آئینہ در آئینہ

نمائندگی کا بحران: عوامی نمائندے کی عدم موجودگی اور چترال کی ترقی کا جمود

تحریر: ہدایت الحق

کسی بھی پسماندہ اور جغرافیائی طور پر کٹے ہوئے خطے کے لیے وفاق کے ایوانوں میں ایک جاندار اور متحرک آواز کا ہونا کوئی تعیش نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے، چترال اس وقت ایک ایسے بدترین سیاسی اور آئینی خلا سے گزر رہا ہے جس کی قیمت یہاں کی دھیمی زندگی اور سسکتا ہوا انفراسٹرکچر چکا رہا ہے۔ حلقہ این اے-1 (اپراور لوئر چترال) سے منتخب ایم این اے کی قانونی معاملات کے باعث جیل منتقلی نے صرف ایک سیاسی حلقے کو متاثر نہیں کیا، بلکہ عملاً چترال کے لاکھوں عوام کو اسلام آباد کے اقتدار کے گلیاروں میں ایک آئینی آواز سے محروم کر دیا ہے۔ وفاقی سیاست کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جو خطہ وفاقی ایوانوں میں نظر نہیں آتا، بجٹ کی کتابوں میں اس کا حصہ بھی نظر نہیں آتا۔ جب تک قومی اسمبلی کے فلور پر کوئی نمائندہ اپنے ضلع کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے فنڈز کے لیے ڈٹ کر وکالت نہیں کرتا، تب تک بیوروکریسی کی میزوں پر پڑی فائلیں صرف دھول چاٹتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج لواری ٹنل کے رسائی کے راستوں کی توسیع ہو، بونی روڈ کی ناگفتہ بہ حالت ہو، یا چترال کے طول و عرض میں بجلی کے گرڈ اسٹیشنز کا قیام، چترال کے تمام میگا پراجیکٹس وفاقی فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث التوا کا شکار ہیں کیونکہ اسلام آباد میں چترال کا مقدمہ لڑنے والا کوئی وجود ہی نہیں۔

یہ المیہ صرف سڑکوں اور پلوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ چترال اس وقت گلوبل وارمنگ اور گلیشیئرز پھٹنے (GLOF) جیسے ہولناک موسمیاتی خطرات کی پہلی صف میں کھڑا ہے، جہاں ہر سال سیلاب بستیوں کی بستیاں اجاڑ دیتے ہیں۔ ان آفات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی ماحولیاتی فنڈز اور وفاقی ریلیف پیکجز کا حصول ایک جارحانہ سیاسی وکالت کا تقاضا کرتا ہے، جس سے چترال اس وقت یکسر محروم ہے۔ اسی طرح، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں جہاں چترال کا پڑھا لکھا نوجوان تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ کی ناقص ترین سروس کی وجہ سے ڈیجیٹل دنیا سے کٹ کر رہ گیا ہے، وفاقی وزارتِ آئی ٹی یا یونیورسل سروس فنڈ (USF) کے دروازے پر دستک دینے والا کوئی نہیں۔ اس سنگین نمائندگی کے بحران نے چترال کے بنیادی حقوق کی جنگ کو اب پوری طرح سے مقامی عوامی تحریکوں اور بیدار مغز سول سوسائٹی کے کندھوں پر ڈال دیا ہے۔ مقامی سطح پر کام کرنے والے مخلص سماجی کارکن اور علاقائی فورمز اپنے تئیں چترال کے جنگلات، قیمتی معدنیات، اور گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے چترال کو بجلی کی منصفانہ فراہمی جیسے دیرینہ مسائل پر آواز تو اٹھا رہے ہیں، لیکن ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ مقامی سطح پر اٹھنے والی یہ احتجاجی آوازیں ضلع کی حد تک تو انتظامیہ کو متوجہ کر سکتی ہیں، لیکن وفاقی بجٹ کے بل پر ووٹ دینے یا قومی اسمبلی کے فلور پر وفاقی وزراء کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا اختیار صرف اس آئینی نمائندے کے پاس ہوتا ہے جو اس وقت قید کے باعث وہاں موجود نہیں ہے۔

چترال پاکستان کا ایک انتہائی پرامن، باشعور اور سٹریٹجک لحاظ سے اہم ترین سرحدی ضلع ہے، لیکن یہاں کے ووٹرز اس وقت ایک تذبذب کی حالت میں ہیں کیونکہ ان کا مینڈیٹ ایک طویل قانونی الجھن کی نذر ہو چکا ہے۔ ریاست، الیکشن کمیشن اور مقتدر حلقوں کو یہ بات گہرائی سے سمجھنی ہوگی کہ کسی بھی سیاسی یا قانونی تنازعے کے نتیجے میں اگر ایک عوامی نمائندہ اسمبلی سے باہر ہے، تو اس کی سزا چترال کے ان معصوم شہریوں کو کیوں دی جا رہی ہے جو بنیادی سفری، تعلیمی اور صحت کی سہولیات سے بھی محروم ہو رہے ہیں؟ چترال کے عوام کسی کے سیاسی سرمائے کی جنگ میں مزید پسماندگی کا شکار نہیں ہو سکتے۔ اس سے پہلے کہ چترال کا سڑکوں کا نیٹ ورک، تعلیمی مستقبل اور معاشی ڈھانچہ مستقل طور پر پسماندگی کے گڑھے میں گر جائے، ریاست کو اس نمائندگی کے قحط کا کوئی فوری، آئینی اور متبادل حل نکالنا ہوگا، تاکہ چترال کو اس کا جائز وفاقی حق مل سکے۔

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO