مردوں کیساتھ صنفی امتیاز…محمد شریف شکیب

پاکستان سمیت دنیابھر میں عالمی یوم نسواں مردوزن کے یکساں حقوق اور تعصبانہ نظام ختم کرنے کی کوشش طور پرمنایا گیا۔ پاکستانی خواتین کو تین سال پہلے معلوم ہوا کہ ان کا کوئی عالمی دن بھی ہوتا ہے۔2018 میں صرف کراچی میں خواتین نے ریلی نکال کر دنیا کو بتادیا کہ پاکستان میں بھی خواتین رہتی ہیں۔ اگلے سال لاہور، ملتان، فیصل آباد، لاڑکانہ، اور حیدرآباد میں بھی عورت مارچ کی نسبت سے ریلیاں نکالی گئیں تاہم ان ریلیوں میں ”میراجسم میری مرضی“کے نعرے لگانے پر لوگوں نے کافی اعتراضات کئے۔اعتراض کرنے والوں میں بعض خواتین بھی شامل تھیں۔اس بار ملک کے مختلف شہروں میں مختلف نعروں کے ساتھ عورتوں کی ریلیاں نکلیں۔کراچی میں مارچ کے ذریعے خواتین کی تنخواہیں، تحفظ اور امن پر توجہ مبذول کروائی گئی۔ لاہور میں انصاف کی فراہمی اور ملتان میں تعلیم، سکیورٹی اور آزادی کے نئے تصور کے مطالبات پیش کئے گئے۔یوم نسواں پر صدر، وزیراعظم، وفاقی وزراء، صوبائی گورنرز، وزرائے اعلیٰ نے بھی پیغامات جاری کئے اور خواتین کے ساتھ ہمدردی اور یک جہتی کا اظہار کیا گیا۔وفاقی سیکرٹری اطلاعات نے اپنے پیغام میں کہا کہ خواتین ہماری ملکی آبادی کے نصف سے زائد ہیں، انہیں نظر انداز کرکے ملک ترقی نہیں کر سکتا، خواتین کو زندگی کے مختلف شعبوں میں نہ صرف ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے بلکہ انہیں ایسا بہترین ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس سے وہ قومی دھارے میں شامل ہوں۔ خواتین گھروں،کھیتوں،دفاتر، سیاست اور کھیل کے میدانوں میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں اکثر اوقات ان کی صلاحیتوں اور کردار کا اعتراف نہیں کیا جاتا۔یہ مجرب فارمولہ ہے کہ اگر ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے تو ان کی کارکردگی کو چارچاند لگ سکتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت، ماں، بیٹی، بہن، بیوی، خالہ، پھوپی،ممانی سمیت ہر رشتے میں قابل احترام،عقیدت، محبت اور شفقت کی علامت ہے۔ساس، سوتن اور سوتیلی ماں ہونے کے ناطے اس کے کردار پر کچھ لوگ انگلیاں اٹھاتے ہیں لیکن یہ عورتوں کا باہمی جھگڑا ہے اس میں مردوں کو ٹانگ نہیں اڑانی چاہئے۔ ہر رنگ و نسل، زبان، قومیت کی خواتین کی خصوصیات مشترک ہوتی ہیں۔وہ زبان کی کچی ہونے کے باوجود دل کی سچی اوربہت نرم خو ہوتی ہیں زرا سی تعریف کرنے پر واری واری جاتی ہیں۔خواتین کی انہی بے شمار خصوصیات سے متاثر ہوکر مولانا الطاف حسین نے ان کے حوالے سے پوری نظم لکھ ڈالی انہوں نے خواتین کو دنیا کی عزت، ملکوں کی بستی، قوموں کی ناموس، گھر کی شہزادیاں، شہروں کی آبادیاں، غمگین دلوں کی شادیاں، دکھ سکھ میں راحت کا سامان، جینے کی حلاوت، نیکی کی تصویر، عفت کی تدبیر، دین کی پاسبان، صبرورضا کی پیکر، شوہروں کی مونس، بچوں کی غم خوار،گھروں میں برکت کا ذریعہ، بیمار کی آس، بیکار کی ڈھارس اور نادار کی دولت قرار دیا ہے۔ان باتوں کو شاعر کا تحیل قرار دے کر یکسر مسترد نہیں کیاجاسکتا۔خواتین میں عام تاثر یہ ہے کہ مردوں کے معاشرے میں انہیں دوسرے درجے کی شہری کی حیثیت دی جاتی ہے۔ انہیں مساوی حقوق حاصل نہیں، وہ گھر کی لونڈی ہے اسے کام کرنے اور بچے پیدا کرنے کی مشین سمجھا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ محض الزامات ہیں۔عورت گھر کی مالکن ہے۔اس کی مرضی کے بغیر گھر کے اوپر چڑیا بھی پرنہیں مارسکتی۔ مرد بیچارہ دن رات پونجی جمع کرنے میں لگارہتا ہے اور وہ ساری پونجی لٹاکر بیوی کی صورت میں ایک عورت کو گھر میں بیاہ کرلاتا ہے۔اور پھر سارے گھر اور خود کو بھی اس کے سپرد کردیتا ہے۔ دنیا بھر میں مردوں کی شاعری کا مرکزی خیال ہی عورت کی ذات ہوتی ہے۔ ہر سال اس کا عالمی دن دنیا بھر میں منانے کا اہتمام بھی مرد ہی کرتے ہیں۔آج تک سال کے 365دنوں میں سے ایک دن بھی مرد کے نام نہیں کیاگیا۔اس کے باوجود مرد کو ظالم اور عورت کو مظلوم و مقہور قرار دینا بیچارے مردوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف اور سراسر صنفی امتیازہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔