آئینہ در آئینہ

کیا سوال پوچھنا گناہ ہے؟

تحریر: ہدایت الحق

انسانی تاریخ میں ترقی کا آغاز ہمیشہ ایک سوال سے ہوا ہے۔ جب انسان نے پوچھا کہ زمین گول کیوں ہے، تو علم پیدا ہوا۔ جب اس نے پوچھا کہ حکومت کیوں اور کس کے لیے، تو جمہوریت پیدا ہوئی۔ اور جب اس نے پوچھا کہ میرے حقوق کیا ہیں، تو آئین وجود میں آیا۔ سوال انسانی شعور کی سب سے بڑی علامت ہے، اور جو معاشرہ سوال کو دبا دے وہ ترقی کا دروازہ خود اپنے ہاتھوں سے بند کر لیتا ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں ایک عجیب صورتحال جنم لے رہی ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان جب اپنے سیاسی نمائندوں سے سوال پوچھتا ہے تو جواب نہیں ملتا۔ جب وہ قلم اٹھاتا ہے اور اپنی رائے لکھتا ہے تو دلیل کی بجائے گالم گلوچ سامنے آتی ہے۔ جب وہ اپنے حق کی بات کرتا ہے تو اسے دشمن اور فتنہ پرداز قرار دیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ جمہوری اقدار کے سراسر منافی بھی ہے۔

پاکستان کا آئین اپنے آرٹیکل 19 میں ہر شہری کو آزادی اظہار کا بنیادی حق دیتا ہے۔ یہ حق کسی کی مہربانی یا عطا نہیں، بلکہ ریاست کا اپنے شہریوں سے وہ وعدہ ہے جو تحریری طور پر آئین میں درج ہے۔ جب کوئی نوجوان کسی سیاستدان سے پوچھتا ہے کہ آپ نے اس علاقے کے لیے کیا کیا، آپ کا ہم سے کیا تعلق ہے، آپ کے پاس ہمارے مسائل کا کیا حل ہے، تو وہ کوئی جرم نہیں کر رہا۔ وہ صرف اپنا آئینی حق استعمال کر رہا ہے۔

جمہوریت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ حکمران عوام کے سامنے جوابدہ ہوں، نہ کہ عوام حکمرانوں کے سامنے۔ دنیا کی مضبوط جمہوریتوں میں یہی روایت ہے کہ عوامی نمائندے اپنے ووٹروں کے سوالات کا جواب دینے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ میں ہر ہفتے وزیراعظم کو عوامی نمائندوں کے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے۔ یہی وہ روایت ہے جس نے مضبوط جمہوریتوں کو پروان چڑھایا ہے۔ ہمارے یہاں بھی آئین یہی تقاضا کرتا ہے لیکن عملی صورتحال مختلف ہے۔

نوجوان کا سوال پوچھنا دراصل اس بات کی علامت ہے کہ معاشرے میں شعور بیدار ہو رہا ہے۔ وہ نوجوان جو آج سوال پوچھ رہا ہے، کل اس معاشرے کی قیادت کرے گا۔ وہ نوجوان جو آج قلم اٹھا رہا ہے، کل اس قوم کا مستقبل لکھے گا۔ اسے خاموش کرانا دراصل اس قوم کے مستقبل کو خاموش کرانا ہے۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ سوال پوچھنا اور تنقید کرنا دشمنی نہیں ہوتی۔ ایک باپ جب اپنے بیٹے سے پوچھتا ہے کہ تم نے آج کیا سیکھا تو یہ دشمنی نہیں، محبت ہے۔ ایک استاد جب طالب علم سے سوال کرتا ہے تو یہ دشمنی نہیں، تعلیم ہے۔ اسی طرح جب عوام اپنے نمائندے سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے ہمارے لیے کیا کیا تو یہ دشمنی نہیں، جمہوریت ہے۔ جو شخص اس فرق کو نہ سمجھے وہ جمہوری سیاست کے لیے موزوں نہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی نوجوان قلم اٹھاتا ہے اور کوئی سیاسی سوال پوچھتا ہے تو اسے فوری طور پر کسی نہ کسی خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ کوئی اسے سیاسی مخالف قرار دیتا ہے، کوئی اسے کسی پارٹی کا ایجنٹ کہتا ہے، اور کوئی اس کی نیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ لیکن کوئی اس کے سوال کا جواب نہیں دیتا۔ یہ رویہ نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ جواب دینے والے کے پاس دینے کو کچھ نہیں۔

علامہ اقبال نے کہا تھا:

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

یعنی سچ بولنے والے کو ہمیشہ اپنوں اور غیروں دونوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ زہر کو شہد نہیں کہتا۔ آج کا باشعور نوجوان بھی یہی کر رہا ہے، وہ سچ بول رہا ہے، سوال پوچھ رہا ہے اور کسی دباؤ میں آنے کو تیار نہیں۔

آخر میں صرف اتنا کہنا ہے کہ جو سیاستدان یا کارکن سوال کا جواب دینے کی بجائے گالم گلوچ پر اتر آئے، وہ خود سب سے بڑا ثبوت پیش کر دیتا ہے کہ اس کے پاس دلیل نہیں۔ اور جس کے پاس دلیل نہیں، اسے عوام کی نمائندگی کا حق بھی نہیں۔ باشعور نوجوان سوال پوچھتا رہے گا، قلم اٹھاتا رہے گا، اور اپنی آواز بلند کرتا رہے گا کیونکہ یہی اس کا آئینی حق ہے اور یہی اس کی ذمہ داری بھی۔

 

🎁 روزانہ مفت پوائنٹس اور انعامات!

خبریں پڑھیں، کوئز کھیلیں اور انعامات جیتیں۔ اپنے پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے ہمارے ریوارڈ پورٹل پر جائیں۔

اپنا انعام حاصل کریں ➔
زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO