
کسی بھی پسماندہ اور جغرافیائی طور پر کٹھن خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی کا اصل محرک اس کے سالانہ ترقیاتی پروگرام اور وفاقی و صوبائی بجٹ میں فنڈز کی منصفانہ تقسیم ہوتی ہے۔ چترال، جو اپنے وسیع و عریض رقبے، شدید موسمی تغیرات اور قدرتی آفات کے لحاظ سے ایک انتہائی حساس زون میں واقع ہے، ہمیشہ سے روایتی بجٹ سازی کے بجائے “خصوصی ترقیاتی پیکیج” کا متقاضی رہا ہے۔ اگر موجودہ مالیاتی بجٹ کا ایک گہرائی سے، شواہد اور معاشی حقائق پر مبنی جائزہ لیا جائے، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مختص کردہ فنڈز چترال کی بنیادی محرومیوں کو دور کرنے اور دیرپا ترقی کی بنیاد رکھنے کے لیے کسی بھی صورت کافی نہیں ہیں۔ یہ بجٹ محض ایک “روایتی بقا کا بجٹ” دکھائی دیتا ہے، جو موجودہ نظام کو کسی حد تک چلانے کے لیے تو مددگار ہو سکتا ہے، لیکن خطے کو معاشی خود انحصاری کی طرف لے جانے کی صلاحیت سے عاری ہے۔
اگر ہم شواہد کی بنیاد پر مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کا تجزیہ کریں، تو چترال کا سب سے بڑا معاشی انجن اس کا سڑکوں کا نظام ہے جو لواری ٹنل کے ذریعے ملک کے دیگر حصوں سے جڑتا ہے۔ تاہم، وفاقی اور صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں چترال کی اندرونی شریانوں، بالخصوص چترال تا شندور روڈ اور چترال تا گرم چشمہ روڈ جیسے بڑے منصوبوں کے لیے فنڈز کا سالانہ اجراء سست روی کا شکار رہا ہے۔ معاشی اصولوں کے مطابق جب کسی طویل مدتی منصوبے کو اس کی مطلوبہ سالانہ ضرورت سے کم فنڈز دیے جاتے ہیں، تو افراطِ زر اور تعمیراتی مواد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث منصوبے کی کل لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ چترال کے موجودہ بجٹ میں سڑکوں کی تعمیر اور سیلاب سے تباہ شدہ حفاظتی بندوں کی بحالی کے لیے جو رقم رکھی گئی ہے، وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناسب سے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے، جس کے نتیجے میں ترقیاتی کاموں کی رفتار سست اور لاگت کا بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
دوسرا اہم ترین پہلو عوامی شعبے کی سرمایہ کاری، یعنی صحت، تعلیم اور ماحولیاتی تحفظ کا ہے۔ چترال موسمیاتی تبدیلیوں اور گلیشیئر پگھلنے کے عمل کی زد میں ہے، جس کی وجہ سے ہر سال اربوں روپے کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو جاتا ہے۔ بجٹ میں آفات سے نمٹنے کے انتظام اور مٹی کے کٹاؤ کو روکنے کے لیے کوئی ٹھوس اور خطیر فنڈز مختص نہیں کیے گئے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ترقیاتی کاموں پر جو بھی قلیل رقم خرچ کریں گے، وہ اگلی کسی قدرتی آفت کی نذر ہونے کا خطرہ رہے گی۔ اسی طرح، صحت عامہ اور اعلیٰ تعلیم میں تحقیق و جدید ٹیکنالوجی کے لیے فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث چترال کا انسانی سرمایہ دیگر ترقی یافتہ اضلاع کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔ سیاحت جو چترال کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتی ہے، بجٹ میں اس کے لیے کوئی جامع بنیادی ڈھانچہ فنڈ یا تشہیر کی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ موجودہ فنڈنگ کا طریقہ کار چترال کو پسماندگی کے چکر سے نکالنے کے لیے ناکافی ہے۔ چترال کو اس وقت محض بجٹ کی روایتی لکیر پیٹنے کی نہیں، بلکہ ایک ایسے مالیاتی فریم ورک کی ضرورت ہے جو اس کے جغرافیائی رقبے، آفات کے خطرات اور محرومیوں کے اشاریے کے عین مطابق وضع کیا گیا ہو۔
تحریر: ہدایت الحق