چترال لوئرمضامین

پیسکو کا آخری نوٹس

……….محمد شریف شکیب……….
پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے نادہندہ وفاقی و صوبائی محکموں، نیم خود مختار اداروں،محکمہ بلدیات اور پرائیویٹ صارفین کو آخری وارننگ دی ہے کہ اپنے ذمے 19ارب روپے85کروڑ سے زائد کے بقایاجات فوری طور پر ادا نہ کئے گئے تو ان کی بجلی مزید نوٹس دیئے بغیر کاٹ دی جائے گی۔ پیسکو نے انکشاف کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر الیکٹرسٹی ڈپارٹمنٹ نے 18ارب72کروڑ 50لاکھ کے بقایاجات کئی سالوں سے ادا نہیں کئے ۔ فاٹا ڈویلپمنٹ کارپوریشن31کروڑ،50لاکھ، سیفران 6کروڑ76لاکھ، ایف سی تین کروڑ اٹھارہ لاکھ، افغان کمشنریٹ 67لاکھ 75ہزار، چیف انجینئر واٹر 48لاکھ65ہزار، نیشنل ہائی وے اتھارٹی 47لاکھ23ہزار، محکمہ ڈاک 39لاکھ روپے، ٹاون ون کے ٹیوب ویلز 6 کروڑ 16 لاکھ، محکمہ پولیس4 کروڑ 22 لاکھ، محکمہ بلدیات ہری پور3 کروڑ 70 لاکھ اور پشاور سٹریٹ لائٹس کی مد میں پشاور ٹاون ون 2کروڑ روپے کا نادہندہے۔ان اداروں کو درجنوں بار نوٹس جاری کئے گئے ہیں لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہورہے۔ اب تک ان اداروں کو کئی مرتبہ ’’ آخری نوٹس’’ بھی دیئے گئے ہیں لیکن انہوں نے یہ نوٹس اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیئے۔انہیں یقین ہے کہ پیسکو میں اتنی جرات نہیں کہ ان کی بجلی کاٹ دے۔ کیونکہ وہ بااثر ہیں۔اس ملک میں بااثراداروں اور شخصیات کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ خواہ وہ ملک و قوم کو کتنا ہی نقصان پہنچائیں۔حیرت کی بات ہے کہ محکمہ برقیات آزاد کشمیر کے ذمے بجلی کے بقایاجات 18ارب روپے تک پہنچ گئے مگر ان کی بجلی نہیں کاٹی گئی۔ یہ کوئی مہینے دو مہینے کا بل نہیں۔ بلکہ دس پندرہ سالوں کے بقایاجات ہیں۔حکومت یا ادارے جب لوگوں کو بجلی، گیس، تیل، ٹیلی فون، انٹرنیٹ ، پانی اور دیگر سہولیات بلاتعطل پہنچاتے ہیں تو اپنے حصے کا بل وقت پر ادا کرنا صارفین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہی پیسہ بجلی، گیس ، پانی اور دیگر سہولیات کی پیداوار پر خرچ کیا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے ساڑھے تین سو ڈیم بنانے کا اعلان کیا تھا۔ جن سے چار سے پانچ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ مگر وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ان میں سے بیشتر منصوبوں پر کام شروع نہ ہوسکا۔114منی ہائیڈل پراجیکٹس شروع کئے گئے تھے۔ مگر وسائل کی کمی اور دیگر وجوہات کے باعث وہ ابھی تشنہ تکمیل ہیں۔ صرف 202چھوٹے منصوبے مکمل کرکے غیر رسمی طور پر کمیونٹی کے حوالے کئے گئے ہیں۔ جن کی مجموعی پیداواری گنجائش دس میگاواٹ سے زیادہ نہیں۔اگر انیس ارب روپے کے بقایاجات وقت پر ادا کئے جاتے ۔تو کم از کم دو ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوچکی ہوتی اوروفاقی حکومت کو بجلی کے نام پر تحریک انصاف حکومت کا مذاق نہ اڑانا پڑتا۔بقایاجات کی وصولی میں ایک رکاوٹ دوغلی پالیسی اور دوسری بڑی رکاوٹ کرپشن ہے۔بعض علاقوں سے پیسکو کو ایک پائی کی ریکوری نہیں ہورہی۔ شہری اور دیہی علاقوں میں لوگ مین ٹرانسمیشن لائن پر کنڈے ڈال کر بجلی استعمال کر رہے ہیں۔ اور بل بھی نہیں دیتے۔ حالانکہ مفت یا چوری کی بجلی استعمال کرنا حرام ہے۔ اور حرام کھانے والوں کی کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ہزاروں کلوواٹ بجلی ادارے کے اپنے ملازمین مفت میں استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے دیگر رشتہ داروں کو بھی کنکشن دے رکھا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کسی ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کو جب پوری تنخواہ ، الاونسز اور دیگر مراعات دی جاتی ہیں تو ان کوپیدوار بھی مفت استعمال کرنے کا استحقاق کس قانون کے تحت حاصل ہے۔ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ارباب اختیار اس فیاضی کی پالیسی پر اب نظر ثانی کریں ۔ ملکی وسائل پر ملازمین کو پالنے کی یہ قوم مزید متحمل نہیں ہوسکتی۔ادارے کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے جو لوگ مفت بجلی استعمال کررہے ہیں۔ ان کی بھی خبرلینی چاہئے۔ اب تک بجلی استعمال کرکے بل ادا کرنے کا قانون صرف متوسط اور غریب طبقے پر لاگو ہے۔ سو ڈیڑھ سو یونٹ بجلی استعمال کرنے والا کسی مجبوری کی وجہ سے ایک مہینے کا بل ادا نہ کرسکے تو کوئی نوٹس دیئے بغیرمحکمے کے اہلکار اس کا میٹر اتار کر لے جاتے ہیں۔ لیکن کروڑوں اربوں روپے کا سالانہ بجٹ استعمال کرنے والے محکمے سالہا سال تک بجلی استعمال کرتے ہیں لیکن بل نہیں دیتے۔جب قانون کا یہ دوغلاپن ختم نہیں کیا جاتا۔ اصلاح احوال کی ساری کوششیں رائیگاں جائیں گی۔انیس ارب پچاسی کروڑ چون لاکھ روپے کی رقم اگر پیسکو وصول کرسکے تو بجلی کی ترسیل کا بوسیدہ نظام درست کرنے کے ساتھ ہزاروں میگاواٹ پن بجلی پیدا کرسکتی ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى