چترال لوئرمضامین

ٓ آج بھی ہو ابراہیم کا ایماں پیدا

………..محمد شریف شکیب……
ایک بین الاقوامی جائزے کے مطابق پاکستانی قوم ایمانداری، دیانت داری اورامانت داری کے اعتبار سے 200ممالک میں 160ویں نمبر پر ہے۔ اگرچہ یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ ایمانداری میں 159ممالک ہم سے آگے ہیں لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ 40ممالک ہم سے بھی گئے گذرے ہیں۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہزاروں مدرسے ہیں۔جہاں قرآن و حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی دین اور اسلام کی باتیں کی جاتی ہیں۔ہزاروں علماء دین کی تشریح کرتے پھیر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں سالانہ تبلیغی اجتماع ہوتا ہے جس میں پچاس لاکھ سے زیادہ لوگ شرکت کرتے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں تبلیغی جماعتیں تشکیل دی جاتی ہیں جو سال بھر ملک کے کونے کونے میں جاکر دین کی باتیں کرتے ہیں اور لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ لاکھوں لوگ ہر سال حج بیت اللہ اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے حجاز مقدس جاتے ہیں۔ ربیع الاول کا مہینہ شروع ہوتے ہی ملک بھر میں محافل میلاد کا انعقاد شروع ہوتا ہے ۔ لاکھوں لوگ ان اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں۔ تمام عبادت گاہوں میں رمضان المبارک اور ربیع الاول کے علاوہ دیگر مہینوں میں بھی درس اور حفظ قرآن کی محافل و مجالس ہوتی ہیں۔ محرم الحرام میں لاکھوں افرادشہدائے کربلا کی یاد میں عزاداری کرتے ہیں۔ عید اور جمعہ کے اجتماعات میں کروڑوں افراد شرکت کرتے ہیں ان میں بھی خدا اور رسول کی باتیں کی جاتی ہیں۔لاکھوں افراد راتوں کو اٹھ کر تہجد پڑھتے ہیں۔ کروڑوں لوگ درود و سلام کی محافل میں شرکت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارا شمار بے ایمان، دروغ گو، بدعنوان اور بری اقوام میں ہوتا ہے۔اگر ان عبادات ، ذکر و اذکارکے باوجود ہم ایماندار نہیں بنتے تو ان عبادات کا فائدہ؟ظاہر ہے کہ ہم دین کا نام لے کر خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے کیونکہ وہ ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے ۔ وہ ہمارے دلوں کا حال جانتا ہے۔ مذہبی فرائض اور عبادات کے مقاصد بھی اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ بے شک نماز بے حیائی اور منکرات سے روکتی ہے۔اگرپابندی سے نماز پڑھنے کے باوجود ہم بے حیائی سے باز نہیں آتے ۔ تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہم نماز پڑھنے کی پریکٹس تو کرتے ہیں ۔اس کا حق ادا نہیں کرتے۔ روزے کے بارے میں واضح طور پر قرآن کریم میں مذکور ہے کہ تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے کی امتوں پر فرض کئے گئے تھے۔تاکہ تم پرہیز گار بنو۔ جو انسان روزہ رکھنے کے باوجود پرہیزگار نہیں بنتا۔ جھوٹ بولتا ہے۔ مغلظات بکتا ہے۔ کسی کا حق مارتا ہے۔ ظلم سے باز نہیں آتا۔ اپنے گھر والوں، پڑوسیوں اور دیگر متعلقہ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرتا۔ تو روزے کے نام پر دن بھر بھوکا پیاسا رہ کر خود کو سزا دیتا ہے۔ قربانی کا ذکر قرآن میں واضح ہے کہ تمہاری قربانی کا گوشت یا خون اللہ تعالیٰ تک نہیں پہنچتا۔ بلکہ تمہارا خلوص، نیک نیتی، ایثار کا جذبہ اور قرب الی اللہ کی خواہش اللہ تک پہنچتی ہے۔ اگر قربانی کا مطلب بہت سے جانور خرید کر اپنی دولت کا رعب جمانا ہے۔ اور قربانی کا گوشت فریج اور ڈیپ فریزروں میں بھر کر دعوتیں اڑانا ہے تو وہ انسان اللہ کو نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دیتا ہے۔ ہم اپنے گریبان میں جھانک کر تھوڑی دیر کے لئے سوچیں کہ ہم خدا اور اس کے رسول کی کتنی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات پر کس حد تک عمل کرتے ہیں۔اللہ کی نعمتوں کا کتنا شکر بجالاتے ہیں۔ جن کاموں سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا۔ ان سے خود کو کتنا دور رکھتے ہیں اور جن کاموں کی تلقین کی گئی ان کی بجاآوری پر کتنی توجہ دیتے ہیں۔اور منافق کی جو تین نشانیاں بتائی گئی ہیں کہ بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدے کرے تو اسے توڑ دے اور جب امانت اس کے پاس رکھی جاتے تو اس میں خیانت کرے۔ان میں سے کتنی نشانیاں ہم میں موجود ہیں۔ تو ہمیں اپنے بارے میں فیصلہ کرنے میں زیادہ دشواری نہیں ہوگی کہ ہم کتنے اچھے مسلمان ہیں۔جب یہ طے ہوا کہ ہم اچھے مسلمان نہیں ہیں۔ تو پھر یہ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ ہم پر منصف اور صالح لوگ حکومت کریں گے۔ ہم کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول ہوں گی اور ہم پر رحمتوں کی بارش ہوگی اور فرشتے ہماری مدد کو آئیں گے۔علامہ اقبال نے بھی ہمیں یہی سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ ’’ آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایمان پیدا۔۔ آگ کر سکتی ہے انداز گلستان پیدا۔پہلے ہمیں اپنی ذات کو منکرات سے پاک کرنا ہے۔ ہر شہری اپنی اصلاح کرے گا۔ تو محلے، شہر، صوبے اور پھر ملک کی سطح پر اصلاح ہوگی۔ دنیا والے اسلام کو سلامتی کا مذہب اور مسلمانوں کو صالح قوم تسلیم کریں گے۔اور ایمانداری میں ہم دیگر اقوام سے آگے نکل سکتے ہیں۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى