اپر چترال میں خستہ حال پل مقامی آبادی کے لیے وبالِ جان، روزانہ سینکڑوں زندگیاں داؤ پر
اپر چترال کے دیہات سونوغر اور پرواک کے مکین بنیادی سہولیات تک رسائی کے لیے روزانہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ایک انتہائی خستہ حال اور خطرناک لکڑی کے معلق پل سے گزرنے پر مجبور ہیں۔
جون 2007 کے تباہ کن سیلاب میں بری طرح متاثر ہونے والا یہ پل آج تک حکومتی توجہ کا منتظر ہے۔ ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود مقامی آبادی بشمول خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد دونوں علاقوں کے درمیان سفر کے لیے اسی خستہ حال ڈھانچے پر انحصار کرتی ہے۔
علاقہ عمائدین سجاد سرنگ اور عیسیٰ علی کے مطابق، ان دونوں دیہات کا روزمرہ کی زندگی میں ایک دوسرے پر گہرا انحصار ہے۔ پرواک کے رہائشیوں کو ہائی سکول، ہسپتال اور محکمہ خوراک کے گودام تک رسائی کے لیے سونوغر آنا پڑتا ہے، جبکہ سونوغر کے عوام شندور روڈ اور دیگر ملحقہ علاقوں تک جانے کے لیے اسی پل کے ذریعے پرواک کا رخ کرتے ہیں۔
عمائدین کا کہنا ہے کہ سونوغر اپر چترال کے حسین ترین دیہات میں سے ایک ہے اور سیاحت کے بے پناہ مواقع رکھتا ہے، لیکن یہ ٹوٹا ہوا پل اس کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ 2007 کے سیلاب کے فوراً بعد مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک عارضی پل تعمیر کیا تھا، تاہم علاقے میں پھیلی ہوئی غربت کے باعث کمیونٹی کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ موجودہ ڈھانچے کی مناسب دیکھ بھال کر سکیں یا اس کی جگہ نیا پختہ پل تعمیر کر سکیں۔
مقامی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ پل کی حالت اس قدر ابتر ہو چکی ہے کہ کسی بھی وقت کوئی بڑا اور افسوسناک حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس اہم اور سنگین مسئلے پر سرکاری محکموں کی مسلسل چشم پوشی کو حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان اور لمحہ فکریہ قرار دیا ہے۔
اس صورتحال پر مؤقف دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران یوسفزئی نے کہا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پل کی مرمت کے لیے ایک خصوصی گرانٹ منظور کروانے کے سلسلے میں متعلقہ محکموں کے ساتھ معاملہ اٹھایا گیا ہے اور اس پر کام جاری ہے۔
یہ پل دونوں جانب کے مکینوں کے لیے تعلیم، صحت اور خوراک جیسی بنیادی ضروریات کے ساتھ ساتھ سڑکوں کے وسیع نیٹ ورک سے جڑنے کا واحد اور انتہائی اہم ذریعہ ہے۔ مقامی افراد کی جانب سے اٹھائے گئے یہ تحفظات اپر چترال کے دور افتادہ علاقوں میں ان طویل المدتی مشکلات کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں تباہ حال انفراسٹرکچر براہِ راست عوام کی نقل و حرکت اور بنیادی سہولیات تک ان کی رسائی کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ جب تک اس کی باقاعدہ مرمت نہیں ہو جاتی، مقامی آبادی روزانہ ان خطرات کا سامنا کرنے پر مجبور رہے گی۔

