
عینہ ایک چھوٹے سے شہر میں پیدا ہوئی۔ دادی نے اسے گود میں لیتے ہی کہا تھا کہ اس کی آنکھوں میں پوری دنیا کا عکس ہے — اور یہ بات بالکل سچ تھی۔ عینہ کی آنکھیں ہمیشہ کسی خواب سے روشن رہتی تھیں۔
وہ چھت پر لیٹ کر ستارے گنتی، بارش میں ننگے پاؤں بھاگتی، پرانی گھڑیاں کھول کر خود ٹھیک کرتی۔ اسکول میں سب سے پہلے ہاتھ اٹھاتی — سوال پوچھنا اس کی فطرت تھی۔
ایک دن استاد نے پوچھا کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے — عینہ نے کہا: “میں کہانیاں لکھوں گی۔” کلاس ہنس پڑی۔ استاد نے کہا — “کہانیوں سے گھر نہیں چلتا، ڈاکٹر بنو۔”
عینہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔ اس رات اپنی ڈائری میں لکھا:
“کیا میرے خواب غلط ہیں؟
جیسے جیسے عینہ بڑی ہوتی گئی، گھر میں ایک نئی زبان بولی جانے لگی۔ ہر طرف سے ایک ہی بات سنائی دیتی:
“سنیا کے ۹۷ نمبر آئے ہیں۔” — “ڈاکٹر بنو گی تو سر فخر سے اٹھے گا۔” — “آج کل کی لڑکیاں کتنا کچھ کر رہی ہیں، تم کیا کر رہی ہو؟”
ہر کھانے کی میز پر، ہر رشتے دار کی ملاقات میں، ہر محفل میں — یہی جملے، یہی نظریں، یہی موازنہ۔
ایک دن چاچی نے سب کے سامنے پوچھا — “عینہ، کیا بنو گی؟” ابو نے عینہ کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا — “ڈاکٹر بنے گی، ہمارا خواب ہے۔”
“ہمارا خواب” — یہ دو لفظ عینہ کے دل میں اتر گئے۔ کسی نے اس سے نہیں پوچھا کہ اس کا اپنا خواب کیا ہے۔
“ابو نے کہا ‘ہمارا خواب’ — میرا خواب کب سے ان کا ہو گیا؟
میٹرک کے امتحان آئے تو عینہ نے ایک ایک چیز ترک کر دی — ڈائری بند ہوئی، رنگ الماری میں بند ہوئے، چھت پر جانا بند ہوا، ستاروں سے باتیں بند ہوئیں۔ صرف کتابیں رہیں — اور ڈر۔
وہ رات کو تین بجے تک پڑھتی۔ آنکھیں جلتیں، سر درد کرتا — لیکن وہ رکتی نہیں تھی۔ ماں کبھی کہتیں “سو جاؤ بیٹا” — عینہ مسکراتی اور کہتی “بس تھوڑا سا اور”۔
لیکن وہ مسکراہٹ اب اندر سے خالی تھی۔
نتیجہ آیا — ۷۲ فیصد۔ گھر میں ایسا سناٹا چھایا جیسے کوئی مر گیا ہو۔ ابو نے کچھ نہیں بولا، بس اخبار اٹھایا اور کمرے میں چلے گئے — اور وہ خاموشی ہزار الفاظ سے بھاری تھی۔
امی نے آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا: “اتنی محنت کی، پھر بھی یہ نتیجہ؟” رشتے داروں کے فون آئے — طعنے آئے — موازنے آئے۔
عینہ ہر بار مسکراتی رہی، ہر بار کہتی رہی “اگلی بار بہتر کروں گی” — لیکن رات کو جب دروازہ بند ہوتا تو وہ دیوار سے لگ کر بغیر آواز کے روتی رہتی
انٹری ٹیسٹ میں بھی نمبر کم آئے۔ ابو نے ایک دن کھانے کی میز پر کہا: “تمہاری ہم جماعت ثمرہ کا میڈیکل میں داخلہ ہو گیا۔” بس اتنا — لیکن اس ایک جملے میں چھپا ہوا پیغام عینہ سمجھ گئی:
“تم ناکام ہو۔”
سوشل میڈیا پر دوستوں کی تصویریں آتیں — نئے یونیفارم، چمکتے چہرے — عینہ فون بند کر دیتی اور چھت پر منہ چھپا لیتی۔
پہلے وہ خیالات آہستہ آتے تھے — اب چیختے تھے: “میں نے سب کچھ دیا، پھر بھی ناکام رہی۔” “اگر ڈاکٹر نہیں بن سکتی تو میں کچھ نہیں۔” “سب میرے بغیر بہتر ہوں گے۔”
ایک دن امی نے پوچھا “عینہ، ٹھیک ہو؟” — عینہ نے مسکرا کر کہا “ہاں امی بالکل ٹھیک ہوں۔” امی آگے بڑھ گئیں۔ کسی نے نہیں دیکھا کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے ایک لڑکی ڈوب رہی تھی۔
دسمبر کی سرد رات — آسمان صاف تھا، وہی ستارے چمک رہے تھے جن سے عینہ کبھی باتیں کرتی تھی — گھر میں سب سو گئے تھے۔
عینہ کے کمرے میں اندھیرا تھا۔ میز پر کتابیں تھیں، الماری پر وہ پرانی تصویر تھی جو اس نے سات سال کی عمر میں بنائی تھی — رنگین پہاڑ، اڑتی چڑیاں، اور ایک چھوٹی سی لڑکی جو ہاتھ پھیلائے آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی۔
عینہ نے وہ تصویر دیر تک دیکھی۔ پھر کاغذ اٹھایا — ہاتھ کانپ رہے تھے — لیکن قلم چلتا رہا:
“امی — آپ نے مجھے بہت پیار کیا۔ لیکن میں وہ نہ بن سکی جو آپ چاہتی تھیں۔ میں نے بہت کوشش کی — سچ میں بہت۔ لیکن میرے اندر کچھ ٹوٹ گیا ہے جو جڑتا نہیں۔
ابو — کاش آپ نے ایک بار پوچھا ہوتا کہ میں خوش ہوں یا نہیں۔ بس ایک بار۔
مجھے معاف کر دیں۔ میں تھک گئی ہوں۔”
عینہ اٹھی — کھڑکی کے پاس گئی — آخری بار ستاروں کو دیکھا — اور آنکھیں بند کر لیں۔
صبح امی اٹھیں، چائے بنائی، عینہ کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا — کوئی جواب نہیں آیا۔ دروازہ کھولا — اور ان کے ہاتھ سے چائے کا کپ گر گیا۔
ہسپتال کی سفید دیواریں، مشینوں کی آوازیں، ڈاکٹروں کی بھاگ دوڑ — ابو باہر گلیارے میں دیوار کے سہارے کھڑے تھے۔ وہ مضبوط آدمی جس نے کبھی کمزوری نہیں دکھائی تھی — آج ٹوٹ گیا تھا۔
ڈاکٹر نے کہا: “ہم نے پوری کوشش کی — لیکن بہت دیر ہو گئی تھی۔”
ابو کے گھٹنے کمزور ہوئے — وہ دیوار کے سہارے بیٹھ گئے — اور پہلی بار ان کی آنکھوں سے آنسو نہیں، چیخ نکلی — جو گلیارے میں گونجتی رہی۔
امی نے عینہ کے بال سنوارے — جیسے ہمیشہ کرتی تھیں — اور کانپتے ہونٹوں سے بولیں:
“بیٹا — میں نے کبھی نہیں پوچھا کہ تم خوش ہو یا نہیں — میں نے ہمیشہ نمبر پوچھے، نتیجہ پوچھا — لیکن تم کیسی ہو — یہ کبھی نہیں پوچھا — معاف کر دو امی کو —”
میز پر رکھے خط میں جب یہ لفظ پڑھے: “کاش آپ نے ایک بار پوچھا ہوتا” — تو وہ اس طرح ٹوٹیں جیسے کوئی چیز ایک بار ٹوٹے تو پھر کبھی نہیں جڑتی۔
گھر واپس آئے — خالی گھر۔ ابو عینہ کے کمرے میں گئے۔ الماری پر وہی پرانی تصویر تھی۔ دراز میں ڈائری پڑی تھی۔ ابو نے پہلا صفحہ پڑھا:
“کیا میرے خواب غلط ہیں؟”
آخری صفحہ پڑھا:
“آج بہت تھکی ہوئی ہوں — نہ جسم سے، دل سے — کاش کوئی پوچھتا — بس پوچھتا — کہ عینہ، تم ٹھیک ہو؟”
ابو نے ڈائری بند کی — باہر ستارے چمک رہے تھے — اور انہوں نے آسمان کی طرف دیکھ کر آہستہ سے کہا:
“بیٹا — ایک بار — بس ایک بار اور آ جاتی — ابو سن لیتے اس بار —”
لیکن آسمان خاموش رہا۔

🎁 روزانہ مفت پوائنٹس اور انعامات!
خبریں پڑھیں، کوئز کھیلیں اور انعامات جیتیں۔ اپنے پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے ریوارڈ پورٹل پر جائیں۔
اپنا انعام حاصل کریں ➔