چترال لوئرمضامین

اکیسویں صدی کی تاریکی تحریر  

ایک مریض کی عیادت کے لئے شام ڈھلے چترال کے مرکزی ہسپتال کی طرف جا ر ہا تھا ھائی سکول چترال کے داخلی دروازے کے قریب پہنچا تو سامنے کچھ فاصلے پر درد کے احساس سے کراہنے کی آوازیں آئیں ۔ ٹارچ اٹھاکر دیکھا تو مخالف سمت سے آنے والے دو افراد تاریکی میں ایک دوسرے سے ٹکرانے کے بعد دونوں پیشانی پکڑ کر اف آہ کر رہے تھے اور دونوں ایک دوسرے سے غلطی کے شکوے اور آپس میں الزام تراشی کی بجائے خاموشی سے کھڑے تھے ۔ کیونکہ یہ واقعہ حقیقتاََ بہ زبان خود بول رہا تھا کہ اس قسم کے عام لوگوں کی تمام مشکلات قومی نمائندوں کی کارستانیاں ہیں ۔
یہ طبقہ خدمات کے لئے خود کو پیش کر تے وقت وعدے وعید سے ووٹروں کو شیشے میں اتارتے ہیں ۔ اور مطلب براری کے بعد عوام سے خو د کو دور رکھنے اور اپنی دنیا سنوارنے میں مگن ہو تے ہیں ۔ اور الیکشن کے نام پر عوام کو بیوقوت بنانے کا یہ کھیل جاری ہے ۔ مگر آزادی کے بعد ستر سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجودووٹ دینے والے اندھیروں میں چلتے ہو ئے ایک دوسرے سے ٹکرانے سے نجات حاصل نہ کر سکے اور شام ڈھلتے ہی ضلع کے مرکزی شہر میں ہی عوامی گزرگاہیں تاریکی میں ڈوپ جا تی ہیں ۔ سٹریٹ لائٹس کا تصور ایک خواب کی حیثیت رکھتا ہے اسی طرح ضلع کے مرکزی شہر میں تاھنوز عوام کی سہولت اور فطری تقاضوں کے مطابق ایک عوامی بیت الخلا بنانے کی بھی ارباب سبت و کشاد کو توفیق نہ ہوئی ۔ یہ وہ عوامل ہیں جواپنی ذمہ داریوں کی بجا آوری سے روگردانی اور اسلامی نقطہ نظر سے فر ض کی ادائیگی سے الحراف کے مترادف ہیں جنکے مواخذے کے لئے ایک دن رب کائینات کے سامنے کھڑا ہو نا پڑے گا ۔ اپنے دور خلافت میں فرات کے کنارے بھوک سے کتے کی موت کی صورت میں قیامت کے دن اپنی جوابدی کے بارے میں عمر فاروقؓکا تاریخی جملہ ذمہ داری کے احساس کا عکاس ہے ۔
ضلع چترال کے مرکزی شہر کے مذکورہ بنیادی عوامی نوعیت کے حامل مسائل کو توجہہ کا مرکز بنانے کے لئے اگر موجودہ ڈپٹی کمشنر صاحب سے امید وابستہ کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا کیونکہ آپ لوگوں کے مسائل سننے اور ان کے اذالے کے لئے اقدامات کر نے میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں ۔ امید ہے کہ حقائق پر مبنی یہ گذرشات تو جہ کے مستحق گردانے جا ئیں گے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى