
کرپشن، ہماری جدوجہد اور ڈپٹی کمشنر کا کردار..وجیہ الدین امیر جے آئی چترال لوئر
جماعت اسلامی چترال طویل عرصے سے ضلع میں جاری بدعنوانی، کرپشن اور نامکمل و تعطل کا شکار ترقیاتی منصوبوں کے خلاف مسلسل آواز بلند کرتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں متعدد بار جلسے، جلوس، احتجاجی مظاہرے اور دھرنے منعقد کیے گئے۔ ہماری جدوجہد کا بنیادی مقصد کسی فرد یا ادارے کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ عوام کے حقوق کا تحفظ، سرکاری وسائل کی شفاف اور درست استعمال کو یقینی بنانا اور چترال کی تعمیر و ترقی کی راہ میں حائل
رکاوٹوں کا خاتمہ تھا۔
اس جدوجہد کے دوران ہماری خوش قسمتی ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی سربراہی ایک ایسے افسر کے پاس رہی جو نہ صرف ذاتی طور پر کرپشن اور بدعنوانی سے پاک شہرت رکھتے ہیں بلکہ اپنے دائرہ اختیار اور حدود کار میں رہتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کرتے رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک دیانت دار اور فرض شناس افسر کی موجودگی کسی بھی علاقے کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں۔
نامکمل منصوبے اور عوامی حقوق
ہماری جدوجہد کا ایک بڑا مطالبہ یہ تھا کہ عرصہ دراز سے تعطل کا شکار اور نامکمل ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے اور ان منصوبوں میں غفلت، کوتاہی یا مبینہ بے
ضابطگی کے ذمہ دار عناصر کا احتساب کیا جائے۔
بدقسمتی سے بعض منصوبوں کے معاملے میں متعلقہ افسران، ٹھیکہ داروں اور مبینہ طور پر بعض عوامی نمائندوں کے گٹھ جوڑ کے باعث عوامی حقوق کو بری طرح متاثر کیا جاتا رہا۔ سرکاری خزانے سے جاری ہونے والی خطیر رقوم کے باوجود منصوبے نامکمل پڑے رہے اور عوام برسوں سے ان کے ثمرات سے محروم رہے۔ اس طرزِ عمل کا راستہ روکنا چترال کی ترقی، خوشحالی اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ناگزیر تھا۔
اسی طرح بیوٹیفکیشن اور ڈیزاسٹر سے متعلق منصوبوں میں بھی مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے حوالے سے متعدد سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ہمارا مطالبہ رہا ہے کہ ان منصوبوں میں ہونے والے اخراجات، کام کے معیار اور طریقہ کار کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر کہیں بدعنوانی یا بے قاعدگی ثابت ہو تو ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز
کارروائی عمل میں لائی جائے۔
جنگلاتی رائلٹی؛ ایک دیرینہ مسئلہ
چترال کے عوام کا ایک اہم اور دیرینہ مسئلہ جنگلاتی رائلٹی بھی ہے۔ ماضی میں یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ ٹھیکہ داروں، ٹمبر مافیا کے بعض سرغنوں اور مبینہ طور پر بعض کرپٹ عناصر کی ملی بھگت کے نتیجے میں رائلٹی کی رقم اصل حقداروں، یعنی مقامی عوام، تک براہِ راست پہنچنے کے بجائے مختلف ذرائع سے ان لوگوں کی جیبوں میں چلی جاتی رہی جو اس کے حقدار نہیں تھے۔
ہماری جدوجہد کا ایک اہم مطالبہ یہ بھی تھا کہ رائلٹی کی رقم شفاف طریقے سے اصل حقداروں تک پہنچائی جائے اور اس عمل میں کسی فرد یا مافیا کو عوام کے حق پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہ دی جائے۔
الحمدللہ، آج پہلی مرتبہ ڈپٹی کمشنر چترال، محترم راؤ ہاشم عظیم، نے اس دیرینہ مسئلے کے حل کی جانب ایک قابلِ تحسین قدم اٹھاتے ہوئے رائلٹی کی رقم اصل حقداروں تک پہنچانے کا عملی انتظام کیا۔ یہ اقدام یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ اس عمل کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ بلاشبہ، ڈپٹی کمشنر صاحب نے اپنے نام کی مناسبت سے ایک عظیم اور قابلِ تقلید کارنامہ انجام دیا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ سرکاری افسر کا اصل مقام تب بنتا ہے جب وہ دفتر کی چار دیواری سے نکل کر عوام کے مسائل کو سمجھے، ان کے حقوق کا تحفظ کرے اور قانون و ضابطے کے مطابق ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی کردار ادا کرے۔ اس اعتبار سے رائلٹی کی رقم اصل حقداروں تک پہنچانا ایک مثبت اور قابلِ قدر پیش رفت ہے۔
تعطل کا شکار منصوبوں کی دوبارہ جانچ
اسی طرح ڈپٹی کمشنر صاحب نے عرصہ دراز سے تعطل کا شکار منصوبوں کی نشاندہی اور ان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ کئی منصوبوں کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنایا گیا اور متعلقہ محکموں کے ذریعے منصوبوں کو مرحلہ وار پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا عمل شروع کیا گیا۔
مزید برآں، اس حوالے سے جامع انکوائری رپورٹ مرتب کرکے متعلقہ محکموں کو مزید کارروائی کے لیے ارسال کرنا بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ ہمارا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ صرف منصوبے شروع کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کی شفاف تکمیل، معیار کی نگرانی اور عوام کو حقیقی فائدہ پہنچانا بھی ضروری ہے۔ہم نے مذکورہ انکوائری رپورٹ کی حصولی کے لیے سیکرٹری سی این ڈبلو سے درخواست کی۔ مگر افسوس کہ انھوں نے اس بابت کسی انکوائری رپورٹ کی موصولی سے صاف انکار کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر چترال کی طرف سے مذکورہ انکوائری رپورٹ رواں سال کے اپریل میں سی این ڈبلو محکمے کو بھیجی گئی تھی، مگر سیکرٹری سی این ڈبلو کچھ لوگوں کی بدعنوانیاں چھپانے کے لیے اس انکوائری رپورٹ سے عدم واقفیت کا اظہار کر رہا ہے۔ موصوف کا کہنا ہے کہ اگر ایسی کوئی رپورٹ موصول ہو بھی گئی تو ہم پبلک نہیں کرسکتے ۔ حلانکہ ان کی دونوں باتوں میں صداقت نہیں پائی جاتی۔
اصل ذمہ داروں کو بے نقاب کرنا ضروری ہے
ہماری جدوجہد کا ایک اہم مطالبہ یہ بھی ہے کہ بدعنوانی میں ملوث ان عناصر کو بے نقاب کیا جائے جو عوامی حقوق پامال کرکے سرکاری وسائل کو اپنی ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر کسی افسر، ٹھیکہ دار یا عوامی نمائندے کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہوں اور تحقیقات میں اس کی بدعنوانی ثابت ہو جائے تو قانون کے مطابق کارروائی کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اس کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے۔
عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے نام پر جاری ہونے والے ترقیاتی فنڈز کہاں خرچ ہوئے، کون سے منصوبے مکمل ہوئے، کون سے ادھورے رہ گئے اور ان کی تکمیل میں رکاوٹ کا ذمہ دار کون ہے۔ تاہم یہ سب کچھ شفاف تحقیقات، دستاویزی شواہد اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونا چاہیے، تاکہ کسی بے گناہ کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو اور اصل مجرم کسی پردے کے پیچھے چھپ نہ سکے۔
جدوجہد جاری رہے گی
ہماری جدوجہد کسی ایک افسر، ایک منصوبے یا ایک مسئلے تک محدود نہیں۔ ہمارا مقصد ایک ایسا شفاف نظام قائم کرنا ہے جس میں چترال کے عوام کے وسائل چترال ہی کی تعمیر و ترقی پر خرچ ہوں، ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہوں، سرکاری خزانے کی حفاظت ہو اور عوام کے حقوق پر کسی فرد یا گروہ کو ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہ ہو۔
ہم ڈپٹی کمشنر چترال راؤ ہاشم عظیم کے ان اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو قانون، شفافیت اور عوامی مفاد کے دائرے میں رہتے ہوئے کیے گئے ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ اگر تمام سرکاری ادارے اسی جذبۂ ذمہ داری، دیانت داری اور شفافیت کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں تو چترال کے وسائل بھی محفوظ رہ سکتے ہیں اور ترقی کی رفتار بھی کئی گنا تیز ہو سکتی ہے۔
ہماری جدوجہد کسی فرد کے خلاف نہیں، بدعنوانی کے خلاف ہے؛ کسی ادارے کے خلاف نہیں، بدعنوان نظام کے خلاف ہے؛ اور کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ چترال کے عوام کے روشن مستقبل کے لیے ہے۔ کرپشن کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی، ہم کرپشن کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اس کا تعاقب بھی کرینگے۔پیچھے ہر گز نہیں ہٹیں گے ۔یہاں تک کہ عوامی حقوق کی پامالی کے سلسلے کا مکمل خاتمہ نہ ہو۔
