چترال لوئرمضامین

طبی اصولوں سے انحراف

…………..محمد شریف شکیب……….
پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پشاور کے بیشتر ڈاکٹرمریضوں کے لئے نسخہ لکھنے کے فن سے نابلد ہیں۔شہر کے چھ سرکاری اسپتالوں اور فارمیسی سٹورز پر 1097ڈاکٹری نسخوں کا تجزیہ کرنے پر یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ کوئی ایک نسخہ بھی ڈاکٹری نسخہ لکھنے کے عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق نہیں تھا۔محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے بھی تصدیق کی ہے کہ ڈاکٹری نسخوں میں 58فیصد مبہم اور غیر واضح ہوتے ہیں جنہیں پڑھنے اور سمجھنے میں بہت دشواری ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ جب کسی بچے کی لکھائی خراب ہوتی ہے تو والدین اس کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہیں کہ وہ بڑا ہوکر ڈاکٹر بنے گا۔ میڈیکل اسٹور والے نسخے کو پڑھ نہیں پاتے ۔محض تکہ لگاکر ادویات دیتے ہیں۔89فیصد نسخوں میں ڈاکٹر کا نام اور98فیصد میں ڈاکٹر کا رجسٹریشن نمبر نہیں ہوتا۔سب سے حیران کن امر یہ ہے کہ 78فیصد ڈاکٹری نسخوں میں مرض کی نوعیت کا ذکر تک نہیں ہوتا۔ اکثر ڈاکٹری نسخوں میں دوائی کھانے کا طریقہ اور مقداربھی نہیں لکھا جاتا۔ میڈیکل اسٹور والے اپنے طور پر مارکر سے دوائی کے ڈبوں پر دو یا تین آڑے ترچھے نشانات ڈالتے ہیں۔اور مریضوں کو بتاتے ہیں کہ ایک لکیر والی دوائی دن میں ایک بار کھانی ہے۔ دو لکیروں والی صبح اور شام جبکہ تین لکیروں والی دوائی ہر کھانے کے بعد کھانی ہے۔ محکمہ صحت نے اپنے ڈاکٹروں پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ 62فیصد ڈاکٹر مریضوں کی تکلیف کو عارضی طور پر دور کرنے کے لئے درد کش ادویات تجویز کرتے ہیں۔ مہنگی پین کلر دوائیوں سے نہ صرف مریضوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ ان پر اضافی مالی بوجھ بھی پڑتا ہے۔ محکمہ صحت کے حقائق نامہ میں ایک اور حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ اکثر ڈاکٹر مریضوں سے ان کی تکالیف اور مسائل پوچھنے کی زحمت گواراہ نہیں کرتے۔ عجلت میں چند دوائیاں لکھ دیتے ہیں اوراکثر غیر ضروری ادویات بھی لکھ دیتے ہیں جن میں چھوٹی ادویہ ساز کمپنیوں کی دوائیاں شامل ہوتی ہیں۔ یہ دوائیاں لکھنے پر ڈاکٹروں کو کمپنی کی طرف سے پرکشش مراعات دی جاتی ہیں جن میں کلینک کا سامان، فریج، فریزر، ٹی وی، عمرہ کا ٹکٹ،غیر ملکی دوروں کی پیش کش اور بھاری کمیشن بھی شامل ہے۔ محکمہ صحت کی رپورٹ میں یہ بھی بتایاگیا ہے کہ اکثر ڈاکٹر مریض کی ہسٹری لینا بھی گوارہ نہیں کرتے ۔اور مرض کی تشخیص سے پہلے بہت سی دوائیاں تجویز کرتے ہیں جو تشخیص اور علاج کے عالمی معیار کے منافی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی آف فلوریڈا کے کالج آف میڈیسن میں ڈاکٹری نسخے کے حوالے سے واضح ہدایات موجود ہیں جو طبی تعلیم کے دوران بھی طلباوطالبات کو پڑھائی اور سمجھائی جاتی ہیں لیکن عملی زندگی میں ان ہدایات کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔کسی بھی دوسرے پیشے کی طرح ڈاکٹری میں بھی قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد لازم ہے۔ جس طرح ایک رنگساز اگروال پوٹی لگائے بغیر چھتوں اور دیواروں میں پینٹ یا ڈسٹمپر لگاتا ہے تو وہ اپنے پیشے کی بنیادی ضرورت سے انحراف کر رہا ہوتا ہے۔ ایک کاشت کار زمین کو پانی نہیں دیتا، کھادنہیں ڈالتا اور سطح ہموار کئے بغیر بیج بوتا ہے تو وہ بیچ کبھی نہیں اگ سکتا۔ ایک صحافی اگر فائیو ڈبلیوز اور ایچ کے اصول کو بالائے طاق رکھ کر کوئی خبر فائل کرنے کی کوشش کرے تو اسے صحافتی زبان میں خبر نہیں کہا جاتا۔بالکل اسی طرح ڈاکٹر بھی بنیادی طبی اصولوں کو اگر بالائے طاق رکھے تو وہ عطائی بن جاتا ہے۔ اور ایسے نیم حکیم جان کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں۔ محکمہ صحت نے اپنے ڈاکٹروں کے حوالے سے جو رپورٹ جاری کی ہے۔ ان کوتاہیوں کا عام لوگوں کو بھی علم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتہائی ضرورت کے بغیر لوگ ڈاکٹروں کے پاس جانے سے گریز کرتے ہیں۔ گھروں میں پیناڈال، فلائیجل، باسکوپان، نیوبرال، والٹرال اور ایموکسل جیسی دوائیاں رکھتے اور اپنا علاج خود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو ڈاکٹروں پر عدم اعتماد کے اظہار کا بالواسطہ طریقہ ہے۔ ڈاکٹروں کے غیر پیشہ ورانہ طرز عمل کے بارے میں صرف رپورٹ جاری کرنا ہی کافی نہیں۔ محکمہ صحت کو طبی قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کو بھی یقینی بنانا چاہئے۔ اور جو ڈاکٹر مسلمہ طبی قواعد کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں ان کے خلاف مناسب کاروائی کرنی چاہئے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو ان عطائیوں کی بھینٹ چڑھنے سے بچایا جاسکے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

زر الذهاب إلى الأعلى