں تقریر کرکے وزیر اعظم کوبیس سال پرانی یاد تازہ کرادی۔ میرا مشورہ ہے کہ اگر تیسری بار میاں صاحب چترال آئے تو اپنی تقریر میں عوام سے پوچھنے کی بجائے ان حضرات کوپرائمری سکول میں داخلہ لینے کا مشورہ دے تو میاں صاحب کی تقریر خوب ججے گی ۔ عوام بھی ناراض نہ ہوگا۔ لیکن مجھے امید کے ساتھ خوشی بھی ہے کہ اگلی بار ایک نیا شہزادہ چترال میں مسلم لیک (ن ) کی بھر پور حمایت کے ساتھ پر تول رہا ہے ۔شاید ان کی اردو بہتر ہواور وہ ہمیں اردو کے حوالے سے میاں صاحب کے سامنے جواب دہ نہ بنائے ۔ میں اپنے لیڈروں سے گزارش کرونگا کہ ہم عوام ہیں ہم تعلیم یافتہ ہیں آپ کی تقریروں سے ہمارے سر جھک جاتے ہیں ہماری تعلیم کا لاج رکھنا ۔اپنی تقریر کی اسکرپٹ کسی تعلیم یافتہ شخص کوضرور دکھا کر تصحیح کر ا دیجئے خواہ تمہیں کسی پرائمری سکول ماسٹر کے پاس جانا کیوں نہ پڑے ۔عوام کو بھی صرف الیکشن کے دنوں عوام نہیں بننا چاہئے ‘‘۔ ہمیں اچھے برے کی تمیز ہونی چاہئے ۔شوشل میڈیا پر بہت سارے دوستوں نے میاں صاحب کی چترال میں روایتی تقریر کو نا مناسب قرار دیا ۔ اور بعض نے تو ناراضگی کا اظہار کیا ۔حلانکہ یہ میاں صاحب کا قصور نہ تھا ۔میاں صاحب نے تو ہم سے محبت کا اظہار پہلے بھی کیا تھا ۔ اب بھی کیا ہے وہ ایک عظیم لیڈر ہیں ۔ان کی سوج ہم سے کہیں زیادہ ہے۔ کراچی سے گلگت تک ان کا ہر قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے ہر ایک کے چہرے کی مسکراہٹ سے ان کی حالات کا اندازہ کرتے ہیں ۔اس دفعہ بھی اس طرح کے واقعات دیکھنے کو ملے ہیں ۔محترم سعید احمد خان اور افتخار الدین کی اردو تقریر کے بعد ہی وزیر اعظم نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ ان دونوں کی تقریر سننے کے بعد میاں صاحب کو چترال میں تعلیم کے فقدان کا پھر سے اندازہ ہو گیا ہوگا بلکہ افتخار الدین صاحب میاں صاحب سے اکثر ملتے رہتے ہیں ان سے گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ اس لئے وزیر اعظم چترال کے لئے ایک یونیور سٹی کی ضرورت محسوس کر رہے تھے ۔شکر ہے کہ پرائمری سکول کا نہیں سوچا ۔دوسری طرف دیکھا جائے تو وزیر اعظم چترال میں پارٹی کو نئی رخ بھی دینا چاہتے ہیں ۔(جاری ہے )

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق