تازہ ترینخیبر پختونخوا

وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت ٹوارزم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے بور ڈآ ف ڈائریکٹرز کا 23 واں اجلاس 

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت ٹوارزم کارپوریشن خیبرپختونخوا کے بور ڈآ ف ڈائریکٹرز کا 23واں اجلاس وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تحلیل شدہ ٹوارزم کارپوریشن خیبر پختونخوا کے اثاثہ جات اور ملازمین کی نو قائم شدہ ٹوارزم اینڈ کلچر اتھارٹی کو منتقلی اور دیگر امور کے حوالے سے بورڈ کے گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اوبعض نئے اقدامات کی منظوری دی گئی۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، ایڈوکیٹ جنرل شمائل بٹ اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا ٹوارزم اینڈ کلچر اتھارٹی کے قیام کے سلسلے میں متعدد فیصلوں پر عمل درآمد ہو چکا ہے جبکہ بعض امور پر پیشرفت جاری ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ٹوارزم کارپوریشن کی تمام جاری اے ڈی پی سکیمیں خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹوارزم اتھارٹی کو منتقل کر دی گئی ہیں۔ اسی طرح کارپوریشن کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات بھی اتھارٹی کو منتقل ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں کارپوریشن سے اتھارٹی کو منتقل کئے گئے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے کارپوریشن کے تحت قائم انڈومنٹ فنڈ کو بھی کلچر اینڈ ٹوارزم اتھارٹی کو منتقل کرنے کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کارپوریشن کے باقی ماندہ امور اور معاملات کو بھی تیز رفتاری سے کلچر اینڈ ٹوارزم اتھارٹی کو منتقل کرنے اور اتھارٹی کے قیام کا سارا عمل بروقت مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس مجموعی عمل میں کلچر اینڈ ٹوارزم اتھارٹی کے قیام کے اصل مقاصد کوپیش نظر رکھا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس سلسلے میں جو بھی مسئلہ درپیش آئے بروقت آگاہ کیا جائے، حکومت مسائل حل کرے گی۔ انہوںنے ٹوارزم کارپوریشن خیبرپختونخوا کی لیکویڈشن اور اتھارٹی کے قیام کے لئے تمام امور خصوصاً اراضی کی منتقلی میں قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کی ہدایت کی تاکہ اتھارٹی کے قیام کا عمل احسن انداز میں مکمل ہو سکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔