
چترال میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بڑی پیش رفت — ڈیڑھ ارب روپے تقسیم، 55 ہزار بچے تعلیم پروگرام میں شامل
ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد علی شاہین کی قشقار ٹی وی اور چترال ایکسپریس سے خصوصی گفتگو، مستحقین کو 8171 پیغام کے بغیر دفتر نہ آنے اور ریٹیلرز کو رقم نہ دینے کی سخت ہدایت۔
چترال میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت مالی امداد اور فلاحی پروگراموں میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد علی شاہین نے قشقار ٹی وی اور چترال ایکسپریس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اب تک ضلع چترال میں مستحق خاندانوں کو ڈیڑھ ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ضلع میں مجموعی طور پر 45 ہزار رجسٹرڈ مستحقین موجود ہیں، جن میں سے اس وقت 23 ہزار افراد کو مرحلہ وار ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ ان میں سے 7 ہزار مستحقین بے نظیر نشوونما اور بے نظیر وسیلہ تعلیم پروگرام سے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔
ساجد علی شاہین کے مطابق وسیلهٔ تعلیم پروگرام کے تحت اب تک 55 ہزار بچوں کی انرولمنٹ مکمل ہو چکی ہے، جبکہ ان میں سے 36 ہزار بچوں کو ادائیگیاں جاری ہیں۔ یہ اعداد و شمار چترال میں تعلیمی معاونت کے دائرہ کار میں نمایاں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے مستحقین کو ہدایت کی کہ وہ BISP پورٹل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں اور صرف اسی صورت دفتر آئیں جب انہیں 8171 سے سرکاری ایس ایم ایس موصول ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ضروری رش سے بچنے اور شفافیت برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر نے واضح کیا کہ ریٹیلرز کو کسی صورت اضافی رقم ادا نہ کی جائے، کیونکہ ادارہ اس سروس کی ادائیگی پہلے ہی ریٹیلرز کو کرتا ہے۔ انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ اپنی باری جلد لینے یا کسی اور سہولت کے نام پر اضافی رقم دینے سے گریز کریں، جبکہ ریٹیلرز کو بھی ایسی سرگرمیوں سے باز رہنے کی سخت تنبیہ کی گئی۔ بصورت دیگر ان کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بے نظیر ہنرمند پروگرام کے نام سے ایک نیا منصوبہ شروع ہو چکا ہے، جس کے تحت رجسٹرڈ مستحق خواتین خود کو رجسٹر کر کے ہنر مندی اور روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
رجسٹریشن کے لیے مستحق خواتین دروش، چترال اور گرم چشمہ میں قائم ڈائنامک رجسٹریشن سینٹرز کا رخ کر سکتی ہیں، جبکہ مستقبل میں چترال کے دور دراز علاقوں کے لیے موبائل وینز سروس متعارف کرانے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔
مقامی حلقوں کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف مستحق خاندانوں کے لیے بڑی سہولت ہیں بلکہ چترال کے دورافتادہ علاقوں میں سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
رپورٹ: ضیاءالرحمن
