
اپر چترال میں صرف تورکہو روڈ پر اربوں روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ ایک بار پھر میں مناظرے کی دعوت دیتا ہوں۔وقاص احمد ایڈووکیٹ
بونی–بُزند–تورکہو روڈ منصوبہ 2009 میں صدارتی فنڈ کے تحت پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں شامل کیا گیا اور 19-09-2009 کو سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) سے منظور ہوا۔ اس سڑک کی کل لمبائی 28 کلومیٹر ہے جبکہ ابتدائی تخمینہ لاگت 279.922 ملین روپے مقرر کی گئی تھی۔ یہ منصوبہ مکمل طور پر وفاقی حکومت کے فنڈ سے چلایا گیا جبکہ محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) نے صوبائی نگرانی میں بطور ایگزیکیوٹنگ ایجنسی کام کیا۔
اس منصوبے پر کام 2010 میں چترال کے مقامی ٹھیکیداروں کے ذریعے شروع کیا گیا۔ مالی سال 2009–2010 میں وفاقی حکومت نے 30 ملین روپے جاری کیے۔ سال 2010–2011 میں 131.701 ملین روپے جبکہ 2011–2012 میں مزید 38 ملین روپے جاری کیے گئے۔
بعد ازاں کرپشن کے الزامات کے باعث 2012 سے 2016 تک منصوبے پر کام مکمل طور پر بند رہا اور اس دوران وفاقی یا صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی فنڈ جاری نہیں ہوا۔
سال 2015 میں منصوبے کا PC-I نظرثانی کیا گیا اور لاگت بڑھا کر 1,108.420 ملین روپے کر دی گئی۔ 2016 میں مقامی ٹھیکیداروں کے ٹھیکے منسوخ کر کے منصوبہ موجودہ ٹھیکیدار پیر محمد اینڈ کمپنی کو دیا گیا۔ مالی سال 2016–2017 میں 100 ملین، 2017–2018 میں 100 ملین، 2018–2019 میں 120 ملین اور 2019–2020 میں 180 ملین روپے جاری کیے گئے۔
بعد ازاں 2019–2020 میں دوبارہ PC-I میں نظرثانی کر کے لاگت 1,219.88 ملین روپے کر دی گئی۔ مالی سال 2020–2021 میں 40 ملین، 2021–2022 میں 159.70 ملین، 2022–2023 میں 28.422 ملین اور 2023–2024 میں 53.848 ملین روپے جاری کیے گئے۔
ایم پی اے غلام محمد کے دور میں 199 ملین روپے خرچ ہوئے اور کٹنگ کا 70 فیصد کام مکمل کیا گیا۔
ایم پی اے سردار حسین کے دور میں 324 ملین روپے خرچ ہوئے لیکن 10 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہوا۔
ایم پی اے ہدایت الرحمان کے دور میں 419 ملین روپے خرچ ہوئے لیکن 15 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہوا۔
ثریا بی بی کے دو سالہ دور میں 552 ملین روپے خرچ ہوئے لیکن 10 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہوا۔
اب فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
سال 2023 تک ٹھیکیدار کے تمام واجبات ادا ہو چکے تھے اور کوئی بقایا رقم باقی نہیں تھی، جس کے باعث 53.848 ملین روپے صوبائی حکومت کے پاس زائد بچ گئے۔ اس طرح 2023 تک مجموعی طور پر 923.192 ملین روپے خرچ ہو چکے تھے۔ یہ تمام ریکارڈ محکمہ C&W نے پشاور ہائی کورٹ میں جمع کروایا۔
سال 2024 میں تورکہو روڈ پر کوئی کام شروع نہیں ہوا، اس کے باوجود 21-06-2024 کو 69,500,000 روپے اور 04-09-2024 کو مزید 2,090,000 روپے ادا کیے گئے۔
عوامی احتجاج کے بعد مسجد میں ایک معاہدہ طے پایا کہ 2024 میں 7 کلومیٹر اسفالٹ اور 6 کلومیٹر کمپیکشن مکمل کی جائے گی، تاہم ٹھیکیدار نے صرف 3 کلومیٹر اسفالٹ اور 2 کلومیٹر کمپیکشن کر کے کام چھوڑ دیا۔
سال 2025 میں مزید ادائیگیاں کی گئیں: 17 مارچ 2025 کو 17,946,277 روپے اور 15 اپریل 2025 کو 27,652,914 روپے ادا کیے گئے۔
اسی دوران 2024 میں ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر تورکہو–مورکہو کو انکوائری آفیسر مقرر کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے اپنی رپورٹ میں ایڈوانس ادائیگیوں کی تصدیق کی اور رپورٹ ڈپٹی کمشنر کو جمع کروائی، تاہم ایک ہفتے کے اندر ہی ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔
اس دوران محکمہ سی اینڈ ڈبلیو خیبرپختونخوا کی انکوائری ٹیم اپر چترال آئی اور کرپشن کی تحقیقات کیں۔ ٹیم نے دیگر علاقوں کے ساتھ تورکہو روڈ پر ایڈوانس ادائیگیوں کو تسلیم کیا اور 30 صفحات پر مشتمل رپورٹ محکمے کو پیش کی۔
یہ معاملہ پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا، جہاں یکم جولائی 2025 کو ایکسین نے رپورٹ جمع کروائی۔ ٹھیکیدار نے 100 فیصد ادائیگی کے ساتھ 27 ملین روپے اضافی لاگت (کاسٹ ایسکلیشن) کا مطالبہ کیا، جسے عدالت نے غیر قانونی قرار دیا اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو کرپشن کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے 15 جولائی 2025 کو پیش ہونے کی ہدایت کی۔
15 جولائی 2025 کو سیکرٹری C&W عدالت میں پیش ہوئے اور یقین دہانی کروائی کہ 31 اکتوبر 2025 تک 50 کروڑ روپے کے برج فنانسنگ کے ذریعے سڑک مکمل کی جائے گی۔
عدالت کی ہدایت پر ایکسین نے پراگریس رپورٹ جمع کروائی، جس کے مطابق 50 کروڑ میں سے 27 کروڑ روپے پہلے ہی خرچ ہو چکے ہیں جبکہ 23 کروڑ باقی ہیں۔
اب تک حکومت 1,719.620 ملین روپے جاری کر چکی ہے، جس میں سے 1,475.712 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں جبکہ 243.709 ملین روپے باقی ہیں۔ PC-I کے مطابق ابھی تک ایک کلومیٹر سڑک بھی مکمل نہیں ہوئی۔ صرف درمیان میں 12 فٹ اسفالٹ کیا گیا ہے جبکہ دونوں اطراف 1.5 میٹر شولڈرز اور نکاسی آب کہیں بھی مکمل نہیں کی گئی۔
سال 2024 اور 2025 میں 520 ملین (52 کروڑ) سے زائد رقم خرچ ہونے کے باوجود 10 کلومیٹر سڑک بھی مکمل نہیں ہو سکی۔
دسمبر 2025 میں چیف انجینئر نارتھ پشاور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے اور بیان دیا کہ تورکہو روڈ پر مارچ 2025 میں کام شروع کر کے جون 2026 تک مکمل کیا جائے گا۔ بعد ازاں 26 مارچ 2026 کو چیف انجینئر خیبرپختونخوا نارتھ دوبارہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ محکمے کو مزید فنڈز کی ضرورت نہیں کیونکہ صوبائی حکومت 2025 میں 50 کروڑ روپے برج فنانسنگ کے تحت پہلے ہی فراہم کر چکی ہے اور اپریل 2026 کے پہلے ہفتے میں کام شروع کر دیا جائے گا۔ تاہم تاحال سڑک پر ایک ریڑھی بھی موجود نہیں۔
جب عوام نے احتجاج کیا تو ایک 75 سالہ بزرگ اور ایک سماجی کارکن وکیل کو تھانہ تورکہو میں دفعہ 506 PPC اور 16-MPO کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں احتجاج جاری رہنے پر 200 سے 250 افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت مقدمات درج کیے گئے، جن میں دو ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر بھی شامل تھے۔ یہ مقدمات چند دن پہلے عدالت کی جانب سے ختم کر دیے گئے۔
