
ابراہیم معاہدے کی توسیع اور پاکستان کا امتحان
لنزی گراہم کا مطالبہ اور اس کے پس پردہ حقائق
امریکی سینیٹر لنزی گراہم نے ایکس پر لکھا کہ سعودی عرب، قطر اور پاکستان کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا “خطے اور دنیا کے لیے انتہائی تبدیلی آفریں” ثابت ہوگا اور انہوں نے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو “نہایت ذہانت بھرا قدم” قرار دیا۔ لیکن یہ بیانات محض جذباتی خواہشات نہیں ہیں — ان کے پیچھے ایک پوری سفارتی حکمتِ عملی کار فرما ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔
پس منظر یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی مذاکرات کو ابراہیم معاہدوں کی توسیع سے جوڑنے کی تجویز پیش کی ہے — یعنی ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو مسلم ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات سے مشروط کیا جائے۔ یہ وہی ابراہیم معاہدے ہیں جن کے تحت 2020 میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا، اور بعد ازاں مراکش اور سوڈان بھی شامل ہوئے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ وہ “لازمی طور پر تمام ممالک سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر ابراہیم معاہدوں پر دستخط کریں۔”
ہفتے کو ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس کال میں ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر اور پاکستان کے رہنماؤں سے براہِ راست اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس درخواست پر ان رہنماؤں کی جانب سے مکمل خاموشی چھا گئی، جس پر ٹرمپ نے مذاقاً پوچھا کہ “کیا آپ ابھی بھی وہاں موجود ہیں؟” یہ خاموشی محض ادبی تکلف نہیں تھی، بلکہ ان ممالک کی اندرونی سیاسی پیچیدگیوں کا آئینہ دار تھی۔
گراہم اور ٹرمپ کا یہ مطالبہ کئی حکمتِ عملی مقاصد پر مبنی ہے۔ پہلا مقصد ایران کے گرد ایک وسیع تر محاصرے کی فضا بنانا ہے۔ ٹرمپ کی اس تجویز کا اصل مقصد ابراہیم معاہدوں کو چند انفرادی سمجھوتوں سے آگے بڑھا کر ایک وسیع و پیچیدہ سفارتی ڈھانچے میں تبدیل کرنا ہے جس میں بڑے مسلم اور عرب ممالک شامل ہوں۔ دوسرا مقصد امریکی داخلی سیاست میں اسرائیل نواز حلقوں کو مطمئن کرنا ہے — لنزی گراہم اس حوالے سے ری پبلکن پارٹی کے اندر اسرائیل کے سب سے بڑے وکیل سمجھے جاتے ہیں۔
ایران کے بارے میں امریکی تھنک ٹینک کے ماہر علی ویز کا کہنا ہے کہ “ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کو ابراہیم معاہدوں کے سیکوئل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ یہ اسرائیل کے لیے اور خطے کے لیے سودمند دکھے، لیکن وہ ایک خیالی دنیا سے دوسری خیالی دنیا کی طرف جا رہے ہیں۔”
سعودی عرب کا موقف کلیدی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ریاض کی رضامندی یا انکار پوری مسلم دنیا کی سمت متعین کر سکتا ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ “1967 کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوں گے۔” سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اگرچہ بعض مواقع پر قربت کے اشارے دیے ہیں، لیکن غزہ کی جنگ کے بعد ریاض کا موقف مزید سخت ہو گیا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال کئی جہتوں سے نہایت پیچیدہ ہے۔ پاکستانی حکام نے گراہم کے بیانات کو ایک “پرانی روایت” پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا موقف واضح ہے جو قائدِ اعظم کے زمانے سے چلا آ رہا ہے: “ہماری پوزیشن اسرائیل کے بارے میں بالکل واضح ہے۔ فلسطین کے بارے میں بھی واضح ہے — ایک علیحدہ خود مختار ریاست۔” پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بھی واضح کیا کہ ابراہیم معاہدوں میں شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اور پاکستان کی فلسطین پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
گراہم نے تاہم محض ترغیب پر اکتفا نہیں کیا — انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب اور دیگر ممالک ابراہیم معاہدوں میں شامل نہ ہوئے تو اس کے امریکہ کے ساتھ مستقبل کے تعلقات پر “سنگین اثرات” مرتب ہوں گے۔ پاکستان کے لیے یہ دھمکی خالی نہیں کیونکہ اسلام آباد بیک وقت آئی ایم ایف کے پروگرام، امریکی امداد، اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے واشنگٹن پر انحصار کرتا ہے۔
البتہ پاکستان کی داخلی سیاسی حقیقت اسے کسی بھی حکومت کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا تقریباً ناممکن بنا دیتی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان ابراہیم معاہدوں کو قبول کرتا ہے تو اس سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان ایک قابض قوت کے خلاف حق خودارادیت کا مطالبہ کرتے ہوئے دوسری جگہ ایسی ہی صورت سے سمجھوتہ کرنے کا ملزم بن جائے گا۔
مزید یہ کہ پاکستان کی آبادی کا بھاری اکثریتی حصہ فلسطینیوں کے ساتھ گہری مذہبی اور جذباتی وابستگی رکھتا ہے، اور کوئی بھی سیاسی جماعت اس جذبے کو نظرانداز کر کے اقتدار میں نہیں رہ سکتی۔
بڑی تصویر یہ ہے کہ یہ پوری کوشش درحقیقت مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کو ازسرِنو تشکیل دینے کی کوشش ہے جس میں ایران کو تنہا کرنا، اسرائیل کو مستقل طور پر تسلیم شدہ بنانا، اور فلسطینی مسئلے کو حاشیے پر ڈھکیلنا شامل ہے۔ اگر ابراہیم معاہدوں کا یہ توسیعی ڈھانچہ وجود میں آ جائے تو یہ خطے میں انفراسٹرکچر، سیاحت، توانائی، ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبوں میں انضمام کی راہ کھول سکتا ہے اور علاقائی سفارتی توازن کو یکسر بدل سکتا ہے۔
لیکن جب تک غزہ میں خون بہ رہا ہے، مغربی کنارے پر اسرائیلی بستیاں پھیل رہی ہیں، اور فلسطینی ریاست کا کوئی ٹھوس وعدہ موجود نہیں — سعودی عرب، قطر اور دیگر ممالک میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حمایت انتہائی کمزور رہے گی۔
لنزی گراہم اور ٹرمپ کا یہ مطالبہ ایک بہت بڑے سفارتی خواب کا اظہار ہے جسے عملی شکل دینے کے لیے بنیادی حقائق ابھی تک سازگار نہیں ہیں۔ پاکستان کا موقف فی الحال واضح اور غیر متزلزل ہے، اور اس کے پیچھے نہ صرف اصولی بلکہ زمینی سیاسی مجبوریاں بھی کارفرما ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ واشنگٹن کیا چاہتا ہے — سوال یہ ہے کہ اسلام آباد، ریاض اور دوحہ اپنی عوام کو کیا جواب دیں گے.
