ناہیدہ سیف

میرا سچ ……..کرپشن کا واویلا پلس دھرنا اور پھر یوٹرن

………..تحریر: ناہیدہ سیف ایڈوکیٹ


کرپشن ایک تباہی ہے جو کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں کوئی بھی باشعور بندہ اس کی حمایت نہیں کر سکتا لیکن ستم ظرفی یہ ہے کہ کرپشن اور کرپٹ نظام کی اصلاح کے لیے ہمارے لوگوں میں اتنی سنجیدگی نظر نہیں آتی وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کے خلاف واویلا کرنے والوں کے خود بھی دامن صاف نہیں انٹرنیشنل کرپشن اسکینڈل پانامہ کے منظر عام پہ أنے کے بعد یہ دیکھا گیا کہ مہذ ب ملکوں میں وہ سربراہاں وزیراعظم ہو یا وزیر جن کے نام اس پیپر میں آ ئے وہ ا ستعفیٰ دے کر قوم سے معافی مانگ کر عدالتوں کا سامنا کر ر ہے ہیں لیکن ہمارے ملک میں کوئی وزیراعظم ہاؤس بیٹھ کر بڑی ڈھٹائی سے اپنا دفاع کر رہا ہے تو کوئی ڈھٹائی کے ساتھ قوم کا وقت اور پیسہ برباد کر کے جو نتیجہ حاصل کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔نواز شریف صاحب کی خاندان کے ساتھ عمران خان صاحب اور ان کی بہن کا نام بھی اس پیپر میں موجود ہے مختصر بات یہ ہے کہ اس ملک اور عوام نے ان کو عزت دی ،نام دیا اس کا صلہ یہ ٹیکس سے بچنے کے لیے آف شور کمپنی بنا کے دی،پی ٹی آئی کا جو پہلا سلوگن تھا وہ جاگیردارں اور سرمایہ داروں کے خلاف تھا آہستہ آہستہ اس سے ہٹتی گئی وہ اس لیے کہ نہ صرٖٖف آگے پیچھے سارے جاگیردار اور سرمایہ دار نظر آتے ہیں بلکہ خود بھی جس گھر میں بیٹھے ہوتے ہیں تین سو سے بھی اوپر کے کنال پر مشتمل وہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے پاس بھی شاید ہی ہو پھر جو ان کی پارٹی کے وہ لوگ جن کو ابھی موقعہ ملا ہے وہ بھی نئے نئے سرمایہ دار اور جاگیردار بن رہے ہیں چونکہ کوئی بات چھپتی نہیں ہے شوشل میڈیا پہ ا کہ شوبازیاں کرنے سے حقیقت نہیں بدلتی،لہذا اب ان کی تقریروں میں یہ باتیں کہیں سننے کو نہیں ملتی۔ ا ن کا اگلا ٹارگٹ کرپشن تھا ۔ یہ حقیقت ہے کہ ان کے پاس کے پی میں اچھا موقع تھا کچھ کر کے دکھا نے کالیکن کچھ نظر نہیں آرہا لوگ مایوس ہیں کچھ عرصہ پہلے ان کے اپنے ممبران اپنی ہی حکومت کے خلاف الزامات لگا رہے تھے کہ پی ٹی آئی حکومت اپنی ترجیحات سے ہٹ گئی ہے کرپشن عروج پر ہے صوبائی ممبران ترقیاتی فنڈز بھیج کے پیسے بنا رہے ہیں پھر شیر پاؤ صاحب کے ممبرز پر کرپشن کے الزامات لگا کہ ان کے ساتھ اتحاد ختم کرنا پھر دوبارہ ان کو ساتھ لے کہ چلنا ۔اس کے علاوہ حامد خان صاحب اور وجیہ دین صاحب جو کے کافی ایماندار افیسرز رہیے ہیں ان کے ساتھ جو کیاگیا سب کے سامنے ہے۔
یہ کچھ دن پہلے جو ڈرامہ رچایا گیا اسلام آباد پہ چڑھائی کا، اس قوم کو سراسیمی میں ڈال کر جو شوشہ چھوڑا گیا ، کیا اس کا جواب قوم کو مل جائے گا کہ آخر اس کا مقصد کیا تھا اور حاصل کیا کیاگیا۔ یا یہ صرف نیشنل ایشوز پر توجہ ہٹانے کیلئے تھا،کوئٹہ پولیس ٹریننگ پر جو افسوسناک واقعہ ہوا وہ کچھ ہی وقت میں کہی کھو گیا ان کو وہ کوریج نہیں ملی۔ ان کی عجیب وغریب پولیٹکس جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے اتنا بڑا ہائپ پیدا کر کے پھر اس طرح سے یوٹرن کہ تین کارکنوں کی شہادت پر یوم تشکر منایا جا رہا ہے،روڈوں پہ کارکن مر رہے ہیں اور محلوں میں مذاکرات چل رہے ہیں۔ پھر ان کے رہنماؤں کے جو بیانات ہیں پڑھ کر لطیفے یاد آتے ہیں کہ جی ہمیں روکا گیا کارکنوں کو گرفتار کیا گیا و غیرہ ، پتہ نہیں انہوں نے شاید یہ سمجھا تھا کہ اس طرح کے بیانات دے کر دفعہ ۱۴۴ کی خلاف کر کے جب یہ اسلام آباد میں داخل ہونگے تو چودھری نثار اور خواجہ
آصف صاحب گلدستہ لے کر کھڑے ہونگے اور کہیں گئے کہ جی آئیے یہ پی ایم ہاؤس کا راستہ ہے اور یہ صدر ہاؤس کا آپ نے کدھر جا کے اپنی با دشاہت کا اعلان کرنا ہے، ظاہر ہے جب آپ احتجاج کرتے ہو تو پولیس کا سامنا کرنا پڑ تا ہے شیلنگ ہوتی ہے لاٹھی چارچ ہوتی ہے بیریرز لگتے ہیں گرفتاریاں ہوتی ہے لیکن آپ نے ان کا سامنا کرتے ہوئے اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ان کا وزیراعلی جو کہ تعاصب پھیلا کے اسلام آباد پہ دھاوا بولنے کے لیے چل پڑا تھا تو ان کے ساتھ چار پانچ ہزار سے زیادہ لوگ نہیں تھے حا لانکہ ایک صوبے کے وزیراعلی کے ساتھ کوئی بیس،پچیس ہزار بندے تو ہونے چاہیے تھے وہاں سے ان کی مقبولیت اورکارکردگی صاٖٖف ظاہر ہو رہی تھی۔یہ بات سچ ہے کہ جب بھی حکومت کو کوئی بڑی پریشانی ہوتی ہے
جب بھی اپوزیشن اکھٹی ہوتی ہے کوئی ٹی او آرز بنتے ہیں عمران صاحب کوئی ایسی حماقت ضرور کرتے ہیں کہ حکومت مظبوط ہو جاتی ہے تو ان کا آپس میں ایک زبردست قسم کا مک مکا ہے۔اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے ۔بلاول صاحب کی بات میں صداقت ہے کہ یہ تماشے لگانے کا اصل مقصد عوام کی توجہ اصل مسئلہ سے ہٹانا ہے چیئرمن سر کہتے ہیں کہ اس کے لیے ایک مخصوص لابی کام کرتی ہے، اسکا کام ہی یہ ہے کہ قوم کو کسی طرح اُلجھا کے رکھے تا کہ وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو سکے۔یہ دہشت گردی کے خلاف کبھی نہیں بولتے ، سی پیک کے لیے کبھی دھرنا نہیں دیتے۔ بہرہال اب قوم کے سامنے سب ایکسپوز ہو گئے کہ کوئی اقتدار بچانے کے چکر میں توکوئی اقتدار میں آنے کے چکرمیں نیشنل انٹرسٹ پر ایک ہی آواز ،دہشتگردوں کو للکارنے والی ایک ہی آواز سنائی دے رہی ہے۔ان کو تکلیف ہے کہ دھشت گرد ان کے ملک کے جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ان کو تکلیف ہے ان کے فوجی جوان ، ان کے پولیس سپاہی اور ان کے پڑ ھے لکھے طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ان کو تکلیف ہے کہ ایل او سی کی بلاوجہ خلاف ورزی سے ان کے معصوم لوگ شہید ہو رہے ہیں،ان سے زیادہ اس تکلیف کو کون سمجھ سکتا ہے کہ جس نے دہشتگردی میں اپنی ماں کو کھو دیاہو۔یہ تکلیف کبھی آنسو کی صورت میں اپنی قوم کے سامنے چھلک ہی جاتے ہیں ماں ماں ہوتی ہے ممتا ایک جیسی ہوتی ہے چاہے وہ بے نظیر بھٹو ہو یا کوئی عام عورت ۔ا پنے لیڈر کے آنسو دیکھ کر ان کے نوجوان ،ان کے سپاہی جب سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں تو اپنے پیغام کے ذریعے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت بھی کر رہے ہیں کہ گالی نہیں دینی بحث نہیں کرنا۔ چاہے حالات کیسے بھی ہو ، ہر حال میں ہر صورت میں نانا کی لیگیسی کو ما ں کی لیگیسی کو برقرار رکھنا ہے ،تکلیف اُٹھا کے بھی آنسو پی کر بھی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے پاکستان کھپے۔۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

إغلاق