چترال لوئرمضامین

عہد رفتہ کی آرزو

تقریباً چالیس سال قبل ڈیوٹی پر کالج جارہا تھا۔ کہ پولو گراونڈ کے قریب سامنے سے آنے والے دو غیر چترال افراد نے سلام اور مصافحے کے بعد معذرت خواہی کرتے ہوئے مسکرا کر یہ سوال کئے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے ہم چترال میں ہیں۔ اور اسی دوران ایک خاتون بھی بازار میں نظر نہیں آئی۔ کیا یہاں خواتین نہیں ہوتیں؟ میں نے کہا کہ میرے بھائی یہ تو ناقابل تصور سوال ہے۔ عورت کے بغیر نظام حیات کیسے آگے چل سکتاہے۔ ہماری خواتین قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق گھروں کے اندر ٹکتی رہتی ہیں۔ یہی ہماری معاشرتی زندگی کا اعزاز ہے ۔جس پر ہم بجا طورپر فخر کرسکتے ہیں۔یہ سن کر انہوں نے کہا کہ یقیناآپ لوگوں کی شرافت ،اخلاق اور کردار ایسی خواتین کی تربیت کے مرہون منت ہوسکتے ہیں۔یہ کہتے ہوئے وہ دوبارہ مصافحہ کرکے چلے گئے۔
ان کی زبان سے نکلے ہوئے مذکورہ الفاظ کو اگر حقیقت کی کسوٹی میں پرکھ کر دیکھا جائے تو یہ بات نمایاں ہوتی ہے۔ کہ انسانی کردار کی تعمیر میں سب سے اہم حصہ عورت کا ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ کائنات کی سب سے قیمتی تخلیق ہے ۔جسے اللہ رب العزت نے زندگی کا سامان بنائے ہیں۔ جس سے نسل کی نشونما ہوتی ہے۔ اس کی گود کے ہرے اور ویرانے ہونے میں جہاں کی ہیئت تبدیل ہوتی ہے۔ اور جب اس کی گود میں پرورش اور تربیت کا نظام درہم برہم ہوتاہے۔ تو اس کے منفی اثرات سے اولاد کے متاثر ہونے کے امکانات کورد نہیں کیاجاسکتا۔ اور ایسی اولاد قاتل ،شرابی ،نافرمان آوارہ اورحرام خور کی شکل میں کائنات کو متعضن کرنے کاسبب بنینگے۔
عورت کے کردار میں پردے اور شرم وحیا انتہائی اہمیت کا حامل ہوتے ہیں۔ اسلامی اخلاقیات کے اس وصف کا دائرہ انتہائی وسیع ہوکر تمام شعبہ ہائے حیات پر محیط ہوتا ہے۔ اس سے زندگی کے حدود کی رکھوالی کی حیثیت حاصل ہوکر مختلف النوع برائیوں کی راہ میں مانع ہوتی ہے۔ اس لئے سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ جب تجھ میں حیا نہیں تو تیرا جی جو چاہے کر۔
پردہ اور شرم وحیا عورت کا زیور ہوتا ہے۔ جس سے ان کی خوبصورتی میں نکھا رپیدا ہوتی ہے۔ اور اس حسن سے بڑھ کر دنیا میں عورت کو بناؤ سنگھار کیلئے کوئی زیو رنہیں مل سکتی ۔ اور عورت شرم وحیا کی بند ڈبیہ میں ایک ہیرے سے مماثلت رکھتی ہے۔ حیا کا تصور اس کے ساتھ اس طرح سجتا ہے۔ جس طرح آفتاب کے ساتھ روشنی ،درخت کے ساتھ پھل اور پھول کے ساتھ خوشبو ،تہذیب ،شرافت اور شرم وحیا کا ایک نقشہ اسلام پیش کرتا ہے۔ اور دوسرا رنگ مغرب کی طرف سے عریاں تہذیب کی صورت میں پیش کی جارہی ہے۔ جس سے نہ صرف عورت کا احترام اور تقدس ملیا میٹ ہورہا ہے۔ بلکہ معاشرتی برائیوں کے تعضن سے انسانیت کا دم گھٹ رہا ہے۔ یہ تہذیب بہ زبان خود فریادکنان ہے کہ۔
یہ کیسا انقلاب آیا ہوا ہے جسے دیکھو گھبرایا ہوا ہے
شرافت کی جیبن پہ سلوٹین چمن غیرت کا مرجھایا ہو اہے
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ کاتصور صرف اس وقت ممکن ہوسکتا ہے۔ جب یہ صنف نازگ گھر کی زینت بنے اور اپنی ذات کو سربازار نیلام ہونے سے بچائے ۔بصورت دیگر اس کا وجود پوری معاشرتی زندگی کی لذت سے محرومی کا سبب بنے گا ۔بدقسمتی سے اس وقت چترال کے نام سے ہمارا قدرتی رعنائیوں سے لبریز مسکن بھی مغربیت کے جراثیم کی یلغار سے دو چارہے۔ اور ہماری قابل قدر معاشرتی اقدار مٹتے جارہے ہیں جن پر سینہ تان کر فخر کرنے کا زمانہ عجیب لگتا ہے۔ اور آہ کے ساتھ بے ساختہ یہ الفاظ زبان پر آتے ہیں۔ “کہ کوئی لوٹا دے مجھے میرے بہتے ہوئے”

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى