ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا ….غیر سیاسی ایجنڈا

…………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …………


ایجنڈا بہت زیادہ استعمال ہونے والا انگریزی لفظ ہے اس کا مطلب ہے ’’زیر غور معاملہ‘‘ہمارے ہاں انگریزی میڈیا کے اساتھ ساتھ اردو میڈیا میں ایجنڈا کا لفظ بار بار آتا ہے اخبارات میں گزشتہ روز بنی گالہ اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی کو ر کمیٹی کے اجلاس کی جو اہم خبریں اخبارات میں شائع ہوئیں ان میں ہمیں کوئی سیاسی ایجنڈا نظر نہیں آیا مثلاًعدالتوں میں چار نئے مقدمات لیکر جائینگے پشاور میں ایک زبر دست دھرنا دیا جائے گا اپنی حکومت ہے پولیس مزاحمت نہیں کرے گی مثلاًیہ کہ چھہ یا سات سیاستدانوں کے خلاف مہم کو تیز کیا جائے گا ان میں سے کوئی بھی نکتہ سیاسی ایجنڈے کے اندر فٹ نہیں ہوتا سیاسی ایجنڈے کیا ہوتا ہے ؟سیاسی ایجنڈے تین بنیادی اجزا پر مشتمل ہوتا ہے اس کا پہلا جز و یہ ہوتا ہے کہ ہماری پارٹی اپنی تنظیم کے اندر کس طرح فعال ہوگی تنظیمی طور پر ضلعی قیادت کیا کر یگی صوبائی قیادت کریگی اور مرکزی قیادت کیا کر ے گی ؟پارٹی کے کیڈر ز کو کس طرح 5درجوں میں تقسیم کیا جائے گا نچلا کیڈر اوپر کے کیڈر کی جگہ لینے کے لئے کیا کچھ کر گے گا ؟اور پارٹی کو مشکل وقتوں میں منظم رکھنے کے لئے کیسی حکمت عملی بنائی جائیگی ؟ سیاسی ایجنڈے کا دوسرا جزو یہ ہے کہ انتخابات میں پارٹی کس قسم کی حکمت عملی اپنائیگی عوام کے سامنے کیا پروگرام رکھے گی ماضی کی کونسی کارکردگی عوام کے سامنے رکھے گی اور مستقبل کا کونسا منصوبہ پیش کریگی ؟انتخابی میدان کے لئے امید واروں کی نامزدگی کس طرح ہوگی ؟اُمیدواروں کے لئے انتخابی مہم کس طرح چلائی جائیگی انتخابات کے اعلان سے دو سال پہلے اس طرح کا ایجنڈا سامنے رکھا جاتا ہے پڑوس ملک کی حکمران جماعت بی جے پی نے انتخابات سے ڈیڑ ھ سال پہلے نریندر مودی کو وزیر اعظم نا مزد کیا تھا لوک سبھا کے لئے 340اراکین کی نامزدگی کا کام مکمل کیا تھا امریکی انتخابات سے ڈیڑھ سے پہلے دونوں جماعتوں کے اندر اُمید واروں کے نامزدگی کا عمل شروع ہوا تھا بر طانیہ میں یورپی نونین کے مسئلے پر ریفرنڈم سے پہلے یہ طے ہوا تھا کہ ریفرنڈم میں شکست کے بعد ڈیوڈ کیمرون مستعفی ہونگے تھر لیامے کو ان کی جگہ لینا ہوگا اس طرح سیاسی جماعتیں حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیا ر رہتی ہیں سیاسی ایجنڈے کا تیسرا حصہ یہ ہے کہ سیاسی جماعت انتخابات میں کامیابی کے بعد حکومت کرنے کا پورا منصوبہ سامنے رکھتی ہے اس کو منشور کہاجاتا ہے اس میں سیاسی پارٹی کی پالیسی کے بعد پالیسی پر عمل درآمد شروع ہو جاتا ہے عدالتوں میں مقدمات ،پولیس کے ساتھ مقابلہ ،بعض نامزد شخصیات کے خلاف مہم چلانا غیر سیاسی ایجنڈا ہے انگریزی میں مشہور مقولہ ہے جس کا مفہوم یہ کہ بڑے دماغوں والے لوگ اصول اورنظریات پر بات کرتے ہیں چھوٹے دماغوں والے لوگ ذاتیات اور شخصیات پر بات کرتے ہیں غیر معمولی ذہانت والے لوگ بات ہی نہیں کرتے خاموشی کیساتھ کام کرتے ہیں اس مقولے کو سامنے رکھ کر پاکستان کی سیاسی جماعتوں پر نظر ڈوڑائیں تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا ہے سارا معاملہ صاف ہوجاتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے اور کس کے سامنے کس طرح کا ایجنڈا یا پروگرام ہے؟پہلے تو وقعات وابستہ کی گئی تھیں ان میں سے کوئی توقع پوری نہیں ہوئی اس وقت انتخابات میں ڈیڑھ سال کا عرصہ رہ گیا ہے پارٹی کی نتظیمیں تورڈی گئی ہیں نئی تنظیمیں نہیں بنیں خیبرپختونخوا کے سول سکرٹریٹ اور ملحقہ محکموں میں کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے صحت ،بلدیات اور تعلیم تین بڑی ترجیحات تھیں تینوں میں افرا تفری اور انتشار ہے پنجم کے امتحان سے لیکر ریگولٹری اتھارٹی تک ہر چیز کو متنازعہ بنایا گیا ہے۔شور قیامت بر پا ہے۔ دفتروں کا نظام درہم بر ہم ہوا ہے۔ ترقیاتی کام رکے رہے ہیں، سالانہ تر قیاتی پروگرام کا فنڈ ہر سال سرنڈر ہو تا ہے ڈونرز کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔ ایشن ڈولپمنٹ بینک کے ساتھ 6 بڑے پن بجلی گھروں کے تعمیر کا معاملہ 3 سالوں سے التوا میں پڑا ہوا ہے۔ ان بجلی گھروں کو 2016 میں مکمل ہو کر ایک ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنا تھا۔ 2012 میں فیز یبیلٹی کے ساتھ ADB اور (PEDO ) کی شراکت کا معاہدہ ہوا تھا ۔تین بڑے منصوبوں کے ٹینڈر بھی ہو ئے تھے،2018 میں نئی حکومت آئیگی تو اس کو سارا کام صفر سے شروع کرنا پڑے گا۔ اب انتخابات میں ڈیڑھ سال رہ گئے ہیں بنی گالہ سے آنے والی خبروں کے مطابق اب بھی صوبے کی حکمران جماعت کے سامنے سیاسی ایجنڈا نہیں ہے، جن امور پر پارٹی کی کور کمیٹی غور کر تی ہے وہ سب غیر سیاسی باتیں ہیں۔آنے والے انتخابات کے ساتھ ، پارٹی کی تنظیم نو کے ساتھ اور آئندہ حکومت کی حکمت عملی کے ساتھ ، پارٹی کے منشور کے ساتھ ان باتوں کا کوئی تعلق نہیں۔ فارسی کے ایک شاعر نے ایسے موقع پر بدوی کو مشورہ دیا تھا۔
تر سم نہ رسی بہ کعبہ اے اعرابی
کیں رہ کہ تو نی روی بہ تر کستان است

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق