
حکومت کا بڑا اقدام: پاور سیکٹر ملازمین کے مفت بجلی یونٹس ختم، لاہور ہائیکورٹ کی توثیق
اسلام آباد: (چترال ایکسپریس) ملک میں توانائی کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پہلی بار حکومت نے پاور سیکٹر کے ملازمین کو دی جانے والی مفت بجلی یونٹس کی سہولت ختم کر دی، جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے بھی اس اقدام کی توثیق کرتے ہوئے اسے قانونی جواز فراہم کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اويس لغاری نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ایک تاریخی اصلاح کے طور پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاور سیکٹر ملازمین کے لیے فری یونٹس کا خاتمہ عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا، جسے اب پورا کر دیا گیا ہے۔
عدالتی کارروائی اور فیصلہ:
لاہور ہائیکورٹ میں اس معاملے پر دائر درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پاور سیکٹر کے ملازمین کو مفت بجلی یونٹس کی فراہمی غیر منصفانہ ہے اور اس سے قومی خزانے پر بھاری بوجھ پڑتا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ عام صارفین مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ ایک مخصوص طبقہ مفت سہولت سے مستفید ہو رہا ہے، جو آئین کے اصولِ مساوات کے منافی ہے۔
عدالت نے سماعت کے دوران پاور ڈویژن سے اس سہولت کی قانونی حیثیت، مالی اثرات اور پالیسی کے پس منظر پر تفصیلی جواب طلب کیا۔ جائزے کے بعد عدالت نے حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسے یہ اختیار دیا کہ وہ اس سہولت کو ختم کر سکتی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریاستی وسائل کا استعمال منصفانہ اور عوامی مفاد کے مطابق ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر اویس لغاری کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے میں مدد دے گا بلکہ توانائی کے شعبے میں شفافیت اور برابری کو بھی فروغ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے تمام اقدامات جاری رکھے گی جو قومی مفاد اور عوامی فلاح کے لیے ضروری ہوں۔
واضح رہے کہ ماضی میں پاور سیکٹر کے بعض ملازمین کو دورانِ سروس اور بعض اوقات ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مفت یا رعایتی بجلی یونٹس دیے جاتے تھے، جس سے قومی خزانے پر اربوں روپے کا بالی بوجھ پڑتا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس سہولت کے خاتمے سے حکومتی اخراجات میں کمی آئے گی اور ممکنہ طور پر بجلی کے شعبے میں اصلاحات کی رفتار تیز ہوگی۔
تجزیہ کار اس فیصلے کو ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں، جو نہ صرف عوامی مطالبات کی تکمیل ہے بلکہ ملک میں توانائی کے نظام کو زیادہ منصفانہ اور پائیدار بنانے کی جانب ایک مؤثر قدم بھی ہے۔
