
چترال میں منفرد اور مثبت روایت قائم — شندور فیسٹیول کی تشہیر کے لیے تصویر استعمال کرنے سے قبل فوٹوگرافر سے اجازت طلب
شہزادہ سکندر الملک کی سوشل میڈیا ٹیم نے “Shakil’s Photography” سے منسوب تصویر کے اصل مالک کی تلاش شروع کردی، چترال میں پہلی بار کاپی رائٹ اور تخلیقی حقوق کے احترام کی ایسی مثال سامنے آگئی۔
چترال میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مواد کے استعمال کے حوالے سے ایک منفرد اور مثبت روایت سامنے آئی ہے، جہاں پہلی بار کسی تصویر کو تشہیری مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے قبل اس کے اصل فوٹوگرافر سے باقاعدہ اجازت طلب کی گئی ہے۔

شہزادہ سکندر الملک کی سوشل میڈیا ٹیم نے ایک عوامی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک خوبصورت تصویر کے اصل مالک کی تلاش میں ہیں، جو غالباً “Shakil’s Photography” کی جانب سے لی گئی ہے۔ ٹیم کے مطابق اگر فوٹوگرافر یا اس سے وابستہ کوئی شخص یہ پیغام دیکھے تو ان سے رابطہ کیا جائے تاکہ شندور فیسٹیول کی تشہیر کے لیے تصویر کے استعمال کی باقاعدہ اجازت حاصل کی جا سکے۔
سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا:
“ہم اس تصویر کے درست مالک کی تلاش میں ہیں۔ اگر فوٹوگرافر یا Shakil’s Photography سے وابستہ کوئی فرد یہ پوسٹ دیکھے تو براہِ کرم ہم سے ان باکس میں رابطہ کریں۔ ہم شندور فیسٹیول کی تشہیری مہم کے لیے اس تصویر کے استعمال کی اجازت لینا چاہتے ہیں۔”
ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد کے مطابق چترال میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، کیونکہ ماضی میں اکثر تصاویر اور تخلیقی مواد بغیر اجازت استعمال کیے جاتے رہے ہیں، جبکہ اصل تخلیق کاروں کو نہ تو کریڈٹ دیا جاتا تھا اور نہ ہی ان سے اجازت لی جاتی تھی۔
مقامی صحافیوں، فوٹوگرافروں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف تخلیقی حقوق کے احترام کو فروغ ملے گا بلکہ نوجوان فوٹوگرافروں اور کانٹینٹ کریئیٹرز کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل دور میں تصاویر، ویڈیوز اور دیگر تخلیقی مواد کے حقوق کا احترام ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرے کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور چترال میں اس روایت کا آغاز مستقبل کے لیے ایک مثبت مثال بن سکتا ہے۔
