چترال لوئرمضامین

نئی حلقہ بندیاں 

……………محمد شریف شکیب………..
الیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حلقہ بندیوں کی فہرست جاری کردی ہے۔ ان حلقہ بندیوں کے خلاف شکایات 3اپریل تک الیکشن کمیشن کے دفاتر میں جمع کرائی جاسکتی ہیں۔قومی اسمبلی کا حلقہ این اے ون اور خیبر پختونخوا اسمبلی کا حلقہ پی کے ون چترال سے شروع کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا کی نشستیں 35سے بڑھا کر 39کردی گئی ہیں جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی 99نشستیں ہی برقرار رکھی گئی ہیں۔صوبائی دارالحکومت پشاورکو ایک اضافی نشست ملنے کے بعد قومی اسمبلی کے حلقوں کی تعدا دپانچ ہوگئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے پنجاب کے ایک صوبائی حلقے کے لئے ووٹرز کی تعداد تین لاکھ ستر ہزار چار سو انتیس مقرر کی ہے۔ خیبر پختونخوا کے ایک صوبائی حلقے کے لئے ووٹرز کی تعداد تین لاکھ آٹھ ہزار تین سو سترہ، سندھ اسمبلی کے حلقے کے لئے تین لاکھ اڑسٹھ ہزار چار سو دس جبکہ بلوچستان اسمبلی کے حلقے کے لئے ووٹرز کی تعداد دو لاکھ بیالیس ہزارچون مقرر کی گئی ہے۔الیکشن کمیشن نے صوبے کی آبادی اور اسمبلی میں مختص جنرل نشستوں کی بنیاد پر حلقوں کا تعین کیا ہے۔ خیبر پختونخوا کی آبادی حالیہ مردم شماری کے مطابق تین کروڑ پانچ لاکھ تیئس ہزار تین سو اکہتر ہے۔ ننانوے سیٹوں کو مجموعی آبادی پر تقسیم کرنے سے ہر حلقے کا تناسب تین لاکھ آٹھ ہزار تین سو سترہ ووٹرز بنتا ہے۔ پنجاب کی گیارہ کروڑ سترہ ہزار کی آبادی کو دو سو ستانوے سیٹوں پر تقسیم کرکے ایک حلقے کے ووٹرز کی تعداد نکالی گئی ہے۔ بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ تیئس لاکھ چونتیس ہزار سات سو انتالیس ہے۔ صوبائی اسمبلی کی اکیاون سیٹوں کو مجموعی آبادی پر تقسیم کرنے سے ہر حلقہ دو لاکھ بیالیس ہزار ووٹرز پر مشتمل آیا ہے۔ آبادی ہی کی بنیاد پر پنجاب کی قومی اسمبلی کی سات نشستیں کم کردی گئیں۔ خیبر پختونخوا کی پانچ قومی نشستیں بڑھا دی گئیں اور اسی فارمولے کے تحت خیبر پختونخوا اسمبلی میں مختلف اضلاع کی پانچ نشستیں کاٹ کر زیادہ آبادی والے علاقوں پر تقسیم کردی گئیں۔ ضلع تورغر کی آبادی ایک حلقے کے لئے ناکافی تھی اس لئے این اے چودہ میں مانسہرہ اور تورغر کی آٹھ لاکھ تیس ہزار کی آبادی کوایک حلقہ قرار دیا گیا۔یہ بھی غنیمت ہے کہ این اے ون چترال کو ووٹرز کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے کے باوجود قومی اسمبلی کا ایک حلقہ رکھا گیا۔ اور نو لاکھ چھیالیس ہزار کی آبادی کے ضلع اپردیر کو بھی ایک ہی حلقہ این اے 5رکھا گیا۔چترال سے صوبائی اسمبلی کے رکن سلیم خان نے چترال کی ایک صوبائی نشست ختم کرنے کے خلاف قرارداد بھی صوبائی اسمبلی میں جمع کرائی ہے۔ احتجاجی مظاہروں اور بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔اور مختلف سیاسی پارٹیوں نے اس سلسلے میں مشاورتی عمل شروع کردیا ہے تاکہ الیکشن کمیشن کے پاس شکایت درج کرائی جاسکے۔سانپ گذرنے کے بعد لکیر پیٹنے والا مقولہ ہماری سادگی پر صادق آتا ہے۔ سیاسی حلقوں کو مردم شماری کے موقع پر ممکنہ خطرات کا احساس کرنا چاہئے تھا۔ کہ ساڑھے سات لاکھ کی آبادی کو ساڑھے چار لاکھ سے بھی کم ظاہر کرکے ہمارے حقوق پر کیوں ڈالا جارہا ہے۔ صوبائی حکومت نے عوامی مطالبے اور انتظامی سہولت کے لئے چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ارندو سے لے کر بروغل تک ساڑھے چودہ ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر پھیلے ہوئے اس علاقے کو حلقہ بندی میں پشاور، پنڈی، لاہور، فیصل آباد اور کراچی کے ترازو میں رکھنا انتہائی نامناسب ہے۔وفاقی حکومت، محکمہ شماریات اور الیکشن کمیشن کواس بات پر غور کرنا چاہئے کہ ایک ایم پی اے چھ سو دیہات پر مشتمل آبادی کو کیسے کور کرسکتا ہے۔ علاقے کی دور
افتادگی، پسماندگی، شہری سہولیات کی کمی اور جغرافیائی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے صوبائی حلقہ بندیوں میں چترال سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ منتخب نمائندے اور سیاسی قائدین اپنے کیس کو کس حد تک موثر انداز میں پیش کرتے ہیں اور الیکشن کمیشن کو قائل کرنے میں کیسے کامیاب ہوتے ہیں۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى