ڈپٹی کمشنر اپرچترال منظور احمد افریدی کی تورکھو میں کھلی کچہری۔

اپرچترال(محمد ذاکرزخمی)تورکھو کے مسائل سے آگاہی حاصل کرکے انھیں حل کرنے کے سلسلےمیں ڈپٹی کمشنر اپرچترال منظور احمد افریدی کی حکم پر تورکھو کے ہیڈ کوارٹر شاگرام میں کھلی کچہری کا انعقاد عمل میں لایاگیا۔جس میں چیرمین موڑکھؤ تورکھو میر جمشید الدین ،تریچ تورکھو یو سی کے ویلج چیرمین صاحباں ،لائن ڈیپارٹمنٹ کے نمائندہ گان اور علاقے کے معززین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس کھلی کچہری کے انعقاد کا مقصد حالیہ تباہ کن بارشوں اور سیلابی صورت حال کے بعد پیدا شدہ صورت حال سے آگاہی اور مسائل کے حل کے لیے لایحہ عمل مرتب کرنا تھا۔ قاری محبوب نواز کی تلاوت کلام پاک سے آغاز ہوا۔ممتاز شاعر،ادیب،کالم نویس استاد جاوید حیات نظامت کے فرائض انجام دی ۔وی سی شاگرام کے چیرمین احمد سید بیگ نےسپاسنامہ پیش کی۔چیرمین تحصیل کونسل موڑکھؤ تورکھو میر جمشید الدین نے ڈپٹی کمشنر سمیت تما مہمانوں کو خوش امدید کہتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اپر منظور احمد افریدی اپر چترال خصوصاً میرے علاقے میں مسائل حل کرنے میں گہری دلچسپی لی ہے حالیہ ایمرجنسی کے دوران میں دن رات مسائل کے سلسلے ان سے رابطے میں رہے اور ہر وقت ڈپٹی کمشنر کو علاقے سے ہمدرد پایا ان کی بہترین ہمدردی کی بنا علاقے کے فوری حل طلب مسایل ہوئے اگر اپ کی خصوصی تعاون نہ ہوتی تو بہت سے مسلے جون کے تون رہتے ۔میر جمشید نے خصوصی طور روڈوں کا ذکر کیا کہ اس وقت میرے حلقے میں تمام مین روڈز اور کئی لینک روڈ عارضی طور ایمرجنسی کی بنیاد پر کھولے گئے ہیں اس میں ڈپٹی کمشنر کے خصوصی دلچسپی اور ہمدردی شامل رہی ہے اس لیے میں اپنے اور اپنے علاقے کے عوام کی طرف سے ڈپٹی کمشنر اپر کا شکرگزار ہوں ۔بعد میں علاقے کے وی سیز چیرمین صاحبان اور معززین نےاپنے اپنے علاقے کے مسائل ڈپٹی کمشنر کو پیش کی ان میں خصوصی طور پر بونی بوزوند روڈ پر کام کی سست رفتاری،غلے کے گوداموں میں گندم کی عدم موجودگی،بارش کے بعد فصلین خراب ہونے کے بعد انسانی خوراک اور حیوانات کے خوراک کے مسائل سر فہرست تھے۔جو اکثر سرحدی علاقے کھوت،مڑپ ،ریچ اور تریچ بالا میں سب سے زیادہ مسائل بارشوں کے بعد تیار فصلیں خراب ہونےکے باعث پیدا ہوئے ہیں۔کھلی کچہری میں موجود محکمے کےسربراہاں جوابات دیتے ہوئے اپنے اپنے محکموں کی طرف سے کیے ہوئےاقدامات سے آگاہی دی ان کا کہنا تھا کہ ان مسائل سے وہ مکمل باخبر ہیں اور ان کے فوری حل کے لیے اقدامات اٹھائے گئے ہیں بہت جلد یہ مسلے حل ہوتے ہوئے نظرائینگے خصوصی طور پر ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرلر نے یقین دلایا کہ ائیندہ چنددنوں میں تمام علاقوں کے لیے گندم کی سپلائی باقاعدگی سے شروع ہوگی حالات کے پیش نظر کوٹہ سے زیادہ گندم کی ڈیمانڈ ہوئی ہے۔جو انشاء ضرورت کو پورا کریگی ۔دپٹی کمشنر اپر منظور احمد افریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر چہ آپ کے طرف آنے میں دیر ہوئی لیکن پیدا شدہ مسائل سے بے خبر نہیں تھےچیرمین تحصیل کونسل موڑکھؤ تورکھو میر جمشید الدین دن رات رابطے میں رہتے تھے اور باہمی مشاورت سےترجیحات کے مطابق مسائل حل کرکے آگے بڑھ رہے ہیں ۔اس میں سب سے بنیادی مسلہ روڈوں کی بندش کاتھا جب روڈ بند ہوتے ہیں تو بہت سارے اور مسائل ان سے جڑے ہوتے ہیں تو ہم نےپہلی ترجیح کے طورپر تمام بند روڈوں کو ایمرجنسی کی بنیاد پر کھولنے پر کام کیا۔اور اس وقت علاقے میں تمام مین روڈ بحال ہوئے ہیں ساتھ دوسرا بڑا مسلہ ایریگشن چینل کے تھے اپر چترال میں 120ایریگشن چینل متاثر ہوئے تھے ان میں 15 چینل تورکھو میں متاثر تھے جو اکثر بحال ہو چکے ہیں باقی پر کام جاری ہے اور جلد بحال ہونگے ۔اُنہوں نے کہا کہ بارشوں کے بعد نہ صرف انسانی زندگی متاثر ہوئی بلکہ لائیو اسٹاک بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ فصل خراب ہونے کی بنا حیوانات کے خوراک کی بھی قلت ہوگی ۔میں نےان تمام مسلوں سے نمٹنے کے لیے لایحہ عمل ترتیب دی ہوں جس میں گورنمنٹ کے ساتھ غیر سرکاری ادارے جو مختلف شعبوں پر کام کرتے ہیں ان کی خدمات بھی حاصل کرنے کی منصوبہ بندی ہوئی ہے۔انشاء الله بہتر نتائج آنے کی امید ہے ۔اسسمنٹ کے سوال پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پالیسی مرکز میں یا صوبے میں بنتے ہم صرف نافذ کر سکتے ہیں اس میں ردو بدل کا اختیار مجھے نہیں ہے ہم نے مروجہ طریقہ کار کے تحت اسسمنٹ شروع کی تھی پھر پی ڈی ایم اے نیے پالیسی ترتیب دی تو ہمیں اس کی پیروی کرنی پڑتی ہے ۔اب ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے مقرر کردہ اوصول کے تحت اسسمنٹ جاری ہے اس میں کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی ۔بعد میں ڈپٹی کمشنر اپر گرین فٹ بال اسٹڈیم شاگرام میں جاری ٹورنامنٹ کے ایک فٹ بال میچ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی کھلاڑیوں سے ملے اور کچھ دیر میچ سے لطف اندوز ہوئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔