فرہاد خان

فکر و خیال ۔۔ اَفیون کی تجارت ۔ ۔ ۔نسلوں کی تباہی

    …………. ۔۔۔۔ فرہاد خان ……….


جناب وزیراعلی صاحب ۔
جس طرح اسلام میں سود حرام ہے اسی طرح مختلف قسم کے منشیات جس میں افیوں،چرس ، ہیروئن،اور شراب کو بھی حرام قرار دیا گیاہے ۔اور بحیثیت مسلماں ہم سب پر فرض ہے کہ سود کی طرح حرام قرار دئے جانے والے ان چیزوں سے اپنے آپ کو نہ صرف پاک رکھیں بلکہ اس کے کاروبار اور اس کے استعمال کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں اور انہیں قانون کے دائرہ کارکے مطابق سزا دلوانے اور عبرت ناک انجام تک پہنچانے کی کوشش بھی کریں۔ چترال خصوصاً گرم چشمہ میں افیون اور چرس کا کاروبار قلیل عرصے میں زیادہ سے زیادہ ناجائز منافع کمانے کا سب سے آسان کاروبار ہے جس کی بدولت لوگ راتوں رات امیر بنتے ہیں ۔ لیکن جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں قانوں اور انصاف نام کی کوئی چیز موجود نہیں ۔ انصاف کے بلند دعوے کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پولیس میں اصلاحات کے دعوے اپنی جگہ لیکن ہنوز کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ پولیس کی پولیس گردی اپنی جگہ موجود ہے اور یہی سبب ہے کہ چترال اور خصوصاً گرم چشمہ میں افیون جیسے قبیح کاروبار کرنے والوں کو کھلی چھٹی دی گئی ہے نوجوان نسل کی بڑی تعداد افیون اور چرس کے اس گھناونے کاوربار کی بدولت روز بروز اس لت میں مبتلاہوتے جارہے ہیں اور پولیس اور متعلقہ ادارے یہ سب کچھ جاننے کے باوجود بلکل خاموش ۔ ایک طرف اس کے کاروبار کرنے والوں کی عید ہے تو دوسری طرف نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد افیون اور چرس کے اس قبیح نشے میں مبتلا ہوکر اپنا مستقبل برباد کررہے ہیں ۔ پولیس کو بخوبی پتہ ہے کہ فلان گاؤں میں فلان شخص افیون کا کاروبار کررہا ہے ۔ فلان شخص چرس بھیج رہا ہے لیکن اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ۔ افیون کے کاروبار کرنے والے یہ نام نہاد مسلمان روز ایک نئے شکار کو پھنسانے میں مصروف ہیں ۔ در اصل یہ وہ درندے ہیں کہ جن کی بدولت روز کسی نہ کسی شخص کا گھر اجڑ رہاہے لیکن سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار ہونے کی وجہ سے یہ درندے حلال و حرام اور مسلمانی اور دین کو بھول کر نسل کو برباد کرنے میں مصروف ہیں اور ہماری نام نہاد تبدیلی کا دعویدار صوبائی حکومت اور اس کے ماتحت کام کرنے والے پولیس اور دیگر ادارے صرف تماشائی ہیں ۔ یہ صرف ان افراد کی فہرست ایک دوسرے کو فارورڈ کرتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے اور اسی طرح ہمار ا یہ بوسیدہ قانونی سسٹم چل رہا ہے ۔
گرم چشمہ اور آس پاس کے دیہات میں یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ افیون کے کاروبار میں منسلک یہ افراد جو کہ بلا خوف و خطر اپنے اس منافع بخش کاروبار میں مصروف ہیں ان کے پولیس کے بعض اہلکاروں کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ اپنا کاروبار جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں لوگ عموماً یہ کہتے ہیں کہ پولیس فور س میں اب بھی ایسے چند بھیڑے موجود ہیں کہ ان کی موجودگی میں فوری چھاپے کی صورت میں ایک دوسرے کو باخبر رکھنے کے لئے بھی باقائدہ نظام ہے جس کے زریعے اکثر یہ کمینے لوگ بچ جاتے ہیں اور زمہ داروں کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی ۔ یہ لوگ ایک دوسرے سے ایسے شیروشکر ہیں کہ اپنے اس قبیح کاروبار کو کامیابی سے چلانے کے لئے ان پولیس اہلکاوروں کو شراب و کباب کی سہولیات باقائدگی سے فراہم کی جاتی ہیں یہ نام نہاد مذہبی اور اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے درندے اپنے اس گھناونے کاروبار کو انتہائی چالاکی اور پھرتی سے انجام دے رہے ہیں اور قانون سے بلا خوف و خطر نوجوان نسل ، خاندان اور پورا معاشرہ برباد کرنے پر تلے ہیں اور پوچھنے والا ندارد ۔ اگر ایسی سرپرستی کی بنیاد پر یہ سب کچھ ہورہاہے اور متعلقہ ادارے صرف اور صرف فہرستیں ایک دوسرے کو forward کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے تو انگلی صرف اور صرف ان اداروں کی طر ف ہی اُٹھتی ہے کہ باوجود سب کچھ جاننے کے ان کی خاموشی معنی خیز ہے ۔ یہ بات بھی ہم سب کو معلوم ہے کہ افغانستان سے چترال کے مختلف باونڈریوں سے ترسیل اور پھر اس کی چترال بھر میں سپلائی ہونے کے باوجود پولیس، بارڈر فورس کے اہلکار ڈیوٹی کے نام پر کیا کررہے ہیں اس کی بھی وضاحت نہ صرف ضروری ہے بلکہ یہ کام پولیس اور دیگر فور س کے لئے بھی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے کہ نہ اس ترسیل کو بند کرنے میں کامیابی مل رہی ہے اور نہ یہ کاروبار بند ہونے کا نام لے رہا بلکہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے اور نسل در نسل تباہی کا عالم ہے۔آچھے اور بُرے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں ، بلاشبہ پولیس فورس میں بھی اچھے اور ایماندار لوگوں کی کمی نہیں، بلاشبہ ان کے گران قدر خدمات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں لیکن چند ایک ایسے بھیڑے بھی ہیں جو اپنے ایمان ، دیانت اور اپنی غیرت و ضمیر کو بھیج کر معاشرے کے لئے ناسور ان لوگوں کے ساتھی ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ بربادی کی جانب روان دوان ہے ۔
ایسے تمام افراد جو اس گھناونے کاروبار میں ایک دوسرے کے دست و بازو ہیں کے خلاف ایک جامع حکمت عملی کے تحت کاروائی ہونی چاہئے جس سے اس کاروبار کی نہ صرف بیخ کنی کی جائے بلکہ ان افراد کوایسی قرار واقعی سزا دی جائے کہ ان کی نسلیں بھی یاد رکھیں۔ یہ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے تمام افراد کے خلاف نہ صر ف بڑے پیمانے پر کریک ڈاون کیا جائے بلکہ اس جرم میں شریک تمام افراد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے تاکہ نوجوان نسل کو اس تباہی سے بچایا جاسکے ۔یہ کام صرف اور صرف ایک ایماندار، دیانت دار قیادت ہی کرسکتی ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق