کاوشات اقبال

دنیا کی مشکل ترین کام تدریس ہے۔۔کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔محمد اقبال شاکر

استاد تعلیمی ڈھانچے کا ایک اہم عنصر ہے استاد وہ ہستی ہے جس کے ذریعے سے تمام تعلیمی مواد طالب علم تک پہنچایا جاتا ہے معلمی کا شعبہ پیغمبری ہے حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم دنیا کے سب سے بڑے معلم تھے۔

پہلے زمانے میں طلبہ اپنے اساتذہ کرام سے صرف علم ہی نہیں سیکھتے تھے بلکہ ان کی صحبت میں رہ کر اپنے باطن کی اصلاح،تقوی،دیانت اور امانت کی تربیت بھی حاصل کرتے تھے جس سے ان میں اپنی اساتذہ سے پہنچی ہوٸی باتیں آگے پہنچانے کی لگن پیدا ہوتی تھی لیکن جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا اس تعلق میں کمی آتی رہی اس کمی کو دور کرنے اور استاد شاگرد کا تعلق بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔۔

مطالعہ ہر انسان کیلے بالخصوص ایک استاد کیلے ایک بہت بڑی خوبی ہے اور تمام خویوں کی جڑ ہے استاد کی اصل ذمہ داری معلومات اور علم احسن زبان سے شاگردوں میں تقسیم کرنا ہے جو کچھ ان کو منتقل کرنا ہے ان سب کی حصول کا زریعہ مطالعہ ہے تدریسی مطالعہ کمزور اور پھر توقع رکھنا اور دعوی کرنا کہ میری تعلیم کامل ہے شاید سب سے بڑی دھوکہ دھی ہے تکمیل مطالعہ تکمیل علم کیلے اور مغیار تعلیم کو بلند کرنے کی سب بڑا زریعہ ہے سبق پڑھانے سے پہلے اس سبق کا اچھی مطالعہ ضروری ہے اس لٸے تدریس امانت ہے اس میں معمولی کوتاہی بھی خیانت ہے قوم اور ادارہ آپ پر اعتماد کیا ہے تو درس گاہ میں داخل ہونے سے پہلے تدریس دینے کیلے پوری تیاری کرکے آنا ہے کہ کمزور سے کمزور بچے کو کس طرح اور کس گُر سے سمجھانا ہے خود سمجھنا ایک کمال ہے لیکن دوسروں کو سمجھانا اس کے ذہین میں آنا اور اس کی زبان میں بولنا یہ اعلی کمال ہے جو محنت ،شوق اور لگن سے حاصل ہوا کرتا ہے

استاد کو یہ سوچنا چاہٸے کہ طلبہ کی آنکھیں ہمارے بھروسے سے سو چکی ہیں اور طالب علم نے سوچا اور سمجھا ہے کہ استاد سے کل پوچھ لیں گے اب استاد بھی کل ان کی تسکین اور تسلی نہیں کر سکے گا تو ان کو علم کس طرح آٸے گا ؟؟

پانی کا ایک قطرہ ایک جگہ لگاتار ٹپکتا رہے تو آخر کار ایک مضبوط چٹان میں بھی سوراخ کردیتا ہے لیکن جلد باز لہریں زور دار شور سے آتی ہے اور چٹان سے ٹکرا کر گزر جاتی ہیں اور ان کا نشان تک پیچھے نہیں رہتا۔۔

جی ہاں تدریس بلاشبہ ایک انتہاٸی مشکل،صبر آزما،محنت طلب اور ذمہ داری طلب کام ہے یہ مختلف مزاجوں،مختلف ذہینوں کے حامل انسانوں کی کردار سازی اور ذہینی تربیت کا ایک پچیدہ عمل ہے ایک استاد کو بچے کی فطری صلاحیتوں کو ابھارنا اور ان سے کام ہی لینا ہی نہیں بلکہ ان کی شعوری اور سماجی سرگرمیاں ہیں جو نوعمروں کو سماجی،ثقافتی،تمدنی،اخلاقی اور معاشی زندگی کا اہل بنانے کیلے بھر پور کام انجام دینی چاٸیے۔یہ استاد کی کمال اور ان کا فن ہے کہ وہ کس طرح اور کس طریقے سے نہایت ترتیب اور منطقی انداز سے پیش کرے جس کوبہتریں طریقہ تدریس کا نام دیا جاتا ہے ۔ایسی تدریس جس میں جابرانہ ماحول،ضرورت سے زیادہ بولنا اور نفس مضموں کو مشکل بنا کر پیش کرنا وغیرہ تدریسی عمل کو بے مقصد بناتی ہے بچوں کو وہی کچھ پڑھاٸی جاۓ جو ان کی فطرت اور صلاحیت کے مطابق ہو اور مقصدیت کا حصول بھی اس میں شامل ہو پڑھانے کا عمل آسان اور عام فہم ہو زبان صاف اور شگفتہ ہو تاکہ بچوں کو اسانی کے ساتھ سمجھ آسکے جو اچھے تدریس اور اچھے استاد کی نشانیاں ہیں

انسان کو تمدنی زندگی کا اہل بنانے کیلے تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے اس لٸے تعلیم کے ماحول میں تربیت کے پہلو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تربیت سے مراد عموما عام زندگی سے سیکھنے کیلےجانے جاتے ہیں لیکن تعلیمی نظام میں فرد کو معاشرے کا مہذب فرد اور شہری بننے کیلے جن مراحل سے گزنا پڑتا ہے ان کو تربیت کا نام دیا جاتا ہے اس لٸے پڑھانے کے عمل کے ساتھ بچے کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ دنیا کی مشکل تریں کام تدریس ہے کیونکہ اس شعبے سے وابسطہ مال جب ایک بار خراب نکلے تو اس کی متبادل،مرمت یا دوبارہ بنانا دنیا کی کسی بھی کارخانے کی بس کی بات ہے۔۔۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO